دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

طلاق دو، تمہارا خادم جو کہے کہ مجھے کھانا کھِلاؤ اور مجھ سے کام لو، اور تمہارا بیٹا جو کہے مجھے کس کے رحم و کرم پر چھوڑ تے ہو؟

        ایک شخص اپنے دوست کے دروازے پر گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا اس نے پوچھاکیسے آنا ہوا؟ اس نے کہا مجھ پر چار سو درہم قرض ہیں اس نے چار سو درہم تول کر اس کے حوالے کردئیے اور روتا ہوا واپس آیا بیوی نے کہا اگر تجھے ان درہموں کا دینا شاقّ تھا تو نہ دیتے اس نے کہا میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ مجھے اس کا حال اس کے بتائے بغیر معلوم نہ ہوسکا حتی کہ وہ میرا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوا۔[1]؎   

        ایک اور حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ :  ’’جَھْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ‘‘۔[2]؎

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، انہوں نے عرض کیا، یا رسول  اللہ  کونسا صدقہ زیادہ بہتر ہے؟ فرمایا غریب آدمی کی مشقت  اور (دینے میں ) ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۔

        جہدِ مقلّ کی شرح میں علامہ بدر الدین عینی حنفی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں جہد المقلّ جیم کے ضمّہ (پیش) کے ساتھ قلیل مال کی مقدار مراد ہے یہ بھی معنی ہیں کہ وسعت اور طاقت مراد ہے اور جیم کے فتحہ (زبر) کے ساتھ مشقت مراد ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ افضل صدقہ غریب کی مشقت کی کمائی کا ہے یا غریب آدمی کی مشقت کی کمائی افضل صدقہ ہے۔[3]؎

        ’’یعنی غریب آدمی محنت مزدوری کرے پھر اس میں سے خیرات بھی کرے، اس کا بڑا درجہ ہے خیال رہے کہ بعض لحاظ سے غنی کی خیرات افضل ہے جبکہ وہ توکّل میں کامل نہ ہو اور بعض لحاظ سے فقیر کی خیرات افضل ہے جب کہ وہ اور اس کے گھر والے صبر و توکل میں کامل ہوں ۔ لہٰذا یہ حدیث (اُس حدیث) کے خلاف نہیں کہ صدقۂ غنٰی (یعنی غنی ہوتے ہوئے صدقہ کرنا) بہتر ہے خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہاتھ کا فقیر دل کا غنی تھوڑی سی خیرات کرلے تو ہاتھ کے غنی کی بہت سی خیرات سے افضل ہے لہٰذا وہاں غنی والی حدیث میں دل کی غنا مراد ہوسکتی ہے تب بھی احادیث میں تعارض نہیں ‘‘۔

        ’’کوئی شخص اپنے بال بچوں کو بھوکا رکھ کر خیرات نہ کرے، پہلے اُن کا پیٹ بھرو، تن ڈھکو، پھر خیرات کرو یہ مطلب نہیں کہ اپنی زکوٰۃ پہلے اپنے بال بچّوں کو دو، پھر دوسروں کو، کیونکہ اپنی زکوٰۃ اپنی اولاد اور بیوی پر نہیں لگتی‘‘۔[4]؎

        مروی ہے کہ حضرت طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ذمہ حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پچاس ہزار درہم تھے ایک دن حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسجد کی طرف تشریف لے گئے تو حضرت طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا آپ کا مال تیار ہے قبضہ کیجئے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا میں نے آپ کو دے دئیے تاکہ آپ کو مروّت (سخاوت) پر مدد حاصل ہو۔

        حضرت سُعْدٰی بنت عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں میں حضرت طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس حاضر ہوئی تو ان کی طبیعت کو بوجھل دیکھ کر پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا میرے پاس مال جمع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے میں غمگین ہوں میں نے پوچھا آپ کو کیا غم ہے اپنی قوم کو بلا کر تقسیم کردیں چنانچہ انہوں نے اپنے غلام کو بھیج کر اپنی قوم کو بلایا اور وہ مال ان میں تقسیم کردیا میں نے خادم سے پوچھا کہ کتنا مال تھا؟ اس نے کہا چار لاکھ۔[5]؎   

        حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’سَبَقَ دِرْھَمٌ مِائَۃَ أَلْفِ دِرْھَمٍ، قَالُوْا :  وَکَیْفَ؟ قَالَ :  ’’کَانَ لِرَجُلٍ دِرْھَمَانِ تَصَدَّقَ بِأَحَدِھِمَا، وَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلٰی عُرْضِ مَالِہِ فَأَخَذَ مِنْہُ مِائَۃَ أَلْفِ دِرْھَمٍ فَتَصَدَّقَ بِھَا‘‘۔[6]؎

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، ایک درہم ایک لاکھ درہم سے سبقت لے گیا، صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی، وہ کیسے؟ فرمایا (وہ یوں ) کہ ایک شخص کے پاس فقط دو درہم تھے اس نے ان میں سے ایک درہم صدقہ کردیا اورایک (مالدار) شخص اپنے مال کی طرف گیا اور اس میں سے   اس نے ایک لاکھ درہم لے کر صدقہ کر دیا۔

        کیونکہ مالدار شخص نے اگرچہ پہلے کی بانسبت ایک لاکھ گُنا زیادہ صدقہ کیا مگر اس کے ایک لاکھ پر پہلے شخص کا ایک درہم غالب آگیا، وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنا نصف مال راہِ خدا میں صدقہ کیا جبکہ مالدار نے نصف سے کم کیا۔

        چنانچہ علامہ سندھی فرماتے ہیں ، حدیث کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اجر، دینے والے کے حال کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ مال کے۔ کہ دو درہم والے نے اپنا نصف مال دیا جبکہ غنی نے (اگرچہ ایک لاکھ درہم دئیے مگر) نصف سے کم دیا تھا۔[7]؎   

 



3      (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان فضیلۃ السخاء، حکایات الأسخیائ، ج۳، ص۳۳۷)

4      (سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب في الرخصۃ في ذلک، الحدیث :  ۱۶۷۷، ج۲، ص۲۱۳)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب أفضل الصدقۃ، الفصل الثاني، الحدیث : ۱۹۳۸، ج۱، ص۳۶۸)

5      (شرح سنن أبي داود للعیني، کتاب الزکاۃ، باب في الرخصۃ في ذلک، ج۶، ص۴۳۱، مکتبۃ الرشد، المملکۃ العربیۃ )

6      (مرآۃ المناجیح، ج۳، ص۱۲۲)

7      (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان فضیلۃ السخائ، حکایات الأسخیائ، ج۳، ص۳۳۷)

8      (سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب جھد المقل، الحدیث :  ۲۵۲۶، الجزئ۵، ج۳، ص۶۲)

1      (حاشیۃ العلامۃ السندي علی سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب جھد المقل، الحدیث :  ۲۵۲۶، الجزئ۵، ج۳، ص۶۲)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن