30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا، اگر تیرے پاس دنیا آجائے تو اسے خرچ کر اس لئے کہ خرچ کیا ہوا فنا نہیں ہوگا اور اگر دنیا تجھ سے دور ہوجائے پھر بھی اسے خرچ کرنے سے دریغ نہ کرنا کیوں کہ وہ باقی نہیں رہے گی ۔[1]؎
حضرت معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت امام حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروّت، بہادری اور کرم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواباً فرمایا مروّت یہ ہے کہ انسان اپنے دین کی حفاظت کرے نفس کو بچا بچا کر رکھے مہمان کی مہمان نوازی اچھی طرح کرے اور اگر جھگڑے اور مکروہ کام میں داخل ہونا پڑے تو اچھے طریقے اختیار کرے۔ دلیری اور بڑائی یہ ہے کہ ہمسایہ کی مصیبت دور کرے اور صبر کی جگہوں میں صبر کرے، اور کرم یہ ہے کہ کسی کے مانگنے سے پہلے خود اپنی طرف سے نیکی کا سلوک کرے، ضرورت مند کو کھانا کھلائے اور سائل کو کچھ دینے کے ساتھ ساتھ اس سے مہربانی اور رحمت کا سلوک کرے۔[2]؎
اور رحمت کا سلوک کرنے کے متعلق امام غزالی بہت اچھی حکایت بیان کرتے ہیں :
ایک شخص نے حضرت امام حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں ایک درخواست پیش کی آپ نے فرمایا تمہاری حاجت پوری کردی گئی عرض کیا گیا اے نواسۂ رسول! آپ اس کا رقعہ پڑھتے اور پھر اس کے مطابق جواب دیتے آپ نے فرمایا وہ میرے سامنے ذلت کے ساتھ کھڑا رہتا تو پھر اس کے بارے میں اللہ تَعَالٰی مجھ سے پوچھتا۔[3]؎
سُبْحٰنَ اللہِ! معنی یہ ہیں کہ امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے خشیتِ الٰہی کو اپنے مال پر مقدَّم رکھا اور اسی میں فلاح ہے کہ مال کی محبت اللہ کی محبت پر غالب نہیں آنی چاہئے۔
مال سے اگرچہ گردنیں خریدی جاسکتی ہیں مگر دل نہیں ! چنانچہ :
حضرت ابن سماک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو مال خرچ کرکے غلام خریدتا ہے لیکن نیکی کے ذریعہ لوگوں (کے دلوں ) کو نہیں خریدتا۔[4]؎
کسی دیہاتی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ اس نے کہا وہ شخص جو ہماری گالیوں کو برداشت کرے ہمارے مانگنے والوں کو عطا کرے اور ہمارے جاہلوں سے درگزر کرے۔[5]؎
حضرت علی بن حسین (امام زین العابدین)رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں جو شخص مانگنے والوں کو دیتا ہے وہ سخی نہیں ہے بلکہ سخی وہ ہے کہ جو اللہ تَعَالٰی کی اِطاعت کرنے والوں کے سلسلے میں اللہ تَعَالٰی کے حقوق کو خود بخود پورا کرتا ہے۔ اور شکریہ کی لالچ نہیں رکھتا کیونکہ وہ مکمل ثواب کے حصول کا یقین رکھتا ہے۔[6]؎
اسی طرح ایک اور حدیث میں راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خرچ کرنے کی تلقین کی گئی ہے :
عَنْ أُمِّ بُجَیْدٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھَا أَنَّھَا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنَّ الْمِسْکِیْنَ لَیَقُوْمُ عَلٰی بَابِيْ فَمَا أَجِدُ لَہُ شَیْئاً أُعْطِیْہِ إِیَّاہُ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنْ لَّمْ تَجِدِيْ شَیْئاً تُعْطِیْنَہُ إِیَّاہُ إِلَّا ظِلْفاً مُحْرَقاً فَادْفَعِیْہِ إِلَیْہِ فِيْ یَدِہِ‘‘۔[7]؎
حضرت ام بجیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے فرماتی ہیں ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیرے دروازے پرکوئی مسکین آتا ہے اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز نہیں پاتی تو ان سے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، اگر تمہارے پاس اُسے دینے کے لئے جلے ہوئے کُھر کے سوا کچھ نہ ہو تو وہی اسے دیدو۔ یعنی کوشش ہونی چاہئے کہ خالی ہاتھ نہ لوٹے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت احنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے ہاتھ میں درہم تھا انہوں نے پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا ہے انہوں نے فرمایا اس وقت ہوگا جب تیرے ہاتھ سے نکل جائے گا اسی مفہوم میں کہا گیا ہے۔
أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَکْتَہٗ
فَإِذَا أَنْفَقْتَہٗ فَالْمَالُ لَکَ
یعنی، جب تک تو مال کو روک کر رکھے تو تُو مال کا ہے اور جب تو اسے خرچ کردے تو مال تیرا ہے۔[8]؎
اللہ والے اس کی راہ میں خرچ کرنے کو ہی پسند کرتے ہیں اسی لئے خرچ کرنے کے بعد بھی دیا ہوا کم لگتا ہے، چنانچہ :
عبد الملک بن مروان نے حضرت اسماء بن خارجہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے کہا کہ مجھے آپ کی چند اچھی عادات کی خبر پہنچی ہے مجھ سے بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ میرے بجائے کسی دوسرے آدمی سے سنتے تو زیادہ بہتر ہوتا عبد الملک نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ ہی مجھے سنائیں ۔
8 (المؤطا للإمام مالک، کتاب صفۃ النبي صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، باب ما جاء في المسکین، الحدیث : (۱۷۱۴)۔۸، ج۱، ص۵۱۵)
(سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب حق السائل، الحدیث : ۱۶۶۷، ج۲، ص۲۱۰)
(سنن الترمذي، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في حق السائل، الحدیث : ۶۶۵، ج۱، ص۴۷۸۔۴۷۹)
(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب رد السائل، الحدیث : ۲۵۶۴، الجزء۵، ج۳، ص۸۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع