30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
؎ در جوانی توبہ کردن سنت پیغمبری است ٭ وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار‘‘
(یعنی جوانی میں اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرنا پیغمبروں کا طریقہ ہے اور بڑھاپے کے وقت تو ظالم بھیڑیا بھی پرہیزگار بن جاتا ہے)۔
’’صوفیاء کہتے ہیں کہ مومن مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق ایسا جیسے چڑیا پنجرے میں اسی لئے نماز کے بعد بلاوجہ فوراً مسجد سے بھاگ جانا اچھا نہیں خدا توفیق دے تو مسجد میں پہلے آؤ اور بعد میں جاؤ۔ اور جب باہر آؤ تو کان اذان کی طرف لگے رہیں کہ کب اذان ہو اور مسجد کو جائیں ‘‘۔
اللہ کے لئے محبت کرنے سے مراد، ’’کہ جس کی محبت سے رب راضی ہو اس سے محبت کریں اور جس کی نفرت سے رب راضی ہو اس سے نفرت کریں بے دین اور بدعمل اولاد سے نفرت، متقی اجنبی سے محبت عبادت ہے،
؎ ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد ٭ فدائے یک تن بیگانہ کآشنا باشد
(ہزاروں اپنے، خدا سے بیگانے ہیں اور اس ایک بیگانے پر فِدا جو خدا سے آشنا ہو)۔
یونہی گہرے دوست کی بد عقیدگی پر واقف ہوکر اس سے الگ ہوجانا اور جانی دشمن کے تقویٰ پر خبردار ہوکر اس کا دوست بن جانا بہترین عمل ہے‘‘۔
’’خوفِ خدا یا عشقِ جنابِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں روئے، تنہائی کی قید اس لئے لگائی کہ سب کے سامنے رونے میں ریاء کا اندیشہ ہے‘‘۔
خاندانی عورت بلائے، ’’یعنی خودایسی عورت اس سے بدفعلی کی خواہش کرے اور یہ اس نازک موقعہ پر محض خوفِ خدا سے بچ جائے یہ بہت مشکل ہے۔ اسی لئے رب تَعَالٰی نے یوسف علیہ السلام کے اس فعل شریف کی تعریف قرآن میں فرمائی۔ اللہ (ایسا تقویٰ) نصیب کرے، خیال رہے کہ ایسے نازک موقعہ پر عورت سے یہ کہہ دینا ریاء نہیں تبلیغ ہے یعنی میں رب تَعَالٰی سے ڈرتا ہوں تو بھی ڈر‘‘۔
دائیں ہاتھ سے دے اور بائیں کو خبر نہ ہو سے، ’’یہاں صدقہ نفلی مراد ہے صدقۂ فرض اور چندے کے موقعہ پر صدقۂ نفل علانیہ دینا مستحب ہے لہٰذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں :
(اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ )‘‘ [1]؎
((البقرۃ : ۲/۲۷۱) ترجمہ : اگر خیرات علانیہ دو تو کیا ہی اچھی بات ہے(کنزالایمان))۔
امام محمد بن عبد الباقی زرقانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اللہ کے سائے سے مراد یہ ہے کہ وہ سایہ اللہ کی ملکیت میں ہے کیونکہ ہر سایہ (چاہے کسی بھی چیز کا ہو) اللہ ہی کی مِلک ہے یہی قاضی عیاض (صاحبِ شفاء شریف) کا بھی قول ہے یا اس سایہ کی اللہ تَعَالٰی کی جانب اضافت کا مقصد اس سایہ کی بلندیٔ شان کا اظہار ہے جیسا کہ کعبہ کو بیت اللہ ( اللہ کا گھر) کہا جاتا ہے حالانکہ تمام مساجد اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ سایہ سے مراد اللہ تَعَالٰی کی رحمت ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے فلاں ، بادشاہ کے زیرِ سایہ ہے۔ اس لئے کہ اللہ تَعَالٰی سایہ سے مُنَزَّہ ہے کیونکہ سایہ تو جسم کا ہوتا ہے اور اللہ تَعَالٰی جسمانیت سے پاک ہے۔
اور دائیں ہاتھ سے دے کہ بائیں کو خبر نہ ہو کی شرح میں علامہ زرقانی فرماتے ہیں ، یعنی لوگوں سے چھپائے اور اس حدیث کا ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم فرض اور نفل دونوں صدقات کو شامل ہے لیکن امام نووی نے علماء سے نقل کیا کہ فرض صدقہ کو ظاہر کرکے دینا بہتر ہے۔[2]؎ ملخصاً
تین شخصوں کو اللہ تَعَالٰی محبوب رکھتا ہے اور تین کو مبغوض ، چنانچہ :
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’ثَلَاثَۃٌ یُحِبُّھُمُ اللّٰہُ، وَثَلَاثَۃٌ یُبْغِضُھُمُ اللّٰہُ، فَأَمَّا الَّذِیْنَ یُحِبُّھُمُ اللّٰہُ : فَرَجُلٌ أَتٰی قَوْماً فَسَأَلَھُمْ بِاللّٰہِ، وَلَمْ یَسْأَلْھُمْ بِقَرَابَۃٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَھُمْ فَمَنَعُوْہُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِھِمْ فَأَعْطَاہُ سِرّاً لَا یَعْلَمُ بِعَطِیَّتِہِ إِلَّا اللّٰہُ وَالَّذِيْ أَعْطَاہُ۔[3]؎ (الحدیث)
حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، کہ سید المبلغین، رحمۃللعالمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، تین شخصوں کو اﷲ عَزَّ وَجَلَّ محبوب رکھتا ہے اور تین شخصوں کو مبغوض۔ جن کو اﷲ عَزَّ وَجَلَّ محبوب رکھتا ہے، ان میں ایک یہ ہے کہ ایک شخص کسی قوم کے پاس آیا اور اُن سے اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر سوال کیا، اس قرابت کے واسطے سے سوال نہ کیا، جو سائل اور قوم کے درمیان ہے، انہوں نے نہ دیا، اُن میں سے ایک شخص چلا گیا اور سائل کو چھپا کر دیا کہ اس کو اﷲ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے اور وہ شخص جس کو دیا اور کسی نے نہ جانا۔
صدقہ کو چھپانا بہتر ہے یا ظاہر کرنا؟ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
اس معاملہ میں اخلاص کے شیدائیوں کا طریقہ اور ہے ایک قوم کے نزدیک چھپانا افضل ہے جبکہ دوسری اظہار کو بہتر جانتی ہے ہم ان دونوں کے معانی اور آفات کے رموز کی جانب راہنمائی کرتے ہیں پھر حقیقت سے پردہ بھی اُٹھائیں گے :
جہاں تک پوشیدگی کی بات ہے تو اس میں پانچ معانی ہیں :
(۱) اس طرح لینے والے کا پردہ رہ جاتا ہے کیونکہ ظاہری طور پر لینے سے اس کی عزت ووقار کا پردہ اٹھ جاتا ہے ، حاجت سامنے آجاتی ہے اور اس عفت کی صورت سے خارج ہو جاتاہے جو پسندیدہ ہے اور اس سے متصف شخص کو بے خبر مال دار سمجھتے ہیں کیونکہ وہ مانگنے سے پرہیز کرتا ہے۔
(۲)چھپاکر دینے سے فقیر، لوگوں کے دلوں (کے گمان) اور زبانوں (کے چرچے) سے محفوظ رہ جاتا ہے کیونکہ وہ بسا اوقات یا تو اس سے حسد کربیٹھتے ہیں یا اس کے لینے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع