30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَلَمْ تَسْقِنِيْ۔ قَالَ : یَا رَبِّ کَیْفَ أَسْقِیْکَ، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ؟ قَالَ : اسْتَسْقَاکَ عَبْدِيْ فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِہِ، أَمَا إِنَّکَ لَوْ سَقَیْتَہُ
بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی بندہ کہے گا الٰہی میں تیری عیادت کیسے کرتا تُو تَو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا، کیا تجھے خبر نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تَو تُو نے اس کی بیمار پُرسی نہ کی، کیا تجھے خبر نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اے آدمی! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا عرض کرے گا الٰہی! تجھے میں کیسے کھلاتا تُو تَو جہانوں کا رب ہے، فرمائے گا کیا تجھے علم نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تو نے اسے نہیں کھلایا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھلاتا تو میرے پاس پاتا، اے انسان! میں نے تجھ سے پانی مانگا تَو تُو نے مجھے نہ پلایا عرض کرے گا مولا! میں تجھے کیسے پلاتا تُو تَو جہانوں کا رب ہے، فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تو نے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا وَجَدْتَ ذٰلِکَ عِنْدِيْ‘‘۔[1]؎
تو آج میرے پاس وہ پاتا۔
’’اس میں اشارۃً یہ فرمایا گیا کہ بندہ مومن بیماری کی حالت میں رب تَعَالٰی سے اتنا قریب ہوتا ہے کہ اس کے پاس آنا گویا رب کے پاس ہی آنا ہے اور اس کی خدمت گویا رب کی اِطاعت ہے بشرطیکہ صابر و شاکر ہو کیونکہ بیمار مومن کا دل ٹوٹا ہوتا ہے اور ٹوٹے دلِ بیمار، کاشانۂ یار ہیں حدیث قدسی ہے : أَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ لِأَجَلِيْ، میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں ، اس ترتیب سے معلوم ہورہا ہے کہ بیمار پرسی اگلے اعمال سے افضل ہے، کیونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا ذکر پہلے کیا‘‘۔
اور حدیث شریف میں جو فرمایا کہ، اگر کھلاتا تو اسے میرے پاس پاتا، ’’یعنی اس کھانے کا ثواب یہاں پاتا، خیال رہے کہ بیمار پرسی کے بارے میں فرمایا تو بیمار کے پاس مجھے پاتا اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے بارے میں فرمایا کہ تو اس کا ثواب یہاں پاتا، معلوم ہوا کہ بیمار پرسی بہت اعلیٰ عبادت ہے‘‘۔
’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقراء مساکین اللہ کی رحمت ہیں ان کے پاس جانے، ان کی خدمتیں کرنے سے رب مل جاتا ہے، تو اولیاء اللہ کا کیا پوچھنا ان کی صحبت رب سے ملنے کا ذریعہ ہے مولانا فرماتے ہیں : شعر
ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا ٭ او نشیند در حضور اولیاء
قرآن کریم فرماتا ہے : (وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا) (ترجمہ : اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (کنزالایمان)) الآیۃ (لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا) ((النساء : ۴/۶۴) ترجمہ : تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (کنزالایمان)) صوفیاء فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جو گنہگار تمہارے پاس آجائے وہ خدا کو پالے گا، مولانا کے شعر کا ماخذ یہ آیت اور یہ حدیث ہے‘‘۔[2]؎
روزہ دار، مسکین کو کھانا کھلانے والے، جنازہ میں شریک ہونے والے اور مریض کی عیادت کرنے والوں کے لئے بھی جنت کی بشارت فرمائی :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ صَائِماً‘‘؟، فَقَالَ : أَبُوْ بَکْرٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ : أَنَا، فَقَالَ : ’’مَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مِسْکِیْناً‘‘؟، فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : أَنَا۔ قَالَ : ’’مَنْ تَبِعَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ جَنَازَۃً‘‘؟، قَالَ أَبُوْ بَکْرٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ : أَنَا، فَقَالَ : ’’مَنْ عَادَ مِنْکُمُ الْیَوْمَ مَرِیْضاً‘‘؟ قَالَ : أَبُوْ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، فرماتے ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، آج تم میں سے کس نے روزہ دار ہوکر صبح کی؟ حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا میں نے، فرمایا آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھِلایا؟ حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی، میں نے، فرمایا، آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض بَکْرٍ : أَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَا اجْتَمَعَتْ ھٰذِہِ الْخِصَالُ قَطُّ فِيْ رَجُلٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ‘‘۔[3]؎
کی، میں نے، فرمایا، آج تم میں سے کس نے کسی بیمار کی عیادت کی ؟ حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی میں نے، فرمایا کہ جس شخص میں یہ خصلتیں جمع ہوجائیں وہ جنّت ہی میں جاتا ہے۔
حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جماعتِ صحابہ سے یہ سوال فرمانا، ان پر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فضیلت ظاہر کرنے اور انہیں آپ کے روزانہ کے اعمال دکھانے کے لئے ہے، ورنہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتو ہر ایک کے سارے ظاہر و خفیہ اعمال سے خبردار ہیں ۔
اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے، ایک یہ کہ شیخ کا اپنے مریدوں کے حالات کی تفتیش کرنا، یونہی استاد کا شاگردوں کے خفیہ حالات معلوم کرنا سنت سے ثابت ہے، دوسرے یہ کہ اُمّتی کا نبی سے، مرید کا شیخ سے، شاگرد کا استاد سے اپنی خفیہ نیکیاں بیان کرنا ریا نہیں ، بلکہ انکی دعاء لے کر زیادہ قابل قبول بنانا ہے، تیسرے یہ کہ حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عابد ترین صحابی ہیں ، کہ آپکے روزانہ کے یہ اعمال ہیں خیال رہے کہ أَنَا یعنی میں کہنا فخر وغیرہ کے لئے ہو تو منع ہے، عجز و نیاز کے طور پر جائز ہے، چوتھے یہ کہ ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بشہادتِ حدیث و قرآن جنتی ہیں ۔[4]؎
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ : ’’ إِدْخَالُکَ السُّرُوْرَ عَلٰی مُؤْمِنٍ أَشْبَعْتَ جَوْعَتَہُ، أَوْ کَسَوْتَ عَوْرَتَہُ، أَوْ قَضَیْتَ لَہُ حَاجَتَہُ‘‘۔[5]؎
1 (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل عیادۃ المریض، الحدیث : ۴۳۔(۲۵۶۹)، ص۹۹۷)
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض وثواب المرض، الحدیث : ۱۵۲۸، ج۱، ص۲۹۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع