30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَسَقَیْتُکَ؟ قَالَ : قَدْ عَرَفْتُ، قَالَ : فَاشْفَعْ لِيْ بِھَا عِنْدَ رَبِّکَ۔ قَالَ : فَیَسْأَلُ اللّٰہَ تَعَالٰی فَیَقُوْلُ : إِنِّيْ أَشْرَفْتُ عَلَی النَّارِ فَنَادَانِيْ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِھَا، فَقَالَ لِيْ ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ قُلْتُ : لَا، وَاللّٰہِ مَا أَعْرِفُکَ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِيْ مَرَرْتَ بِيْ فِي الدُّنْیَا فَاسْتَسْقَیْتَنِيْ شَرْبَۃً مِنْ مَائٍ فَسَقَیْتُکَ، فَاشْفَعْ لِيْ عِنْدَ رَبِّکَ فَشَفِّعْنِيْ فِیْہِ فَیُشَفِّعُہُ اللّٰہُ فَیَأْمُرُ بِہِ، فَیُخْرَجُ مِنَ النَّارِ‘‘۔[1]؎
اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا، تو کہے گا ہاں پہچان گیا، تو وہ (جہنمی) کہے گا : تو اپنے رب کے پاس میرے لئے شفاعت کر! راوی فرماتے ہیں ، پھر وہ جنتی رب تَعَالٰی سے شفاعت طلب کرے گا عرض کرے گا، میں نے جہنم میں جھانکا تو مجھے ایک جہنمی نے آواز دے کر کہا تو مجھے جانتا ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں اللہ کی قسم میں تجھے نہیں جانتا تو کون ہے؟ تو اس نے جواب دیا میں وہی ہوں جس کے پاس سے تو دنیا میں گزرا تھا اور پینے کے لیے پانی مانگا تھااور میں نے تجھے پانی پلایا تھا ا س لیے اپنے رب سے میری سفارش کر، لہٰذا (اے رب) تو اس کے حق میں میرے سفارش قبول فرما، تو اللہ تَعَالٰی اس کی شفاعت قبول فرمائے گا اور اس کے بارے میں حکم فرمائے گا لہٰذا اس کو جہنم سے نکال لیا جائے گا۔
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ کُدَیْرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّ رَجُلاً أَعْرَابِیّاً أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ یُقَرِّبُنِيْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَیُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’أَوَ ھُمَا أَعْمَلَتَاکَ‘‘؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : ’’تَقُوْلُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ‘‘۔ قَالَ : وَاللّٰہِ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أَقُوْلَ الْعَدْلَ کُلَّ سَاعَۃٍ، وَمَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُعْطِيَ الْفَضْلَ۔ قَالَ : ’’ فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتُفْشِي السَّلَامَ‘‘؟ قَالَ : ھٰذِہِ أَیْضاً شَدِیْدَۃٌ۔ قَالَ : ’’فَھَلْ لَکَ إِبِلٌ‘‘؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : ’’فَانْظُرْ إِلٰی بَعِیْرٍ مِنْ إِبِلِکَ وَسِقَائٍ، ثُمَّ اعْمِدْ إِلٰی أَھْلِ بَیْتٍ لَا یَشْرَبُوْنَ الْمَائَ إِلَّا غِبّاً فَاسْقِھِمْ
حضرت کدیر ضبی سے مروی ہے کہ ایک اعرابی بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے عرض کی، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دُور کردے؟ تو نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، ’’کیااسی چیز نے تمہیں میرے پاس آنے اور سوال کرنے پر ابھارا؟‘‘، عرض کی ہاں ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، ’’حق بات کہو اور اپنی حاجت سے زائد کو صدقہ کردو، ‘‘عرض کی اللہ کی قسم میں ہر وقت نہ حق بات کہنے کی طاقت رکھتا ہوں اور نہ زائد کو صدقہ کرنے کی استطاعت، فرمایا، ’’ تو کھانا کھِلاؤ اور سلام کو عام کرو ‘‘انہوں نے عرض کی : یہ بھی اسی طر ح سخت ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس اُونٹ ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی : جی ، ہاں ! آپ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ آلہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : ’’ اپنا ایک اونٹ اور مشکیزہ لے کر ان لوگوں فَلَعَلَّکَ لَا یَھْلِکُ بَعِیْرُکَ، وَلَا یَنْخَرِقُ سِقَاؤُکَ حَتّٰی تَجِبَ لَکَ الْجَنَّۃُ‘‘۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ یُکَبِّرُ فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُہُ، وَلَا ھَلَکَ بَعِیْرُہُ حَتّٰی قُتِلَ شَھِیْداً۔[2]؎
کے پاس جاؤ جو بہت کم پانی پاتے ہیں ۔ انہیں پلاؤ اس اُمید پر کہ تمہارا اونٹ ہلاک ہونے سے پہلے اور تمہارا مشکیزہ پھٹنے سے پہلے تمہارے لئے جنت واجب ہوجائے گی۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اعرابی تکبیر کہتا ہو ا گیا، اس کے مشکیزہ پھٹنے سے پہلے اور اونٹ کے ہلاک ہونے سے پہلے وہ جام شہادت نوش کر گیا۔
ایک اور حدیث میں ہے :
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، قَالَ : أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَا عَمَلٌ إِنْ عَمِلْتُ بِہِ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ؟، قَالَ : ’’أَنْتَ بِبَلَدٍ یُجْلَبُ بِہِ الْمَاءُ‘‘؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : ’’فَاشْتَرِ بِھَا سِقَائً جَدِیْداً، ثُمَّ اسْقِ فِیْھَا حَتّٰی تُخَرِّقَھَا، فَإِنَّکَ لَنْ تُخَرِّقَھَا
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ، قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کی کہ وہ کونسا عمل ہے جس کے ذریعہ میں جنت میں جاؤں ؟ فرمایا، کیا تم ایسے شہر میں ہو جہاں پانی باہر سے لایا جاتا ہے؟ عرض کی جی ہاں ، فرمایا تم وہاں ایک نیا مشکیزہ خریدو پھر اس کے پھٹنے تک لوگوں کو حَتّٰی تَبْلُغَ بِھَا عَمَلَ الْجَنَّۃِ‘‘۔[3]؎
پانی پلاؤ، بے شک تم اپنے مشکیزے کو نہ پھاڑو گے مگر اس (یعنی مشکیزے کے پھٹنے) سے پہلے اس عمل کے سبب جنت میں پہنچ جاؤ گے۔
اپنے حوض سے غیر کے جانوروں کو پلانا جائز و مستحسن ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّيْ أَنْزَعُ فِيْ حَوْضِيْ حَتّٰی إِذَا مَلَأْتُہُ لإِبِلِيْ وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِیْرُ لِغَیْرِيْ فَسَقَیْتُہُ فَھَلْ فِيْ ذٰلِکَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنَّ فِيْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ أَجْراً‘‘۔[4]؎
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ایک شخص نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوا عرض کی، میں اپنے حوض سے پانی نکالتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنے اونٹ کے لئے پانی بھرتا ہوں تو کسی اور کا اُونٹ بھی میرے پاس آجاتا ہے تو اُس کو بھی پلادیتا ہوں ۔ تو کیا اس میں میرے لئے ثواب ہے؟ فرمایا، ہر جگر والے کے ساتھ بھلائی کرنے میں اجر ہے۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
1 (التخویف من النار، الباب الثالث والعشرون في نداء أھلِ النار أھلَ الجنۃ۔۔۔إلخ، ص۱۵۸)
(الترغیب والترہیب، کتاب الصدقات، الترغیب فی اطعام الطعام۔۔۔الخ، الحدیث۱۴۲۱، ج۱، ص۴۴۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع