دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

احوال و اشخاص کی تبدیلی سے بدل جاتی ہیں لہٰذا لازم ہے کہ مخلص آدمی اپنے نفس کی محافظت کرے تاکہ نہ تو دھوکے کی سولی پر لٹکے اور نہ طبیعت کے بناوٹی پن اور شیطان کے مکر میں آئے۔   [1]؎

        حدیث شریف میں ہے :

عَنْ زَیْنَبَ الثَّقَفِیَّۃِ امْرَأَۃِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَتْ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’تَصَدَّقْنَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ وَلَوْ مِنْ حُلِیِّکُنَّ‘‘، قَالَتْ :  فَرَجَعْتُ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقُلْتُ :  إِنَّکَ رَجُلٌ خَفِیْفُ ذَاتِ الْیَدِ، وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَۃِ فَأْتِہِ فَاسْأَلْہُ، فَإِنْ کَانَ ذٰلِکَ یُجْزِي عَنِّيْ وَإِلَّا صَرَفْتُھَا إِلٰی غَیْرِکُمْ،

زوجہ حضرت عبد  اللہ  بن مسعود حضرت زینب ثقفیّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے، فرماتی ہیں ، سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو، فرماتی ہیں ، میں عبد  اللہ  کی طرف لوٹی کہا، تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر

فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بَلِ ائْتِیْہِ أَنْتِ، فَانْطَلَقْتُ، فَإِذَا امْرَأَۃٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَحَاجَتِیْ حَاجَتُہَاقَالَتْ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِیَتْ عَلَیْہِ الْمَہَابَۃُ فَقَالَتْ  فَخَرَجَ عَلَیْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَہُ اِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ فَأَخْبِرْہُ عَنِ امْرَأَتَیْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِکَ :  أَتَجْزِیُٔ الصَّدَقَۃَ عَنْہُمَا عَلٰی اَزْوَاجِہِمَا وَعَلٰی أَیْتَامٍ فِیْ حُجُوْرِھِمَا؟، وَلَا تُخْبِرْہُ مَنْ نَحْنُ۔ قَالَتْ :  فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’مَنْ

 ہوکر پوچھ آؤ اگر تم پر میرا صدقہ کرنا درست ہو تو خیر ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ، فرماتی ہیں ، کہ مجھ سے عبد  اللہ  بولے، کہ تم ہی وہاں جاؤ، لہٰذا میں چلی گئی تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے درِ اقدس پر ایک اور انصاری بی بی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا، فرماتی ہیں ، کہ رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر قدرتی ہیبت دی گئی تھی، فرماتی ہیں ، کہ ہمارے پاس حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آئے ہم نے اُن سے عرض کیا کہ رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں جائیں اور عرض کریں کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضورسے پوچھتی ہیں کہ کیا اُن کا اپنے خاوندوں اور اُن یتیموں پر خرچ کردینا جو اُن کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائیگا؟ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ، فرماتی ہیں ، کہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا، اُن سے رسول  اللہ  صلی  اللہ   تَعَالٰی  علیہ   ھُمَا‘‘؟، فَقَالَ :  امْرَأَۃٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ، وَزَیْنَبُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’أَيُّ الزَّیْنَبِ‘‘؟، قَالَ :  امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’لَھُمَا أَجْرَانِ :  أَجْرُ الْقَرَابَۃِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَۃِ‘‘۔[2]؎

وسلم نے دریافت فرمایا، وہ کون ہیں ؟ عرض کی کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ، رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، کونسی زینب؟ عرض کی عبد  اللہ  بن مسعود کی زوجہ، تب رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، کہ انہیں دوہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا۔

        ’’غالباً حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا یہ ارشاد (اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو) عید کے دن تھا چونکہ اُس زمانہ میں عورتیں بھی نماز عید کے لئے عیدگاہ جاتی تھیں اور اُن کے لئے بعد نماز مخصوص وعظ ہوتا تھا، اُس وعظ میں آپ نے یہ سُنا اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ عورتوں کے استعمالی زیور پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اور یہ زکوٰۃ عورت پر فرض ہے نہ کہ اُس کے خاوند پر خواہ میکے سے زیور ملا ہو یا سُسرال والوں نے دیا ہو بشرطیکہ(انہوں نے) مالک کردیا ہو، لہٰذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے امام شافعی کے ہاں پہننے کے زیور میں زکوٰۃ نہیں ‘‘۔

        اور حضرت زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے حضرت عبد  اللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے جو کہا، ’’یعنی اگر تم کو میرا صدقہ دینا درست ہو تو تب تو میں تم ہی کو صدقہ دے دوں ، ورنہ کسی اور کو دوں :  اس سے معلوم ہوا غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنٰی سے غَنِی نہ مانے جائیں گے، جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کے غنا سے غنی نہیں ہوتی، دیکھو حضرت ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بیوی غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود مسکین تھے‘‘۔

        ’’حضرت ابن مسعود کی کچھ اولاد بھی تھی، اور اب حضرت زینب اُن کی پرورش فرماتی تھیں ، غیرکم میں ان سب سے خطاب ہے، یعنی اگر تمہیں اور تمہارے ان بچوں کو میرا صدقہ لینا درست ہو تو میں تمہیں دے دوں ورنہ دوسروں کو دوں ‘‘۔

        اور راویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا وہ فرمان، کہ رسول  اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر قدرتی ہیبت دی گئی، ’’یعنی رب العالمین نے دلوں میں آپ کی ہیبت ڈال دی تھی جسکی وجہ سے ہر شخص بغیر اجازت خدمت میں حاضر ہونے، عرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا، اور حاضرین بارگاہ بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھتے تھے جیسے انکے سروں پر پرندے ہیں ، حالانکہ سرکار انتہائی خلیق اور بہت رحیم و کریم تھے،  شعر

ہیبتِ حق است ایں از خلق نیست     ٭ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست

اسی وجہ سے دونوں بیبیاں دروازے پر کھڑی رہ گئیں ، بارگاہ پاک میں باریاب نہ ہوئیں ‘‘۔   

        اور ’’شاید یتیموں سے اُن کے خاوندوں کی وہ اولاد مراد ہے جن کی والدہ فوت ہوچکی تھی یعنی ان کی سوتیلی اولادا نہیں یتیم کہنا مجازاً ہے، ورنہ انسا ن یتیم وہ نابالغ ہوتا ہے جس کا باپ فوت



1     (إحیاء علوم الدین، کتاب أسرار الزکاۃ، الفصل الرابع في صدقۃ التطوع وفضلھا وآداب أخذھا وإعطائھا، بیان إخفاء الصدقۃ وإظھارہا، ج۱، ص۳۲۱۔۳۲۲)

2     (سنن الدارمي، کتاب الزکاۃ، باب أي الصدقۃ أفضل، الحدیث :  ۱۶۶۰، ص۴۸۴)

(صحیح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ علی الزوج والأیتام في الحجر، الحدیث :  ۱۴۶۶، ج۱، ص۳۶۰۔۳۶۱)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الأقربین۔۔۔ إلخ، الحدیث :  ۴۵۔(۱۰۰۰ص۳۶۰)

(سنن ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ علی ذي قرابۃ، الحدیث :  ۱۸۳۴، ج۲، ص۴۰۶۔۴۰۷)

(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ علی الأقارب، الحدیث :  ۲۵۸۳، ج۳، الجزء الخامس، ص۹۷)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب أفضل الصدقۃ، الحدیث :  ۱۹۳۴، ج۱، ص۳۶۶۔۳۶۷)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن