30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَعَیَالِيْ ثُلُثاً، وَأَرُدُّ فِیْھَا ثُلُثَہُ‘‘۔[1]؎
بولا کہ میں نے اُس بادل میں جس کا یہ پانی ہے، ایک آواز سُنی تھی کہ کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو، تَو تُو اس میں کیا نیکی کرتا ہے وہ بولا کہ جب تو پوچھتا ہے تو بتاتا ہوں کہ میں اس باغ کی پیداوار میں غور کرتا ہوں تہائی توخیرات کردیتا ہوں اور تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں اور تہائی اس میں دوبارہ خرچ کردیتا ہوں ۔
’’سبحان اللہ اس نیک بندے کی کیسی عزّت افزائی کی گئی کہ پانی ایک پتھریلے علاقہ پر برسایا گیا، پھر اُسے ایک نالی میں جمع کیا گیا، اُس نالی کے ذریعہ اس کے باغ میں پانی پہنچایا گیا خود بادل اس باغ پر نہ برسایا گیا، جیسے کہ وہ گنہگار جو ایک بستی میں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ میں مرگیا رب تَعَالٰی نے حکم دیا کہ یہ جس بستی سے قریب ہوا اسی کے احکام اس پر جاری کئے جائیں ، ناپا گیا تو بالکل بیچ میں تھا۔ تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی گئی، خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے، اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفیل پانی مل گیا ہوگا‘‘۔[2]؎
حضرت واقد بن محمد واقدی فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انہوں نے خلیفہ مامون کو ایک رقعہ لکھا جس میں لکھا کہ مجھ پر بہت زیادہ قرض ہے اور اب مجھ سے صبر نہیں ہوسکتا مامون نے رقعہ کی پشت پر لکھا کہ تم ایسے آدمی ہو جس میں دو خصلتیں یعنی سخاوت اور حیا جمع ہیں ۔ سخاوت نے تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں چھوڑا اور حیا کی وجہ سے تم نے اپنی حالت ہم سے بیان نہیں کی لہٰذا میں تمہارے لئے ایک لاکھ درہم کا حکم دیتا ہوں اگر میری یہ کارروائی ٹھیک اور مناسب ہے تو خوب ہاتھ پھیلاؤ (سخاوت کرو) اور اگر ٹھیک نہ ہو تو تمہارا اپنا قصور ہے تم ہارون الرشید کے زمانے میں قاضی تھے تو تم نے مجھے ایک حدیث سنائی تھی کہ حضرت محمد بن اسحٰق نے حضرت زہری سے انہوں نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا،
اے زبیر! جان لو بے شک بندوں کے رزق کی چابیاں عرش کے بالمقابل ہیں اللہ تَعَالٰی ہر بندے کے خرچ کے مطابق اس کی طرف بھیجتا ہے جو زیادہ خرچ کرتا ہے اسے زیادہ دیتا ہے اور جو کم خرچ کرتا ہے اس کی طرف کم بھیجتا ہے۔
اور آپ جانتے ہیں ، واقدی نے فرمایا اللہ کی قسم مامون کا مجھ سے حدیث کے بارے میں ذکر کرنا اس انعام سے جو ایک لاکھ درہم پر مشتمل ہے، زیادہ پسندیدہ ہے۔[3]؎
سخاوت جنت کا درخت ہے، چنانچہ :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’السَّخَاءُ شَجَرَۃٌ فِي الْجَنَّۃِ، فَمَنْ کَانَ سَخِیّاً أَخَذَ بِغُصْنٍ مِّنْھَا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔ وَالشُّحُّ شَجَرَۃٌ فِي النَّارِ، فَمَنْ کَانَ شَحِیْحاً أَخَذَ بِغُصْنٍ مِّنْھَا، فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہُ النَّارَ‘‘۔[4]؎
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑلی وہ شاخ اُسے نہ چھوڑے گی حتی کہ اُسے جنت میں داخل کردے گی اور بخل آگ میں درخت ہے جو بخیل ہوا اُس نے اسکی شاخ پکڑی وہ اُسے نہ چھوڑے گی حتی کہ آگ میں داخل کرے گی
’’یعنی سخاوت کی جڑ جنت میں ہے اور اس کی شاخیں دنیا میں ، چونکہ سخاوت کی قسمیں بہت ہیں اسلئے فرمایا گیا کہ اس درخت کی دنیا میں شاخیں بہت پھیلی ہوئی ہیں ، جیسے قرآن کریم فرماتا ہے کہ کلمہ طیبہ کی جڑ مسلمان کے قلب میں ہے اور شاخیں آسمان میں ہمیشہ اپنے پھل دیتا ہے اس آیت میں بھی تمثیل ہے اس حدیث میں بھی‘‘۔
’’شریعت میں سخاوت کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان فرض صدقے ادا کرے، اور طریقت میں ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ صرف فرض پر قناعت نہ کرے نوافل صدقے بھی دے، حقیقت و معرفت والوں کے ہاں اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دے ان میں سے ہر درجہ کے صدقہ کے نتیجے مختلف ہیں ‘‘۔[5]؎
حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا گیا کہ سخاوت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا، سخاوت یہ ہے کہ تو اللہ تَعَالٰی کے راستے میں اپنا مال خرچ کرے ۔[6]؎
حضرت امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں عقل سے زیادہ مددگار کوئی مال نہیں جہالت سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں مشورہ سے بڑھ کر کوئی پشت پناہ نہیں سنو! اللہ تَعَالٰی نے فرمایا میں جواد و کریم ہوں کسی بخیل کے لیے مجھ سے راہ فرار نہیں اور بخل کفر (ناشکری) سے ہے اور کفار (نافرمان) جہنم میں جائیں گے جب کہ جوُد وکرم ایمان کا حصہ ہے اور اہلِ ایمان جنت میں جائیں گے۔
حضرت حذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں بہت سے دین میں نافرمانی کرنے والے جو اپنی معیشت میں تنگی کا شکار ہوتے ہیں لیکن وہ سخاوت کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔[7]؎
حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا گیا کہ سخاوت کسے کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا (مسلمان) بھائیوں سے نیکی کا سلوک کرنا اور مال عطا کرنا سخاوت ہے فرمایا میرے والد ماجد کو وراثت میں
4 (شعب الإیمان، باب في الجود والسخاء، الحدیث : ۱۰۸۷۷، ج۷، ص۴۳۵)
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک، الفصل الثالث، الحدیث : ۱۸۸۶، ج۱، ص۳۵۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع