30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تَعَالٰی نے فرمایا :
وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) (الضحی : ۹۳؍۱۱)
ترجمہ کنزالایمان : اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کر۔
نعمت چھپانا ناشکری میں داخل ہے، جو اللہ تَعَالٰی کی دی ہوئی نعمت کو چھپاتے ہیں اللہ تَعَالٰی ان کی مذمت فرماتا ہے اور انہیں بخیل فرماتا ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے :
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ (النساء : ۴؍۳۷)
ترجمہ کنزالایمان : جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں اور اللہ نے جو اُنہیں اپنے فضل سے دیا ہے اُسے چھپائیں ۔
اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :
إِذَا أَنْعَمَ اللّٰہُ عَلٰی عَبْدٍ نِعْمَۃً أَحَبَّ أَنْ تُرٰی نِعْمَتُہُ عَلَیْہِ۔[1]؎
جب اللہ اپنے کسی بندے کو نعمت سے مشرف فرماتا ہے تو پسند فرماتا ہے کہ وہ نعمت اس پر دکھائی دے۔
ایک شخص نے کسی زاہد کو چھپا کر کوئی چیز دی تو انہوں نے لینے سے ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا یہ دنیوی ہے، اسے ظاہر کرنا افضل ہے اور اُخروی امور میں چھپانا افضل ہے۔
اسی لئے ایک نیک بزرگ نے فرمایا، جب تمہیں مَجمع میں کچھ دیا جائے تو لے لو اور پھر تنہائی میں لَوٹا دو اور اس پر شکر ادا کرنے کی رغبت دلائی گئی ہے۔
خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، جناب صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
مَنْ لَّمْ یَشْکُرِ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ۔[2]؎
جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بھی شکر ادا نہ کیا۔
اور شکریہ ادا کرنا بدلہ دینے کے قائم مقام ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
مَنْ أَسْدٰی إِلَیْکُمْ مَعْرُوْفاً فَکَافِؤہُ، فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِیْعُوْا فَأَثْنُوْا عَلَیْہِ بِہِ خَیْراً وَادْعُوْا لَہُ حَتّٰی تَعْلَمُوْا أَنَّکُمْ قَدْ کَافَأْتُمُوْہُ۔[3]؎
جو آدمی تم سے نیکی سے پیش آئے تو اسے اچھا بدلہ دو اور اگر اس کی طاقت نہ رکھو تو اس کے دئیے پر اس کی تعریف کردو اور اس کے لئے دعا کرو حتی کہ تمہیں یقین ہوجائے کہ بدلہ چکا دیا۔
جب مہاجرین صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے (انصار کا) شکریہ ادا کرنا چاہا تو بارگاہِ رسالت میں عرض کی، یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہم ان لوگوں سے بہتر کسی قوم کو نہیں جانتے جن کے پاس ہم ٹھہرے ہیں ، انہوں نے اپنے مال ہم میں تقسیم کردئیے ہمیں تو خوف ہے کہ کہیں یہ لوگ تمام ہی اجر نہ لے جائیں تو تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت، محسن انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :
کُلُّ مَا شَکَرْتُمْ لَھُمْ وَأَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ بِہِ فَھُوَ مُکَافَأَۃٌ۔[4]؎
تم نے جتنا بھی ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی مدد پر ان کی تعریف کی، یہی بدلہ ہے۔
اب جبکہ آپ ان باتوں کو سمجھ گئے تو یہ بھی جان لیجئے کہ اس بارے میں جو اختلاف منقول ہوا وہ اختلاف نفس مسئلہ میں نہیں ہے بلکہ یہ اختلاف لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے۔تو اس راز سے پردہ یوں اُٹھتا ہے کہ ہم قطعی فیصلہ تو نہیں دے سکتے کہ پوشیدہ دینا ہر حال میں افضل ہے یا ظاہر کرکے؟ مگر (اتنا بتادیں کہ) نیتوں کے بدلنے سے احکام تبدیل ہوجاتے ہیں اور نیتیں ،
1 (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند مالک بن نضلۃ، الحدیث : ۱۵۹۸۷، ج۵، ص۴۵۶)
(الثقات لابن حبان، الحدیث : ۱۲۳۴، ج۳، ص۳۷۶)
(التمھید لابن عبد البر، ج۳، ص۲۵۴)
(مسند الشھاب، الحدیث : ۱۱۰۰، ج۲، ص۱۶۱)
(تاریخ جرجان، ج ۱، ص۱۴۲)
(المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث : ۴۱۸، ج۱۸، ص۱۸۱)
(نصب الرایۃ، ج۴، ص۲۸۳)
2 (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند أبي ہریرۃ، الحدیث : ۷۴۹۵، ج۳، ص۸۴)
(سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الشکر لمن أحسن إلیک، الحدیث : ۱۹۵۵، ج۳، ص۸۹)
3 (الأدب المفرد للبخاري، باب من صُنع إلیہ معروف فلیکافئہ، الحدیث : ۲۱۵، ص۷۷)
(سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب عطیۃ من سأل باللّٰہ، الحدیث : ۱۶۷۲، ج۲، ص۲۱۲)
(المستدرک علی الصحیحین، الحدیث : ۲۳۶۹، ج۲، ص۷۳) (سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب من سأل بوجہ اللّٰہ، الحدیث : ۲۵۶۶، ج۵، الجزء الخامس، ص۸۷)(المغني للمقدسي، ج۹، ص۴۲۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع