30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجد کی زیارت کی فضیلت
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد رحمت بنیاد ہے : ’’بیشک مسجدیں زمین میں اللہ تَعَالٰی کے گھر ہیں اور اللہ تَعَالٰی پر حق ہے کہ وہ (اپنے گھر کی) زیارت کرنے والے کا اکرام (عزت) کرے۔‘‘ (طبرانی کبیر، ج۱۰، ص۶۱، حدیث۱۰۳۲۴ )
حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی مسجدیں وہ جگہیں ہیں جنہیں اللہ تَعَالٰی نے اپنی رحمتوں کو اتارنے کیلئے چُنا ہے۔‘‘ (فیض القدیر، ج۲، ص۵۵۲، دار الفکر)
قرض دینے اور تنگدست پر آسانی کرنے کے فضائل
چونکہ قرض دینا بھی صدقہ کی ایک قسم ہے، جیسا کہ پہلے باب میں ذکر گزرا، لہٰذا اس باب میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرض دینے اور تنگدست پر آسانی کرنے کے فضائل میں وارد ہونے والی احادیث طیبہ کا بیان ہوگا، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَقَالَ : ’’کُلُّ قَرْضٍ صَدَقَۃٌ‘‘۔[1]؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ہر قرض صدقہ ہے۔
ایک اور حدیث میں فرمایا :
عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ’’مَنْ مَنَحَ مَنِیْحَۃَ لَبَنٍ، أَوْ وَرِقٍ، أَوْ ھَدٰی زُقَاقاً کَانَ لَہُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَۃٍ‘‘۔[2]؎
حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : حضور پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو دودھ والا جانور عاریۃً دے یا چاندی قرض دے یا کسی کو راستہ بتائے تو اسے غلام آزاد کرنے کے برابرثواب ہے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : یعنی کسی کو دودھ کا جانور کچھ روز کے لئے عاریۃً دینا کہ وہ اس کا دودھ پی لے یا کسی حاجتمند کو کچھ روپیہ قرض دینا یا نابینا یا ناواقف کو راستہ بتا دینے کا ثواب غلام آزاد کرنے کے برابر ہے جب قرض دینے کا یہ ثواب ہوا تو خیرات دے دینے کا کتنا ہوگا خود سوچ لو۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کبھی قرض دینا صدقہ دینے سے بڑھ جاتا ہے کیونکہ صدقہ تو غیر حاجتمند بھی لے لیتا ہے مگر قرض ضرورت مند ہی لیتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی معمولی نیکی کا ثواب بڑے سے بڑے کام سے بڑھ جاتا ہے، پیاسے کو ایک گھونٹ پانی پلاکر اس کی جان بچالینے کا ثواب سینکڑوں روپیہ خیرات کرنے سے زیادہ ہے، اس لئے حدیث شریف میں ہے کہ قیامت میں نیکیوں کا ثواب بقدرِ عمل ملے گا۔[3]؎
صدقہ دینا دس گنا ثواب رکھتا ہے جبکہ قرض دینا اٹھارہ گُنا، حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’رَأَیْتُ لَیْلَۃَ أُسْرِيَ بِي عَلٰی بَابِ الْجَنَّۃِ مَکْتُوْباً : اَلصَّدَقَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِیَۃَ عَشَرَ فَقُلْتُ : یَا جِبْرِیْلُ مَا بَالُ
حضرت انس بن مالک ضی اللہ تَعَالٰی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں : سید المبلغین، رحمۃ للعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : شبِ معراج میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا صدقہ دس گُنا اور قرض اٹھارہ گنا (زیادہ اجر رکھتا) ہے میں نے کہا : اے جبریل! قرض
الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَۃِ؟ قَالَ : لِأَنَّ السَّائِلَ یَسْأَلُ وَعِنْدَہُ وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا یَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَۃٍ‘‘۔[4]؎
کے صدقہ سے افضل ہونے کی کیا و جہ ہے؟ توانہوں نے عرض کیا : اس لئیکہ سائل مانگتا ہے حالانکہ اس کے پاس مال موجود ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا بلا ضرورت قرض نہیں لیتا۔
یونہی ایک مرتبہ قرض دینے کا ثواب دو مرتبہ صدقہ کرنے کے برابر ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُقْرِضُ مُسْلِماً قَرْضاً مَرَّۃً إِلَّا کَانَ کَصَدَ قَتِھَا مَرَّتَیْنِ‘‘۔[5]؎
حضرت عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک مرتبہقرض دیتا ہے تو وہ ایسے ہوتا ہے جیسے دو مرتبہ صدقہ کیاہو۔
یوں ہی تنگدست کے ساتھ شفقت اور نرمی کا برتاؤ رکھنے والے کے لئے بروزِ قیامت مغفرت کی بشارت ہے، یعنی جو شخص دنیا میں پریشان حال کے لئے آسانی فراہم کرے گا تو اللہ تَعَالٰی اسے دنیا میں بھی چَیْن عطا کرے گا اور آخرت میں بھی
راحت اس کا مقدر ہوگی، چنانچہ حدیث شریف میں بیان ہے : عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِي
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع