30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یکفّر جاحدھا ویقتل مانعھا ھکذا في ’’محیط السرخسي‘‘۔ [1]؎
یعنی، زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر کافرہے اور نہ دینے والا قتل کا مستحق ہے۔
شیخ شمس الدین تمرتاشی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : فیاثم بتأخیرہاوترد شہادتہ [2]؎
یعنی زکوۃ کی ادائیگی میں (بلا عذر) تاخیر کرنے والا گناہ گار اور مردود الشہادۃ ہے۔
چونکہ کتاب کا اصل مقصد نفلی صدقات کے فضائل اور اس کے متعلقات بیان کرناہے؛ لہٰذا فرض زکوٰۃ کے بیان کو ضمناً، تبرّکاً اور اختصاراً ذکر کیا جارہا ہے۔ اور زیادہ تر مسائل کا بیان بہارِ شریعت سے کیا جائے گا تاکہ صدر الشریعہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا خصوصی فیض بھی حاصل رہے اور اجتناب از تطویل بھی ملحوظِ خاطر رہے۔ تفصیل کے لئے بہارِ شریعت کے پانچویں حصہ کا مطالعہ کریں ۔
(۱)زکوٰۃ ۲ھ میں روزوں سے قبل فرض ہوئی علامہ علاء الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ، فرضت في السنۃ الثانیۃ قبل فرض رمضان۔ [3]؎
(۲)ادائیگیٔ زکوٰۃ کے لئے ضروری ہے کہ جسے دے رہا ہے اسے مالک بنادے چنانچہ علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متوفی ۷۱۰ھ فرماتے ہیں :
ھي تملیک المال من فقیر مسلم ۔۔۔ إلخ۔ [4]؎
(۳)ادائیگیٔ زکوٰۃ کے لئے ضروری ہے کہ بوقتِ ادائیگی زکوٰۃ کی نیت بھی ہو اور اگر دیتے وقت نیت نہ کی مگر دینے کے بعد نیت کی جبکہ مال فقیر کے ہاتھ میں موجود ہو یا وکیل (برائے ادائیگیٔ زکوٰۃ) کو مال دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرلے پھر وکیل فقیر کو بلا نیت ہی مال دیدے تو دونوں صورتوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی درست ہوگی۔
چنانچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : لو دفع بلا نیۃ ثمّ نوی والمال قائم في ید الفقیر، أو نوی عند الدفع للوکیل ثم دفع الوکیل بلا نیّۃ، جاز نیۃ الآمر۔ [5]؎ (ملخصاً)
(۴)مباح کردینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی مثلاً فقیر کو بہ نیت زکوٰۃ کھانا کھلادیا زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کردینا نہیں پایا گیا ہاں اگر کھانا دیدیا کہ چاہے کھائے یا لے جائے تو ادا ہوگئی۔ یونہی بہ نیت زکوٰۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنادیا ادا ہوگئی۔ [6]؎
(۵)فقیر کو بہ نیتِ زکوٰۃ مکان رہنے کو دیا، زکوٰۃ ادا نہ ہوئی کہ مال کا کوئی حصہ اسے نہ دیا بلکہ منفعت کا مالک کیا۔[7]؎
(۶)زکوٰۃ کی فرضیت کی شرائط میں سے عاقل ہونا، بالغ ہونا، مسلمان ہونا، آزادہونا اور قرض اور حاجتِ اصلیہ سے فارغ بقدر نصاب مال نامی(بڑھنے والا مال) جس پر سال گزر چکا ہو، کا مالک ہونا ہے۔ چنانچہ علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متوفی ۷۱۰ھ فرماتے ہیں : شرط وجوبھا العقل والبلوغ والإسلام والحریۃ وملک نصاب حولي فارغ عن الدین وحاجتہ الأصلیۃ نام ولو تقدیراً۔[8]؎
(۷)مال اگر ہلاک ہوگیا تو زکوٰۃ نہیں چنانچہ علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متوفی ۵۹۳ھ فرماتے ہیں ، لا تضمن بھلاک النصاب بعد التفریط۔[9]؎
(۸)بچے اور مجنون کی ملکیت میں چاہے جتنا بھی مال ہو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں کیونکہ زکوٰۃ ایسی عبادت ہے جو اختیاری طور پر ادا کی جاتی ہے جبکہ بچہ اور مجنون عدمِ عقل کی وجہ سے کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ علامہ مرغینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، ولیس علی الصبي والمجنون زکاۃ (لِ)أنھا عبادۃ فلا تتأدی إلا بالاختیار تحقیقاً لمعنی الابتلاء ولا اختیار لھما لعدم العقل۔[10]؎
(۹)بنیادی خرچہ، رہائش کے مکان، جنگی سامان، سردی گرمی سے بچنے کے لئے جن کپڑوں کی ضرورت ہو، ان پر زکوٰۃ نہیں کیونکہ یہ سب انسان کی حاجاتِ اصلیہ سے ہیں ۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متوفی ۱۲۵۲ھ حاجاتِ اصلیہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ، وھي ما یدفع الھلاک عن الإنسان تحقیقاً کالنفقۃ ودور السکنی وآلات الحرب والثیاب المحتاج إلیھا لدفع الحَرّ أو البرد۔[11]؎
(۱۰) مالک کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں ۔[12]؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع