30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ وہ بے نیاز ہوتے ہوئے لے رہا ہے یا اس کی نسبت زیادہ لینے کی طرف کرتے ہیں حالانکہ حسد، بدگمانی اور غیبت گناہ کبیرہ ہیں اور ان لوگوں کو ان برائیوں سے بچائے رکھنا ہی بہتر ہے۔ حضرت ایوب سختیانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا، میں نئے کپڑے نہیں پہنتا کہ کہیں میرا ہمسایہ مجھ سے حسد نہ کرے۔ ایک زاہد نے فرمایا کہ میں نے بسا اوقات اپنے بھائیوں کے (تنقید کرنے کے) خوف سے کسی چیز کے استعمال کو چھوڑ دیا کہ کہیں وہ یہ نہ کہہ بیٹھیں کہ یہ اس کے پاس کہاں سے آئی؟ حضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک نئی قمیص نظر آئی تو ان کے ایک بھائی نے پوچھا یہ آپ کے پاس کہاں سے آئی ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے یہ حضرت خیثمہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہنائی ہے اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے گھر والے اس کے متعلق جان جائیں گے تو کبھی اسے قبول نہ کرتا۔
(۳)چھپا کر صدقہ دینا، دینے والے کے عمل کو راز رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے کیونکہ ظاہر کرکے دینے کے مقابلہ میں چھپا کر دینا افضل ہے اور نیکی کی تکمیل میں معاونت بھی نیکی ہے اور چھپانا دونوں (لینے والے اور دینے والے) کے ذریعہ ہی ممکن ہوگا کہ جب بھی ظاہر کیا جائے گا تو دینے والے کا راز کھُل جائے گا۔
ایک شخص نے کھلے عام کسی عالم کو کوئی چیز دی تو انہوں نے اسے واپس کردیا پھر کسی نے پوشیدہ طور پر دی تو انہوں نے قبول کرلی ان سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ دوسرے نے اپنا صدقہ چھپا کر دینے میں ادب سے کام لیا تو میں نے قبول کیا جبکہ پہلے نے اپنے عمل میں بے ادبی کی لہٰذا میں نے اس کا عطیہ لَوٹا دیا۔
کسی شخص نے ایک صوفی بزرگ کو مجلس میں کوئی چیز دی تو انہوں نے واپس کردی اس نے کہا آپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاعطیہ کیوں واپس کردیا؟ تو انہوں نے جواب دیا تو نے خالص اللہ تَعَالٰی کی رضا کی خاطر خرچ کی جانے والی چیز میں اس کے غیر کو شریک کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر قناعت نہ کی تو میں نے تیرا شرک (یعنی لوگوں پر اظہار کرکے نہ کہ معاذ اللہ عبادت میں شرک) واپس کردیا۔
ایک عارف ب اللہ بزرگ نے پوشیدگی میں وہی چیز قبول کرلی جو علانیہ دئیے جانے پر لَوٹادی تھی۔ اس پر ان سے پوچھا گیا تو جواباً فرمایا تم علانیہ دے کر اللہ تَعَالٰی کے نافرمان ہوئے تو میں اس معصیت پر تمہارا معاون نہ ہوا مگر جب خفیہ طور پر دے کر تم اللہ تَعَالٰی کے مطیع ہوئے تو میں نے تمہاری اس بھلائی میں مدد کی۔
حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں اگر مجھے یقین ہوجاتا کہ وہ لوگ اپنے صدقہ کا تذکرہ نہیں کریں گے اور نہ کسی سے چرچا کریں گے تو میں ان کا صدقہ ضرور قبول کرتا۔
(۴)(چھپا کردینا اس لئے بھی بہتر ہے) کیونکہ ظاہری طور پر لینے میں ذلّت اور توہین ہے اور مومن اپنے نفس کو ذلیل نہیں کرتا ایک عالم پوشیدہ طور پر لے لیتے تھے جبکہ ظاہر کرکے دیا جاتا تو نہ لیتے اور فرماتے، اس کے اظہار میں علم کی ذلت اور علماء کی اِہانت ہے، تو میں علم کو پست کرکے اور اہل علم کو ذلیل کرکے کسی دنیوی چیز کو برتری نہیں دیتا۔
(۵)(چھپا کر صدقہ دینے سے) شرکت کے شبہ سے بچاؤ ہوتا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
’’جس آدمی کو کوئی تحفہ دیا جائے جبکہ اس کے پاس اور بھی لوگ موجود ہوں تو وہ سب اس تحفہ میں شریک ہیں ۔ ‘‘پھر اگر وہ دی جانے والی شے چاندی یا سونا بھی ہو (یعنی کتنی ہی قیمتی شے ہو) تو بھی تحفہ کے زمرے سے خارج نہ ہوگا۔
شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : افضل ہدیہ جو کوئی اپنے بھائی کو بھیجے چاندی ہے یا کھانا کھلانا۔حدیث میں چاندی کو بھی ہدیہ فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ مجلس میں کسی خاص شخص کو اہل مجلس کی رضا مندی کے بغیر کچھ دینا مکروہ ہے اور رضامندی کا حال مشتبہ رہتا ہے اس لیے تنہا ئی میں دے دینا اس شبہ سے محفوظ رکھتا ہے۔
صدقہ ظاہر کرکے دینے اور اسکا تذکرہ کرنے میں چار معانی ہیں :
(۱) اخلاص، سچائی، اپنے حال کو دھوکے سے سلامت رکھنا اور دکھاوے سے بچے رہنا۔
(۲)جاہ و مرتبہ کو ساقط کردینا، بندگی اور مسکینیت کا اظہار، تکبر اور تونگری کے دعووں سے آزاد ہونا اور مخلوق کی نظروں میں اپنے نفس کو حقیر ٹھہرانا۔
ایک صاحبِ معرفت بزرگ نے اپنے شاگرد سے فرمایا، صدقہ لینے کو ہر حالت میں ظاہر کیا کرواس لئے کہ لیتے وقت دو قسم کے بندوں سے واسطہ پاؤگے، ایک تو وہ شخص ہوگا کہ جب تم صدقہ لینے کو ظاہر کروگے تو وہ بددل ہوگا اور یہی مقصود ہے کیونکہ یہ تمہارے دین کی بقاء ہے اور تمہارے نفس کی آفات کی کمی کا باعث ہے یا پھر ایسے شخص سے واسطہ پڑے گا جس کے دل میں ، تمہارے سچ کے اظہار کی وجہ سے، تمہاری محبت بڑھے گی اور یہی تمہارا بھائی چاہتا ہے کیونکہ وہ تم سے جتنی زیادہ محبت اور جتنی زیادہ تمہاری تعظیم کرے گا تو اسی قدر اس کے ثواب میں اضافہ ہوگا۔
(۳)اظہار کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ عارف ب اللہ کی نظر چھپے وظاہر دونوں حال میں صرف اللہ تَعَالٰی پر ہوتی ہے تو اس حال کا مختلف ہوناعارفین کے نزدیک توحید میں شرک ہے ۔کسی عارف نے فرمایا، ہم اس شخص کی دعا کا اعتبار نہیں کرتے جو پوشیدہ طور لے لے اور علانیہ کو رد کردے۔ لوگ موجود ہوں یا غائب مخلوق کی جانب توجہ کرنا نقصان ہی کا موجب ہے بلکہ ضروری ہے کہ انسان کی نظر صرف ذاتِ واحد پر لگی رہے۔
حکایت کی گئی ہے کہ ایک شیخ اپنے ایک مرید پر سب سے زیادہ توجہ فرماتے، دیگر کو یہ بات تکلیف کا باعث بنی، چنانچہ شیخ صاحب نے اپنے اس مرید کی اوروں پر بڑائی کو ظاہر فرمانا چاہا، لہٰذا سب مریدین کو ایک ایک مرغی دے دی اور فرمایا تم سب مرغیاں لے جاؤ اور وہاں جاکر ذبح کرنا جہاں کوئی نہ دیکھے، وہ تمام گئے اور ذبح کرآئے جبکہ وہ مرید ویسے ہی مرغی واپس لے کر لَوٹ آیا، شیخ صاحب نے ان مریدوں سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جو شیخ نے حکم دیا ہم نے کیا، شیخ نے اس خاص مرید سے سوال کیا، آپ نے دیگر ساتھیوں کی طرح مرغی ذبح کیوں نہ کی؟ اس مرید نے جواب دیا، مجھے کوئی ایسی جگہ نہ ملی جہاں مجھے کوئی بھی نہ دیکھتا ہو، بے شک اللہ تَعَالٰی مجھے ہر ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ تو شیخ صاحب نے فرمایا، اسی لئے میں اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوں کہ یہ غیر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ نہیں ۔
(۴)دینے میں اظہار کرنے سے ادائیگیٔ شکر کی سنّت کا قیام ہوتا ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع