دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے مروی ہے فرماتے ہیں ، بے شک مخفی صدقہ رب  تَعَالٰی  کے غضب کو بجھاتا ہے۔

        ایک اور حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا الصَّدَقَۃُ؟ قَالَ :  ’’أَضْعَافٌ مُّضَاعَفَۃٌ، وَعِنْدَ اللّٰہِ الْمَزِیْدُ‘‘، ثُمَّ قَرَأَ :

’’(مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ      ) (البقرۃ : ۲؍۲۴۵)

حضرت ابی امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، ابو ذر نے عرض کی یارسول  اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصدقہ کیا ہے؟ فرمایا، وہ چند در چند (دُونا دون) ہے اور  اللہ  کے ہاں زیادتی علاوہ ہے پھر تلاوت فرمائی، ہے کوئی جو  اللہ  کو قرض حسن دے تو  اللہ  اُس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے (کنزالایمان)   

قِیْلَ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ :  ’’سِرٌّ إِلٰی فَقِیْرٍ أَوْ جُھْدٌ مِّنْ مُقِلٍّ‘‘، ثُمَّ قَرَأَ :  (اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ    )‘‘ [1]؎   (البقرۃ : ۲؍۲۷۱) الآیۃ۔

 تو عرض کی گئی یا رسول  اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکونسا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا، چھپا کر فقیر کو دیا جائے یا محنت کی کمائی کا ہو پھر تلاوت فرمائی، اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے (کنزالایمان) ۔

        چند در چند، ’’اس جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ صدقہ کی برکتیں دنیا میں تو چند در چند ہیں ، اور کل قیامت میں جو زیادتیاں ہونگی وہ ہمارے حساب سے وراء ہیں رب  تَعَالٰی  فرماتا ہے :     (یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ  ) (البقرۃ : ۲/۲۷۶) (ترجمہ :   اللہ  ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو(کنزالایمان)) تجربہ بھی ہے کہ صدقہ سے مال بہت بڑھتا ہے دوسرے یہ کہ قیامت میں صدقہ کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہے، اور جو زیادتیاں رب عطا فرمائے گا، وہ حساب سے زیادہ ہیں ، رب  تَعَالٰی  فرماتا ہے :  (وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ  ) (البقرۃ : ۲/۲۶۱) (ترجمہ :  اور  اللہ  اس سے زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے (کنزالایمان))‘‘۔ [2]؎

        سات قسم کے لوگوں کو  اللہ   تَعَالٰی  اپنے سایۂ رحمت میں رکھے گا، چنانچہ :

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمََ

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، میں نے حضورپاک، صاحب لولاک، سیّاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے سُنا،     

یَقُوْلُ :  ’’سَبْعَۃٌ یُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِيْ ظِلِّہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلَّہُ :  الإِْمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِيْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللّٰہِ، اجْتَمَعَا عَلَیْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَیْہِ، وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَأَۃٌ ذَاتُ مَنْصَبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ :  إِنِّيْ أَخَافُ اللّٰہَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَأَخْفَاھَا حتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہُ مَا تُنْفِقُ یَمِیْنُہُ ، وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیاً فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ‘‘۔[3]؎   

 سات اشخاص وہ ہیں جنہیں  اللہ   تَعَالٰی  اس دن اپنے سایۂ رحمت میں رکھے گا جب اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، عادل بادشاہ، وہ جوان جو  اللہ  کی عبادت میں جوانی گزارے، وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں لگا رہے، وہ دو اشخاص جو  اللہ  کی رضا کے لئے محبت کریں ، جمع ہوں تو اسی محبت پر اور جدا ہوں تو اسی پر، اور وہ شخص جسے خاندانی حسین عورت (برائی کے لئے) بلائے وہ (شخص) کہے میں  اللہ  سے ڈرتا ہوں ، اور وہ شخص جو چھپ کر خیرات کرے حتی کہ اس کا بایاں ہاتھ نہ جانے کہ داہنا ہاتھ کیا دے رہا ہے، اور وہ شخص جو تنہائی میں  اللہ  کو یاد کرے تو اس کی آنکھیں بہیں ۔   

        مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ’’ اللہ   تَعَالٰی  اپنے سایہ میں رکھے گا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں ، ’’یعنی اپنی رحمت میں یا عرش اعظم کے سایہ میں تاکہ قیامت کی دھوپ سے محفوظ رہے‘‘۔

        عادل بادشاہ سے مرادہے وہ مومن بادشاہ اور حکّام جو رعایا میں انصاف کرتے ہیں ۔ کیونکہ دنیا ان کے سایہ میں رہتی تھی لہٰذا یہ قیامت میں رب  تَعَالٰی  کے سایۂ رحمت میں رہے گا۔ یہ ان تمام سے افضل ہے اس لئے اس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ عادل حکّام بھی اس بشارت میں داخل ہیں ‘‘۔

         ’’ جو اللہ  کی عبادت میں جوانی گزارے  ‘‘ کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، ’’یعنی جوانی میں گناہوں سے بچے اور رب کو یاد رکھے چونکہ جوانی میں اعضاء قوی اور نفس گناہوں کی طرف مائل ہوتا ہے اس لئے اس زمانہ کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے،

 



2    (مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الحدیث :  ۱۹۲۸، ج۱، ص۳۶۵)

(مجمع الزوائد، باب أي الصدقۃ أفضل، ج۳، ص۱۱۵)

3     (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۱۱۶)

4     (المؤطا للإمام مالک، کتاب الشعر، باب ما جاء في التحاربین في اللّٰہ، الحدیث :  ۱۷۷۷، ص۵۳۱)

(صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ وفضل المسجد، الحدیث :  ۶۶۰، ج۱، ص۱۶۰)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ، الحدیث :   ۹۱۔(۱۰۳۱ص۳۷۰)

(سنن الترمذي، کتاب الزھد، باب ما جاء في الحبّ في اللّٰہ، الحدیث :  ۲۳۹۱، ج۳، ص۳۲۸)

=          (سنن النسائي، کتاب آداب القُضاۃِ، باب الإمام العادل، الحدیث :  ۵۳۸۰، ج۴، الجزء الثامن، ص۶۱۳)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث :  ۷۰۱، ج۱، ص ۱۴۸)

(تاریخ مدینۃ الدمشق لابن عساکر، ج ۵، ص۲۱۵)   (تلخیص الحبیر للإمام العسقلاني، باب صدقۃ التطوع، الحدیث :  ۱۴۲۸، ج۳، ص۱۱۴۔۱۱۵)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن