دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

(۱۸)  ان کے ٹیڑھے کام درست ہوں گے۔

(۱۹) آپس میں محبتیں بڑھیں گی جو ہر خیر و خوبی کی مُتّبع ہیں ۔   

(۲۰) تھوڑے صَرف میں بہت کا پیٹ بھرے گا کہ تنہا کھاتے تو دونا اُٹھتا۔

(۲۱)  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے حضور درجے بلند ہوں گے۔

(۲۲) مولیٰ تبارک و  تَعَالٰی  ملائکہ سے ان کے ساتھ مباہات فرمائیگا۔

(۲۳) روزِ قیامت دوزخ سے امان میں رہیں گے، آتش دوزخ ان پر حرام ہوگی۔

(۲۴) آخرت میں احسانِ الٰہی سے بہرہ مند ہوں گے کہ نہایت ِمقاصد وغایت ِ مرادات ہے۔

(۲۵) خدا نے چاہا تو اس مبارک گروہ میں ہوں گے جو حضور پُر نور سید عالم سرور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نعل اقدس کے تصدق میں سب سے پہلے داخل جنّت ہوگا۔[1]؎

مسجد میں ہنسنے کی سزا

        حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضورِ پاک صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  اَلضِّحْکُ فِی الْمَسْجِدِ ظُلْمَۃٌ فِی الْقَبْرِ یعنی ’’مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیرا(لاتا)ہے۔‘‘      (الفردوس بمأثور الخطاب، ج۲، ص۴۳۱، حدیث۳۸۹۱)

جنت سے محروم

         حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، نبی مکرم، نور مجسم، رسول اکرم، شہنشاہ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عبرت نشان ہے :  لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌیعنی ’’چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘   (صحیح البخاری، ص۵۱۲، حدیث۶۰۵۶)   

راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں مال خرچ کرنا

         اللہ   تَعَالٰی  اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم یوں فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌؕ  الآیۃ  (البقرۃ : ۲؍۲۵۴)

ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو  اللہ  کی راہ میں ہمارے دئیے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید فروخت ہے نہ کافروں کے لئے دوستی نہ شفاعت۔

        راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں کیا اور کس پر خرچ کریں ؟،  اللہ   تَعَالٰی  فرماتاہے :

یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ     الآیۃ (البقرۃ : ۲؍۲۱۵)

ترجمہ کنزالایمان : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے۔

        شانِ نزول :  یہ آیت عمرو بن جموح کے جواب میں نازل ہوئی جو بوڑھے شخص تھے اور بڑے مالدار تھے انہوں نے حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں اس آیت میں انہیں بتادیا گیا کہ جس قسم کا اور جس قدر مال قلیل یا کثیر خرچ کرو اس میں ثواب ہے اور مصارف اس کے یہ ہیں ،  مسئلہ :  آیت میں صدقہ نافلہ کا بیان ہے ماں باپ کو زکوٰۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں (جمل وغیرہ)۔  [2]؎

        اور راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرنے والے کے لئے بشارت ہے کہ اس کا مال ضائع نہیں ہوتا، اور اس ضمانت کو یوں بیان فرمایا کہ خرچ کئے ہوئے مال کو  اللہ   تَعَالٰی  نے اپنی ذات کی جانب قرضِ حسن سے موسوم فرمایا :

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۴۵) (البقرۃ : ۲؍۲۴۵)

ترجمہ کنزالایمان : ہے کوئی جو  اللہ  کو قرض حسن دے تو  اللہ  اس کے لئے بہت گُنا بڑھا دے اور  اللہ  تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا

        یعنی راہِ خدا میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے راہِ خدا میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایا یہ کمال لطف وکرم ہے بندہ اسکا بنایا ہوا اور بندے کا مال اس کا عطا فرمایا ہوا حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عطا سے مجازی مِلک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ دل نشین کرنا منظور ہے کہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کا مال ضائع نہیں ہوا وہ اس کی واپسی کا مستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان چاہئے کہ وہ اس اِنفاق کی جزا بالیقین پائے گا اور بہت زیادہ پائے گا۔[3]؎

        ایک اور مقام پر فرمایا :     

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ(۱۱) (الحدید : ۵۷؍۱۱)

ترجمہ کنزالایمان : کون ہے جو  اللہ  کو قرض دے اچھا قرض تو وہ اس کے لئے دونے کرے اور اس کو عزت کا ثواب ہے۔

 



1    ( فتاویٰ رضویہ، رسالہ :  رادُّ القحط والوباء بدعوۃ الجیران ومواساۃ الفقرائ، ج۲۳، ص۱۵۲)

2      (خزائن العرفان)

1      (خزائن العرفان)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن