دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

اللہ   تَعَالٰی  کی مِلک ہے میرے پاس چند روزہ ہے عارضی ہے خیال رہے کہ جسے انسان اپنا مال کہے اس کا مال یعنی انجام نِرا     وبال ہے اور جو مال ذریعہ عبادت ہے وہ ذریعہ آمال ہے جس سے بہت امیدیں وابستہ ہیں ۔

        حدیث شریف میں ’’اُس کے مال صرف تین ہیں ‘‘ سے مراد :  ’’یعنی جو مال انسان کے کام آویں (آئیں ) وہ صرف تین ہیں ان کے علاوہ سب دوسروں کے کام آتے ہیں ۔[1]؎   

        بصرہ کے قراء حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی خدمت میں حاضر ہوئے ان دنوں آپ بصرہ کے حاکم تھے انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پڑوس میں ایک شخص رہتا ہے جو روزہ دار اور رات کو نماز پڑھنے والا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس کی مثل ہونا چاہتا ہے اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنے بھتیجے کو دیا ہے اور وہ ایک فقیر آدمی ہے اس کے پاس بیٹی کو جہیز دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔

        حضرت عبد  اللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکھڑے ہوئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں گھر کے اندر لے گئے ایک صندوق کھولا اور اس سے چھ تھالیاں نکالیں اور فرمایا ان کو اٹھالو، انہوں نے وہ تھالیاں اٹھائیں تو آپ نے فرمایا ہم نے انصاف نہیں کیا ہم نے اسے جو کچھ دیا ہے وہ اسے رات کے قیام اور روزے سے دور کرے گا ہمارے ساتھ چلو ہم اس لڑکی کے جہیز کے سلسلے میں اس شخص کے مددگار بنیں دنیا کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ کسی مومن کو عبادتِ خداوندی سے روک دے اور ہم میں بھی اتنا تکبرنہیں ہے کہ ہم  اللہ   تَعَالٰی  کے دوستوں کی مدد نہ کریں چنانچہ آپ نے ان سب کے ساتھ مل کر جہیز تیار کرکے دیا۔[2]؎

        حدیث شریف میں ہے :

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

حضرت عبد  اللہ  بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، تم میں سے کِسے اپنے وارث کا وَسَلَّمَ :  ’’أَیُّکُمْ مَالُ وَارِثِہِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَّالِہِ‘‘؟، قَالُوْا :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُہُ أَحَبُّ إِلَیْہِ۔ قَالَ :  ’’فَإِنَّ مَالَہُ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِہِ مَا أَخَّرَ‘‘۔[3]؎

 مال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہے؟، صحابہ علیہم الرضوان نے عرض کی، یا رسول  اللہ  ہم میں سے ہر ایک کو اپنے وارث کی بنسبت اپنا مال زیادہ عزیز ہے، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، تو اُس کا مال وہ ہے جو آگے بھیج دے، اور اُس کے وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ جائے۔

        یعنی کون چاہتا ہے کہ میرے پاس مال نہ ہو میرے عزیزوں کے پاس مال ہو وہ سب امیر ہوں میں فقیر کنگال ہوں اس فرمان کا یہ مقصد ہے (اشعہ) لہٰذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض لوگوں کو دوسروں کا مال بڑا پسند ہوتا ہے یا یہ مقصد ہے کہ ایسا کون ہے جو دوسروں کا مال ان کے لئے سنبھال کر رکھے اپنا مال برباد کردے یا برباد ہونے دے۔

        خلاصہ یہ ہے کہ مال دوسروں کا ہے اعمال اپنے ہیں جو مال خیرات کردیا جائے وہ اعمال بن گیا اور جو جمع کرکے چھوڑ گیا وہ نِرا مال رہا۔ اور جس مال کی زکوٰۃ نہ دی وہ اپنے لئے وبال، وارثوں کے لئے مال ہوا، خیال رہے کہ مال سے صدقات وخیرات کرتے رہنا پھر  اللہ  ورسول کی رضا کے لئے وارثوں کو غنی کرنے کے لئے مال چھوڑنا یہ بھی عبادت ہے۔[4]؎

   

        حضرت ابو الحسن مدائنی فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن، حضرت امام حسین اور حضرت عبد  اللہ  بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحج کے لئے تشریف لے گئے راستے میں اپنے سامان سے بچھڑ گئے تو بھوک اور پیاس محسوس ہوئی اس دوران ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے خیمہ میں تھی فرمایا کیا پینے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے عرض کی جی ہاں ، وہ سواریوں سے اترے تو اس کے پاس خیمہ کے کنارے میں صرف ایک چھوٹی سی بکری تھی۔ اس خاتون نے کہا اس کو دَوہ کر اس کا دودھ نوش فرمائیں ۔ چنانچہ ان تینوں حضرات نے اسی طرح کیا پھر اس عورت سے فرمایا کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا اس بکری کے سوا کچھ نہیں آپ میں سے کوئی ایک اسے ذبح کردے تاکہ میں آپ کے کھانے کے لئے اسے تیار کروں تینوں حضرات میں سے ایک کھڑے ہوئے اور اسے ذبح کرکے اس کی کھال اتاری پھر اس نے ان کے لئے کھانا تیار کیا تینوں حضرات نے کھایا اور دھوپ کی شدت کم ہونے تک ٹھہرے رہے جب جانے لگے تو فرمایا ہم قریش کے لوگ ہیں حج کے لئے جارہے ہیں اگر صحیح سلامت واپس آگئے تو ہمارے پاس آنا ہم تم سے اچھا سلوک کریں گے۔ پھر چلے گئے اس عورت کا خاوند آیا تواس نے ان حضرات اور بکری کا معاملہ ذکر کیا اس شخص کو غصّہ آیا اس نے کہا تیرے لئے ہلاکت ہو تو نے ان لوگوں کے لئے بکری ذبح کرڈالی جن کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں کہ کون ہیں پھر تو کہتی ہے کہ وہ قریش کے کچھ لوگ تھے۔

        راوی کہتے ہیں پھر کچھ مدت کے بعد ان دونوں میاں بیوی کو مدینہ طیبہ جانے کی ضرورت پڑی وہ وہاں پہنچے اور اونٹوں کی مینگنیاں بیچ کر گزارہ کرنے لگے۔ وہ خاتون مدینہ طیبہ کی ایک گلی سے گزر رہی تھی تو دیکھا کہ حضرت امام حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اپنے گھر کے دروازے میں بیٹھے ہوئے ہیں آپ نے اس عورت کو پہچان لیا لیکن وہ آپ کو پہچان نہ سکی آپ نے غلام کو بھیج کر خاتون کو بلوایا اور فرمایا اے  اللہ  کی بندی! مجھے پہچانتی ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں ۔ فرمایا میں فلاں فلاں دن تمہارے پاس مہمان تھا بوڑھی عورت نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ وہی ہیں ؟ فرمایا ہاں ، پھر حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حکم دیا تو صدقہ کی بکریوں میں سے ایک ہزار بکریاں خرید کر اور مزید ایک ہزار دینار اسے دے کر اپنے غلام کے ہمراہ حضرت امام حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بھیجا انہوں نے پوچھا میرے بھائی نے تمہیں کیا دیا؟ اس نے عرض کیا ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار۔ حضرت امام حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بھی اسی قدر مال دینے کا حکم دیا پھر اسے اپنے غلام کے ہمراہ حضرت عبد  اللہ  بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بھیجا تو حضرت عبد  اللہ  بن جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے دو ہزار بکریاں اور دو ہزار دینار دئیے اور فرمایا اگر تم پہلے



2       (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۷، ص۱۰)

3     (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، حکایات الأسخیائ، ج۴، ص۳۳۳)

4     (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب ما قدّم من مالہ فھو لہ، الحدیث : ۶۴۴۲، ج۴، ص۱۹۵)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، الفصل الأول، الحدیث : ۵۱۶۸، ج۲، ص۲۴۴)

5      (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۷، ص۱۱۔۱۲)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن