30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’کُلُّ قَرْضٍ صَدَقَۃٌ‘‘۔[1]؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، ہر قرض صدقہ ہے۔
علامہ شیخ نظام الدین حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متوفی ۱۱۶۱ھ فرماتے ہیں ، ھي تملیک المال من فقیر مسلم غیر ہاشمي، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن الملک من کل وجہ للّٰہ تعالی، ہذا في الشرع کذا في ’’التبیین‘‘۔[2]؎
یعنی، زکوٰۃ شرع میں اللہ کے لئے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے مسلمان فقیر کو مالک کردینا ہے اور فقیر نہ ہاشمی ہو نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اس سے بالکل جُدا کرلے۔(بہارِ شریعت، مسائل فقہیہ، حصہ۵، ص۷)
زکوٰۃ کی اقسام :
فرضیت اور وجوبیت کے اعتبار سے زکوٰۃ کی دو قسمیں ہیں ، چنانچہ امام علاء الدین ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ متوفی ۵۸۷ھ فرماتے ہیں ،
الزکاۃ في الأصل نوعان : فرض، وواجب؛ فالفرض زکاۃ المال، والواجب زکاۃ الرأس وھي صدقۃ الفطر۔ [3]؎
یعنی، زکوٰۃ کی دراصل دو قسمیں ہیں : ایک فرض اور دوسری واجب۔ جہاں تک فرض کا تعلق ہے تو وہ مال کی زکوٰۃ ہے اور رہی بات واجب کی تو وہ جان کا صدقہ ہے اور وہ صدقۂ فطر ہے۔
امام کاسانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ،
فالدلیل علی فرضیتہا الکتاب، والسنۃ والإجماع، والمعقول : أما الکتاب فقولہ تعالی : (وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ) (البقرۃ : ۲/۴۳)
وقولہ عَزَّ وَجَلَّ : (خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا) (التوبۃ : ۹/۱۰۳) وقولہ عَزَّ وَجَلَّ :
(وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌﭪ(۲۴) لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِﭪ(۲۵)) (المعارج : ۷۰/۲۴۔۲۵) الحق المعلوم ہو الزکاۃ۔
زکوٰۃ کی فرضیت کتاب اللہ ، سنتِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اِجماعِ اُمّت اور قیاس سے ثابت ہے۔ جہاں تک کتاب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا تعلق ہے تو اللہ تَعَالٰی کا فرمان ہے : ’’اور زکوٰۃ دو ‘‘ (کنزالایمان) اور : ’’اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃتحصیل کرو جس سے تم انہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو ‘‘(کنزالایمان)
اور : ’’اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے اس کے لئے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے ‘‘ (کنزالایمان) یہاں ’’معلوم حق ‘‘ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
امام کاسانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں ،
وأما السنّۃ : فما ورد في المشاہیر عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ واٰلہ وسلم : أنّہ قال : ’’بُنِيَ الإِْسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَھَادَۃِ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ، وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلاً‘‘، [4]؎ وروي عنہ ۔علیہ الصلاۃ والسلام۔ أنَّہ قال عام حجۃ الوداع : ’’اُعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَصُوْمُوْا شَھْرَکُمْ، وَحُجُّوْا بَیْتَ رَبِّکُمْ، وَأَدُّوْا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃً بِھَا أَنْفُسُکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ‘‘ [5]؎۔ [6]؎
یعنی، جہاں تک سنتِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا تعلق ہے تو جیسا کہ مشہور احادیث میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے وارد ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، اسلام کی بناء پانچ باتوں پر ہے، گواہی دینا کہ اللہ تَعَالٰی کے سواء کوئی معبود نہیں اور محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللہ تَعَالٰی کے رسول ہیں ، نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج ہر اس شخص پر جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور مروی ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے حجۃ الوداع والے سال فرمایا، اپنے رب کی بندگی کرو، اپنی پانچ نمازیں پڑھو، اپنے ماہ (رمضان) کے روزے رکھو، اپنے رب کے گھر کاحج کرو اور خوش دلی سے اپنے اموال کی زکوٰۃ دو اوراپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔
زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر کافر ہے
زکوٰۃ کی فرضیت قطعی ہے، اس کامنکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار اور مردود الشہادۃ ہے ۔ چنانچہ
علامہ نظام الدین حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع