30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پچاس ہزار درہم ملے تو انہوں نے تھیلیاں بھر بھر کر اپنے بھائیوں کو تقسیم کردیں اور فرمایا کہ میں نماز میں اللہ تَعَالٰی سے اپنے بھائیوں کے لئے جنت کا سوال کیا کرتا تھا تو مال میں ان سے بخل کیوں کروں ؟ [1]؎
اللہ تبارک و تَعَالٰی خُفیہ خیرات کرنے والوں کی یوں تعریف بیان فرماتا ہے :
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ-وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْؕ الآیۃ (البقرۃ : ۲؍۲۷۱)
ترجمہ کنزالایمان : اگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے۔
’’صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص سے اللہ کے لئے دیا جائے اور ریا سے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں ، مسئلہ : لیکن صدقہ فرض کا ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کا چھپا کر۔ مسئلہ : اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لئے ظاہر کرکے دے تو یہ اظہار بھی افضل ہے (مدارک)‘‘۔ [2]؎
امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ علانیہ طور پر صدقہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں ، ظاہری طور پر دینا اس جگہ مناسب ہے جہاں حال کا تقاضا یہی ہو کہ علانیہ دیا جائے اور اس کی حکمت یا تو دوسرے لوگوں کو ترغیب دلانا ہوگی یا اس لئے ظاہر کیا جائے گا کہ مانگنے والے نے لوگوں کے ہجوم میں مانگا۔ لہٰذا ایسے وقت علانیہ دینے کی وجہ سے جس ریا کے پیدا ہونے کا خوف متوقع ہے، اس کے باعث صدقہ دینے سے اجتناب مناسب نہیں بلکہ صدقہ دے اورجس قدر ممکن ہو خودکو ریاکاری سے بچائے اور یہ اس لئے ہے کہ علانیہ دینے میں احسان جتانے اور ریاکاری کے علاوہ ایک اور تیسری بات بھی ممنوع ہے اور وہ فقیر کا پردہ کھولنا ہے کیونکہ بسا اوقات محتاجی کی صورت میں نظر آنا اس کے لئے تکلیف کا موجب ہوتا ہے البتہ جو سوال کرتا ہے تو اس نے تو اپنا پردہ خود ہی کھول دیا، لیکن علانیہ دینے میں یہ تیسری خرابی ممنوع نہ رہے گی جیسا کہ ایک شخص کے پوشیدہ گناہ کو ظاہر کرنا ممنوع ہے اور اس کے تجسس میں لگنا اور اس کے تذکرہ کو معمول بنالینا بھی ممنوع ہے۔ مگر جو آدمی (خود) علانیہ فسق کرتا ہے تو اس پر حد قائم کرنا ظاہر کرنا ہی ہے لیکن اس کا سبب وہ خود ہے اسی کی مثل رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، جو آدمی حیا کا لبادہ پھینک دے اس کی غیبت، غیبت نہیں ۔[3]؎
ایک اور مقام پر امام غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، جہاں تک اذیت پہنچانے کا تعلق ہے تو اس کی ظاہری صورتیں یہ ہیں : سائل کو جھڑکنا، اسے عار دلانا، سخت کلامی، تُرش روئی سے پیش آنا ، صدقے کوجتا کر سائل کی عزت پامال کرنا، اسی طرح دیگر وہ ذرائع اختیار کرنا جس کے سبب لوگوں میں اس سائل کا وقار مجروح ہو۔
اور باطنی اذیت کا منبع دو باتیں ہیں ، ایک یہ کہ مال کا اپنے ہاتھ سے نکل جانا اس پر شدید ناگوار گزرتا ہے اورلامحالہ یہ بات مخلوق کے لیے تنگی کا سبب ہے۔
دوسری یہ کہ وہ اپنے آپ کو سائل سے بہتر خیال کرتاہے اور اس کی محتاجی کی وجہ سے اسے خود سے کم تر سمجھتا ہے ۔یہ دونوں باتیں جہالت پر مبنی ہیں کیونکہ صدقہ کامال فقیر کے حوالے کرنے کو ناپسندکرنا حماقت ہے اس لئے کہ جو ایک ہزار درہم کی چیز پر ایک درہم خرچ کرنے کو پسند نہ کرے تو وہ نرا احمق ہے۔ جبکہ خرچ کرنے والا اپنامال یا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا اور دارِ آخرت میں ثواب پانے کے لئے خرچ کرے گا اوریہ سب سے افضل ہے، یا اپنے نفس کو بخل کی گندگی سے پاکیزہ کرنے یاپھر نعمتوں کے شکرانے کے طورپر خرچ کرے گا تاکہ اس پر نعمتیں زیادہ ہوں ۔ ان میں سے کسی بھی نیت کے ساتھ مال خرچ کرنے میں ناپسندیدگی کی کوئی وجہ نہیں ۔[4]؎
قرآن مجید میں ہے :
وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ الآیۃ (النساء : ۴؍۳۸)
ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچ کرتے ہیں
بخل کے بعد صرفِ بیجا کی بُرائی بیان فرمائی کہ جو لوگ محض نمود و نمائش اور نام آوری کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رضائے الٰہی انہیں مقصود نہیں ہوتی جیسے کہ مشرکین و منافقین یہ بھی انہیں کے حکم میں ہیں ۔ [5]؎
حضرت سفیان فرماتے ہیں ، جو شخص احسان جتائے اس کا صدقہ فاسد ہوجاتا ہے، عرض کی گئی : احسان جتانا کسے کہتے ہیں ؟ فرمایا اسکا تذکرہ کرنا اور اسکا بیان کرنا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احسان جتانا دے کر خدمت لینا بھی ہے اور فقیر کو اسکی محتاجی پر عار دلانا اذیت ناک ہوتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دئیے ہوئے مال کی وجہ سے بڑائی مارے تو یہ بھی احسان جتانا ہے اور مانگنے پر جھڑک دینا اور بے عزتی کرنا اذیت پہنچانا ہے۔[6]؎
حدیث شریف میں ہے :
عَنْ بَھْزِبْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’إِنَّ صَدَقَۃَ السِّرِّ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ‘‘۔[7]؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع