30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، کہ سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ روٹی کے ایک لقمے یا کھجور کے دانے یا اسی کی مثل مسکین کو فائدہ پہنچانے والی چیز کی وجہ سے تین لوگوں کو جنّت میں داخل فرمائے گا، ایک الْمِسْکِیْنَ‘‘۔ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ لَمْ یَنْسَ خَدَمَنَا‘‘۔[1]؎
وہ شخص جو صدقہ کا حکم دے، دوسرے وہ بیوی جس نے اس لقمہ کو تیار کیا اور تیسرے وہ خادم جس نے یہ صدقہ مسکین تک پہنچایا، اور رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، تمام خوبیاں اللہ تَعَالٰی کے لئے ہیں جو ہمارے خادموں کو بھی محروم نہیں کرتا۔
ایک اور حدیث شریف میں ارشاد ہے :
عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلٰی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، عَلِّمْنِيْ عَمَلاً یُدْخِلُنِي الْجَنَّۃَ؟ قَالَ : ’’لإَِنْ کُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْئَلَۃَ، أَعْتِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ الرَّقَبَۃَ، فَإِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ‘‘۔[2]؎ (ملخصاً)
حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ، ایک اعرابی آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوا عرض کی، یارسول اللہ مجھے ایسا عمل سِکھا دیجئے جو مجھے جنّت میں لے جائے، فرمایااگرچہ تم نے کلام مختصر کیا ہے مگر سوال وسیع کیا ہے ، غلام آزاد کرو اور گردن چھڑاؤاگرتمہیں اسکی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھلاؤ اور پیاسے کو پلاؤ۔
پیٹ بھر روٹی کھلانے والے کو اللہ تَعَالٰی دوزخ سے سات خندقیں دور فرمادیتا ہے اور ہر خندق کی مسافت پانچ سو سال ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ أَطْعَمَ أَخَاہُ خُبْزاً حَتّٰی یُشْبِعَہُ، وَسَقَاہُ مِنَ الْمَائِ حَتّٰی یُرْوِیَہُ بَعَّدَہُ اللّٰہُ مِنَ النَّارِ سَبْعَ خَنَادِقَ کُلَّ خَنْدَقٍ مَسِیْرَۃَ خَمْسِمِائَۃِ عَامٍ‘‘۔[3]؎
حضرت عبد اللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں ، نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، جو اپنے بھائی کو کھلا کر سیر کردے اور پلا کر سیراب کردے، تو اللہ تَعَالٰی اُسے جہنم سے سات خندقیں دور فرمادے گا جن میں سے ہر خندق کی درمیانی مسافت پانچ سو سال ہوگی۔
ہر تر جگر یعنی ہر ذی روح کی شکم سیری افضل صدقہ فرمایا گیا :
عَنْ أَنَسٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’أَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ أَنْ تُشْبِعَ کَبِداً جَائِعاً‘‘۔[4]؎
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، شہنشاہ مدینہ، قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، افضل صدقہ یہ ہے کہ تو بھوکے کلیجے کو سیر کردے۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’أَیُّمَا مُؤْمِنٍ أَطْعَمَ مُؤْمِناً عَلٰی جُوْعٍ أَطْعَمَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ، وَأَیُّمَا مُؤْمِنٍ سَقٰی مُؤْمِناً عَلٰی ظَمَإٍ سَقَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ الرَّحِیْقِ الْمَخْتُوْمِ، وَأَیُّمَا مُؤْمِنٍ کَسَا مُؤْمِناً عَلٰی عُرْيٍ کَسَاہُ اللّٰہُ مِنْ خُضْرِ الْجَنَّۃِ‘‘۔[5]؎
حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک میں کھانا کھِلائے گا تو اللہ تَعَالٰی اُسے بروزِ قیامت جنت کے پھل کھلائے گا، اور جو کسی مسلمان کو پیاس میں پانی پلائے گا تو اللہ تَعَالٰی اُسے بروزِ قیامت مہر کی گئی نتھری شراب پلائے گا او ر جو مسلمان کسی بے لباس مسلمان کو کپڑا پہنائے گا تو (قیامت کے روز) اللہ تَعَالٰی اُسے جنت کی پوشاک پہنائے گا۔
مریضوں کی تیمارداری اور بھوکوں ، پیاسوں کی داد رسی سے اللہ تَعَالٰی کی خصوصی رحمت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ ارشاد ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُوْلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ : یَا ابْنَ آدَمَ :
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ <
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع