30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، خاتم المرسلین، رحمۃللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، جناب صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں کسی نے عرض کیا، کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا، تمہارا کسی مومن کو پیٹ بھر کھانا کھلا کریا اس کے ستر کوچھپا کر یا اس کی کسی حاجت کوپورا کرکے اسے خوش کردینا۔
مسلمان کو پیٹ بھر کھلانے والا جنت میں خاص دروازے سے داخل ہوگا، چنانچہ :
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً حَتّٰی یُشْبِعَہُ مِنْ سَغَبٍ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ بَاباً مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ لَا یَدْخُلُہُ إِلَّا مَنْ کَانَ مِثْلَہُ‘‘۔[1]؎
حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتاجدار رسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت، محسن انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت بیان کرتے ہیں ، جو کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھِلاکر سیر کردے تو اللہ تَعَالٰی اُسے جنت میں اُس دروازے سے داخل فرمائے گا جس میں سے ایسے ہی لوگ داخل ہوں گے۔
یعنی اللہ تَعَالٰی نے بھوکوں کو کھلانے والوں کے لئے وہ فضیلت عطا فرمائی کہ ان کے لئے جنت کا ایک دروازہ مختص فرمادیا۔
اللہ تَعَالٰی کھلانے والوں پر فخر فرماتا ہے، حدیث شریف میں ہے :
عَنْ جَعْفَرٍ الْعَبْدِيِّ وَالْحَسَنِ قَالَا : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُبَاھِيْ مَلَائِکَتَہُ بِالَّذِیْنَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ مِنْ عَبِیْدِہِ‘‘۔[2]؎
حضرت جعفر عبدی اور حسن سے مروی ہیں ، فرماتے ہیں ، سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے ان بندوں سے جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اپنے فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتا ہے۔
ایک گنہگار کو فقط پانی پلانے پر مغفرت ملی، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ نَبِيِّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’رَجُلَانِ سَلَکَا مَفَازَۃً عَابِدٌ، وَالْآخَرُ بِہِ رَھَقٌ فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتّٰی سَقَطَ فَجَعَلَ صَاحِبُہُ یَنْظُرُ
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، وہ آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، دو شخص صحرا سے گزر رہے تھے
إِلَیْہِ، وَھُوَ صَرِیْعٌ فَقَالَ : واللّٰہِ إِنْ مَاتَ ھٰذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشاً، وَمَعِيَ مَائٌ لَا أُصِیْبُ مِنَ اللّٰہِ خَیْراً أَبَداً، وَلَئِنْ سَقَیْتُہُ مَائِيْ لَأَمُوْتَنَّ فَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَعَزَمَ فَرَشَّ عَلَیْہِ مِنْ مَّائِہِ وَسَقَاہُ فَضْلَہُ، فَقَامَ فَقَطَعَ الْمَفَازَۃَ فَیُوْقَفُ الَّذِيْ بِہِ رَھَقٌ لِّلْحِسَابِ فَیُؤْمَرُ بِہِ إِلَی النَّارِ فَتَسُوْقُہُ الْمَلَائِکَۃُ فَیَرَی الْعَابِدَ، فَیَقُوْلُ : یَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِيْ؟ فَیَقُوْلُ : وَمَنْ أَنْتَ؟ فَیَقُوْلُ : أَنَا فُلَانٌ الَّذِيْ آثَرْتُکَ عَلٰی نَفْسِيْ یَوْمَ الْمَفَازَۃِ، فَیَقُوْلُ : بَلٰی أَعْرِفُکَ، فَیَقُوْلُ لِلْمَلَائِکَۃِ قِفُوْا فَیَقِیْفُوْنَ، فَیَجِئُ حَتّٰی یَقِفَ فَیَدْعُوْ رَبَّہُ فَیَقُوْلُ : یَا رَبِّ : قَدْ عَرَفْتَ یَدَہُ عِنْدِيْ، وَکَیْفَ
ان میں ایک عبادت گزار تھا جبکہ دوسرا گنہگار، تو عابد کو پیاس لگی یہاں تک کہ وہ شدّتِ پیاس سے گر پڑا تو اس کے ساتھی نے اسے دیکھا کہ وہ بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوا ہے، اُس نے سوچا کہ اگر یہ نیک بندہ مرگیا حالانکہ میرے پاس پانی بھی ہے، تو اللہ تَعَالٰی کی طرف سے میں کبھی بھلائی نہ پاسکوں گا، اور اگر میں نے اس کو پانی پلادیا تو میں مرجاؤں گا، بہرحال اس نے اللہ پر بھروسہ کیا اور (اس کی مدد کا) ارادہ کیا کچھ پانی اس پر چھڑکا باقی اُسے پلادیا تو وہ کھڑا ہوگیا اور (دونوں نے) صحراطے کرلیا۔(مرنے کے بعد) گنہگار کا حساب ہوگا تو اُسے جہنم کا حکم سُنا دیا جائے گا اُسے فرشتے لے کر چلیں گے اُسی لمحے اُس کی نظر نیک بندے پر پڑے گی وہ کہے گا، اے فلاں کیا تو نے مجھے پہچانا؟ تو وہ کہے گا : تو کون ہے؟ کہے گا میں وہی ہوں جس نے بیابان والے دن تیری جان بچائی تھی!، تو وہ کہے گا، ہاں ہاں پہچان گیا تو وہ نیک بندہ فِرشتوں سے کہے گا ٹھہرو، تو وہ ٹھہرجائیں گے پھر وہ آثَرَنِيْ عَلٰی نَفْسِہِ، یَا رَبِّ : ھَبْہُ لِيْ فَیَقُوْلُ : ھُوَ لَکَ فَیَجِئُ فَیَأْخُذُ بِیَدِ أَخِیْہِ فَیُدْخِلُہُ الْجَنَّۃَ‘‘۔[3]؎
آکر رب تَعَالٰی سے دُعا کرے گا، عرض کرے گا اے پروردگار تو اُس شخص کا مجھ پر احسان جانتا ہے، کیسے اس نے میری جان بچائی تھی! اے رب اس کا معاملہ مجھے سونپ دے! تو اللہ تَعَالٰی فرمائے گا وہ تیرے حوالے!، پھر وہ نیک بندہ آئے گا اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں لے جائے گا۔
ایک اور حدیث شریف میں ایک ایسے شخص کا بیان آیا ہے جس کے حق میں پانی پلانے کے سبب شفاعت قبول ہوگئی۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ یُشْرِفُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی أَھْلِ النَّارِ، فَیُنَادِیْہِ رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، فَیَقُوْلُ : یَا فُلَانُ ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ فَیَقُوْلُ : لَا، وَاللّٰہِ مَا أَعْرِفُکَ مَنْ أَنْتَ؟ فَیَقُوْلُ : أَنَا الَّذِيْ مَرَرْتَ بِيْ فِي الدُّنْیَا فَاسْتَسْقَیْتَنِيْ شَرْبَۃً مِّنْ مَّاءِ
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت بیان فرماتے ہیں ، بروزِ قیامت ایک جنتی جہنمیوں کو جھانکے گا تو جہنمیوں سے ایک شخص اُسے پکارے گا اور کہے گا اے فلاں تو مجھے جانتا ہے؟ تو وہ کہے گا نہیں ، اللہ کی قسم میں تجھے نہیں جانتا، تو کون ہے؟ تو وہ (جہنمی) کہے گا میں وہی ہوں جس کے پاس سے تو دنیا میں گزرا تھا اور پینے کے لیے پانی مانگا تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع