30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لہٰذا باغ بھی یہ ہی ہوا، وہ کنواں اب تک موجود ہے (حکیم الامّت مفتی احمد یار خاں صاحب نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ) فقیر نے اُس کا پانی پیا ہے، دوسرے یہ کہ بیر حاء بروزن فعیل ہے ایک ہی لفظ ہے براح سے مشتق بمعنی کھلی زمین، پہلی صورت میں اس کے معنی ہوں گے حاء کا کنواں ، دوسری صورت میں معنی ہونگے کھُلا باغ۔
حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بھی یہاں کا پانی بہت محبوب تھا، اسی لئے حجاج باخبر ضرور اس کا پانی برکت کے لئے پیتے ہیں ۔
حضرت ابو طلحہ کے اس عرض و معروض کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپکے اس عمل خیر پر گواہ ہوجائیں اور مسلمانوں میں اس وقف کا اعلان ہوجائے۔ خیال رہے کہ دوسرے نفلی صدقات اکثر خفیہ دینا بہتر ہیں مگر وقف کا ہر طرح اعلان کردینا سخت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس موقوف چیز پر کوئی قبضہ نہ کرسکے حتّٰی کہ مسجد کی عمارت میں مینار گُنبد وغیرہ ایسے نشانات قائم کردئیے جائیں جس سے وہ دُور سے ہی مسجد معلوم ہو اس میں ریا نہیں بلکہ وقف کا باقی رکھنا ہے نیز آپ کا اپنا دلی اخلاص ظاہر کرنا ریاء کے لئے نہ تھا بلکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دعا حاصل کرنے کے لئے تھا لہٰذا حدیث پاک پر کوئی اعتراض نہیں ۔
اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں باغ پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجہاں چاہیں اس باغ کی آمدنی لگا دیں کہ وہاں خرچ ہوتی رہے چونکہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا چاہنا اپنے نفس کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ رب تَعَالٰی کی طرف سے ہوتا ہے اسی لئے اس طرح عرض کیا حَیْثُ أَرَاکَ اللّٰہُ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماپنے صدقے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دست مبارک سے خرچ کراتے تھے تاکہ اس ہاتھ کی برکت سے قبول ہوجائیں ، رب تَعَالٰی فرماتا ہے : (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا)((التوبۃ : ۹/۱۰۳) ترجمہ : اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل کرو جس سے تم اُنہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو (کنزالایمان))یعنی آپ ان کے مالوں کے صدقے وصول فرمالیں اور ان کے ذریعہ انہیں پاک و صاف فرمادیں آج مسلمان ختم وفاتحہ میں عرض کرتے ہیں نذر اللہ ، نیاز رسول اللہ اس کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے‘‘۔[1]؎عربی میں نہایت خوشی کے وقت کہا جاتا ہے بَخْ بَخْ یعنی خوب خوب، رَابِحٌ، رِبْحٌ سے بنا بمعنی نفع، رب تَعَالٰی فرماتاہے : (فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ) ((البقرۃ : ۲/۱۶) ترجمہ : تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا(کنزالایمان))یعنی (حدیث شریف میں جو تذکرہ ہواکہ) یہ مال بہت نفع والا ہے جیسے لابن دودھ والا اور تامر چھواروں والا یعنی اے ابو طلحہ تمہیں اس باغ کے وقف سے بہت نفع ہوگا معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اعمال کی قبولیت کی بھی خبر ہے اور یہ بھی کہ کس کا کونسا عمل کس درجہ کا قبول ہے یہ باغ کیوں قبول نہ ہوتا باغ بھی اچھا تھا وقف کرنے والے بھی اچھے یعنی صحابی اور جن کی طفیل وقف کیا گیا وہ اچھوں کے شہنشاہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس باغ کو اہلِ قرابت کے لئے وقف کرنے کا فرمایا، یعنی اپنے عزیز و اقارب فقراء کو اس کا مَصرف بنادو کہ ہمیشہ وہ اس کی آمدنی کھایا کریں تاکہ تمہیں صدقہ کے ساتھ اہل قرابت کے حقوق ادا کرنے کا بھی ثواب ملتا رہے خیال رہے کہ بعض اوقاف وہ ہوتے ہیں جن سے امیر و غریب حتی کہ وقف کرنیوالا بھی نفع حاصل کرسکتا ہے جیسے کنواں ، مسجد، قبرستان، مسافرخانہ‘‘۔[2]؎
حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں میں ہمیشہ حضرت حماد بن ابی سلیمان سے محبت کرتا ہوں کہ ان کی طرف سے مجھے ایک بات پہنچی ہے وہی اس محبت کا باعث ہے وہ یہ کہ وہ ایک دن اپنے دراز گوش پر سوار تھے انہوں نے اسے حرکت دی تو اس کا تسمہ ٹوٹ گیا وہ ایک درزی کے پاس سے گزرے تو ارادہ کیا کہ اتر کر اس تسمے کو ٹھیک کروائیں درزی نے قسم دے کر کہا کہ آپ نہ اتریں چنانچہ اس نے خود ہی کھڑے ہوکر تسمہ درست کردیا انہوں نے ایک تھیلی نکالی جس میں دس دینار تھے اور وہ درزی کے حوالے کردی اور معذرت کی کہ یہ رقم کم ہے حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہ شعر پڑھے :
یَالَھْفَ قَلْبِیْ عَلٰی مَالٍ أَجُوْدُ بِہٖ
عَلٰی الْمُقِلِّیْنَ مِنْ أَھْلِ الْمُرُوْ ءَ ا تِ
إِنَّ اعْتِذَارِيْ إِلٰی مَنْ جَائَ یَسْأَلُنِيْ
مَا لَیْسَ عِنْدِيْ لَمِنْ اِحْدَی الْمُصِبْیَاتِ
میرا دل اس مال پر افسردہ ہے جسے میں اہل مروت پر خرچ کرتاہوں اور جو میرے پاس آکر مجھ سے وہ چیز مانگتا ہے جو میرے پاس نہیں تو اس سے میرا معذرت کرنا یہ بھی میرے لیے ایک مصیبت ہے ۔[3]؎
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَقَالَ : ’’خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَھْرِ غِنًی، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ‘‘، قَالَ : وَمَنْ أَعُوْلُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ : ’’امْرَأَتُکَ تَقُوْلُ : أَطْعِمْنِيْ إِلَّا فَارَقْنِيْ، خَادِمُکَ یَقُوْلُ : أَطْعِمْنِيْ وَاسْتَعْمِلْنِيْ، وَلَدُکَ یَقُوْلُ : إِلٰی مَنْ تَتْرُکُنِيْ‘‘۔[4]؎
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت فرماتے ہیں ، کہ آپ نے فرمایا، بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد محتاجی نہ پیدا ہواور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کرنے میں ان سے ابتدا کر جو تیرے زیرِ کفالت ہیں ، راوی نے عرض کی، میری کفالت میں کون ہیں یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری بیوی جو کہے کہ مجھے کھانا کھِلاؤ ورنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع