30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سید المبلغین، رحمۃ للعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، بے شک جنّت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ جن کا ظاہر اندر سے نظر آتا ہے اور اندرونی حصہ باہر سے، تو ابو مالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی یہ کس کے لئے ہے یارسول اللہ ؟ فرمایا جو اچھی بات کہے اور کھانا کھِلائے اور کھڑے ہوکر (یعنی نماز پڑھتے ہوئے) رات گزارے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں ۔
ایک اور حدیث میں ہے :
عَنْ أَبِيْ مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ غُرَفاً یُرٰی ظَاھِرُھَا مِنْ بَاطِنِھَا، وَبَاطِنُھَا مِنْ ظَاھِرِھَا
حضرت ابو مالک اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، جنت میں ایسے دریچے ہیں جن کا باہر اندر سے اور اندر باہر
أَعَدَّھَا اللّٰہُ لِمَنْ أَلَانَ الْکَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَتَابَعَ الصِّیَامَ، وَصَلّٰی بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ‘‘۔[1]؎
سے دیکھا جاتا ہے یہ اللہ نے ان کے لئے بنائے جو بات نرم کریں اور کھانا کھلائیں اور متواتر روزے رکھیں اور جب لوگ سوتے ہوں تو رات میں نماز پڑھیں ۔
’’یعنی ان کی دیواریں اور کواڑ ایسے صاف و شفاف کہ نگاہ کو نہیں روکتے جس کا نمونہ کچھ دنیا میں شیشے کی دیواروں اور کواڑوں میں نظر آتا ہے اس شفافی میں اس کے حسن و خوبی کی طرف اشارہ ہے‘‘۔
’’وہ دریچے ان لوگوں کے لئے ہیں جن میں یہ چار صفات جمع ہوں ہر مسلمان دوست یا دشمن سے نرمی سے بات کرنا، کفار سے سخت کلامی بھی عبادت ہے، رب تَعَالٰی فرماتا ہے : (اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ) ((الفتح : ۴۸/۲۹) ترجمہ : کافروں پر سخت ہیں (کنزالایمان)) اور فرماتا ہے : (وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ ) ((التوبۃ : ۹/۱۲۳) ترجمہ : اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں (کنزالایمان)) ہر خاص و عام کو کھانا کھلانا، اس میں مشائخ کے لنگروں کا ثبوت ہے بعض بزرگوں کے ہاں چرندوں پرندوں کو بھی دانا پانی دیا جاتا ہے وہ طعام کو بہت عام کرتے ہیں ‘‘۔[2]؎
کھلانے پلانے والوں کو سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لوگوں میں بہتر فرمایا :
عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ صُھَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِصُھَیْبٍ : فِیْکَ سَرَفٌ فِي الطَّعَامِ، فَقَالَ : إِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ’’خِیَارُکُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ‘‘۔[3]؎
حضرت حمزہ بن صُہیب اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا، کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے صہیب سے فرمایا، تمہارے اندر کھانے کے معاملے میں بے اعتدالی ہے۔ تو انہوں نے جواباً عرض کی میں نے شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے سُنا، تم میں بہتر وہ ہے جو کھانا کھِلائے۔
مسلمان مسکین کو کھانا کھلانا موجباتِ رحمت سے ہے، چنانچہ حدیثِ شریف میں ہے :
عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’مِنْ مُوْجِبَاتِ الرَّحْمَۃِ إِطْعَامُ الْمُسْلِمِ الْمِسْکِیْنِ‘‘۔[4]؎
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، جناب صادق و امینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، اسبابِ رحمت میں سے ایک سبب نادار مسلمان کو کھانا کھِلانا ہے۔
صدقہ کردہ کھجور اور روٹی کا ٹکڑا اجر میں اللہ تَعَالٰی کے فضل سے اُحُد پہاڑ کی مثل ہوجاتے ہیں ۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’إِنَّ اللّٰہَ لَیُرَبِّيْ لِأَحَدِکُمُ التَّمْرَۃَ وَاللُّقْمَۃَ کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ، أَوْ فَصِیْلَہُ حَتّٰی یَکُوْنَ مِثْلَ أُحُدٍ‘‘۔[5]؎
سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے، تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت، محسن انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت نقل کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا، بے شک اللہ تَعَالٰی تمہاری (صدقہ شدہ) کھجور اور لقمہ کی اس طرح پرورش فرماتا ہے جیسا کہ تم میں کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ وہ کھجور یا لقمۂ طعام (یعنی اس کا اجر و ثواب) اُحُد پہاڑ کی مثل ہوجاتا ہے۔
یوں ہی روٹی کے ایک ٹکڑے یا ایک کھجور کے دانے کو صدقہ کرنے سے تین لوگوں کو اللہ تَعَالٰی جنّت میں داخل فرمائے گا، حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُدْخِلُ بِلُقْمَۃِ الْخُبْزِ، وَقَبْصَۃِ التَّمْرِ وَمِثْلِہِ مِمَّا یَنْفَعُ الْمِسْکِیْنَ ثَلَاثَۃً الْجَنَّۃَ : الْآمِرَ بِہِ، وَالزَّوْجَۃَ الْمُصْلِحَۃَ لَہُ، وَالْخَادِمَ الَّذِيْ یُنَاوِلُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع