30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خلل آئے گا لہٰذا میرے نزدیک دنیا کے ہزار طلبگاروں کو دینے سے بہتر ہے کہ ایک سچے دیندار کو دوں ۔
جب حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو یہ بات بتائی گئی تو آپ نے اسے پسند فرمایا اور فرمایا کہ یہ شخص اللہ کے ولیوں میں سے ہے، میں نے آج تک اتنی اچھی بات نہ سُنی تھی۔
حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے عرض کی گئی کہ فلاں دکاندار کنگال ہوگیا ہے اور دُکان چھوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تو حضرت جنید بغدادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے انہیں کچھ مال بھیجا اور کہلوایا کہ یہ مال استعمال کریں اور دُکان بند نہ کریں کیوں کہ تجارت آپ جیسے لوگوں کے لئے نقصان دِہ نہیں ۔ در اصل وہ شخص سبزی بیچتا تھا اور صوفیاء فقراء سے ان کے خریدے ہوئے مال کی قیمت نہ لیتا۔[1]؎
حضرت عبد اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (جو امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے خاص شاگرد اور فقہ حنفی کے آئمہ سے ہیں ) اہلِ علم لوگوں کے ساتھ خاص طور پر بھلائی کرتے، ان سے عرض کی گئی : آپ سب کے ساتھ ایک سا معاملہ کیوں نہیں رکھتے؟ فرمایا میں انبیاء کے بعد(عام لوگوں سے نہ کہ صحابہ سے) علماء کے سوا کسی کے مقام کو بلند نہیں جانتا، ایک بھی عالم کا دھیان اپنی حاجات کی وجہ سے بٹے گا تو وہ صحیح طور پر خدمتِ دین نہ کرسکے گا اور دینی تعلیم پر اس کی درست توجہ نہ ہوسکے گی۔ لہٰذا انہیں علمی خدمت کے لئے فارغ کرنا افضل ہے۔[2]؎
امام غزالی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : دینے والے کی غرض ان باتوں کے سوا نہیں ہوتی کہ اس کا مقصد یا تو فقیر کا دل خوش کرنا اور اس کی محبت کا حصول ہوتاہے اس صورت میں یہ دینا ہدیہ ہوگا، یا اس کا مقصد حصولِ ثواب ہوتاہے اس صورت میں یہ صدقہ یا زکوٰۃ ہوگا یا پھر اس کا مقصد شہرت اور ریا کاری ہوگی، پھر یا تو صرف یہی (ریا ودکھاوا) مقصود ہوتا ہے یا اس میں دوسری (مذکورہ بالا) اغراض بھی شامل ہوتی ہیں ۔
جہاں تک پہلی بات یعنی ہدیہ کا تعلق ہے تو اسے لینے میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ ہدیہ قبول کرنا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنت مبارکہ ہے لیکن دینے والے کا مقصد احسان جتانا نہ ہو کیونکہ اگر احسان کے طور پر دیا تو (لینے والے کے لئے) ایسی چیز لینے سے چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر معلوم ہو کہ اس میں سے بعض مال پر احسان جتایا جارہا ہے بعض پر نہیں تو اُن بعض کو لوٹا دے جو بطور احسان دئیے جارہے ہوں ۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں گھی، پنیر اور مینڈھا ہدیۃً پیش کئے گئے تو آپ نے گھی اور پنیر قبول فرمالئے اور مینڈھا لَوٹا دیا۔[3]؎
امام اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن متوفی ۱۳۴۰ھ فضائلِ صدقات کی احادیث ذکر فرماکر ان فضائل کا پچیس نِکات میں اس طرح احاطہ فرماتے ہیں :
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ جو مسلمان اس عمل میں نیک نیت پاک مال سے شریک ہوں گے انہیں کرمِ الٰہی و انعام حضرت رسالت پناہی تَعَالٰی ربہٗ وتکرّم وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پچیس فائدے ملنے کی اُمید ہے :
(۱) بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی بُری موت سے بچیں گے، ستّر دروازے بُری موت کے بند ہوں گے۔
(۲) عُمریں زیادہ ہوں گی۔
(۳) ان کی گنتی بڑھے گی۔
(۴) رزق کی وسعت مال کی کثرت ہوگی، اس کی عادت سے کبھی محتاج نہ ہوں گے۔
(۵) خیر و برکت پائیں گے۔
(۶) آفتیں بلائیں دور ہوں گی، بری قضا ٹلے گی، ستر دروازے برائی کے بند ہوں گے، ستر قسم کی بلا دور ہوگی۔
(۷) ان کے شہر آباد ہوں گے۔
(۸) شکستہ حالی دور ہوگی۔
(۹) خوفِ اندیشہ زائل اور اطمینان خاطرحاصل ہوگا۔
(۱۰) مدد الٰہی شامل ہوگی۔
(۱۱) رحمتِ الٰہی ان کے لیے واجب ہوگی۔
(۱۲) ملائکہ اُن پر درود بھیجیں گے۔
(۱۳) رضائے الٰہی کے کام کریں گے۔
(۱۴) غضب الٰہی ان پرسے زائل ہوگا۔
(۱۵) ان کے گناہ بخشے جائیں گے، مغفرت ان کے لئے واجب ہوگی، اُن کے
گناہوں کی آگ بجھ جائے گی۔
(۱۶) خدمتِ اہل دین میں صدقہ سے بڑھ کر ثواب پائیں گے۔
(۱۷) غلام آزاد کرنے سے زیادہ اجر لیں گے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع