30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’صدقہ بری موت سے بچاتا ہے‘‘اس کی شرح میں حکیم الامت فرماتے ہیں : یعنی سخی آدمی اچانک اور غفلت کی موت سے یوں ہی بے صبری و فسق و فجور وظلم کی موت سے محفوظ رہتا ہے اِنْ شَآءَ اللہ ، اس کی موت ذکر و فکر نیک اعمال کی حالت میں آتی ہے بعد موت لوگ اُسے اچھائی سے یاد کرتے ہیں ، یوں ہی نیکیاں عمر بڑھاتی ہیں اس طرح کہ حکم الٰہی یوں ہے کہ فلاں بندہ اگر گناہ و بدکاری کرتا رہے تو اس کی عمر پچاس سال ہے اور اگر نیکیاں کرے تو اس کی عمر سو سال، یہ زیادتی عمر ایسی ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ دوا مرض دفع کرتی ہے۔[1]؎
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنَّ صَدَقَۃَ الْمُسْلِمِ تَزِیْدُ فِي الْعُمْرِ، وَتَمْنَعُ مِیْتَۃَ السُّوْئِ، وَیُذْھِبُ اللّٰہُ الْکِبْرَ وَالْفَخْرَ‘‘۔[2]؎
حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : بے شک مسلمان کا صدقہ عمر بڑھاتا ہے اور بُری موت کو روکتا ہے، اور اللہ تَعَالٰی اس کی برکت سے صدقہ دینے والے سے تکبر وتفاخر دور کردیتا ہے۔
ایک اور حدیث شریف میں بیان فرمایا :
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِیَدِہِ عَصاً، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قُنْوَ حَشَفٍ، فَجَعَلَ یَطْعَنُ فِيْ ذٰلِکَ الْقُنْوِ، فَقَالَ :
حضرت عوف بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدستِ اقدس میں لاٹھی لئے تشریف لائے تو دیکھا کہ ایک شخص نے (غرباء کے لئے بطور صدقہ) ردی کھجوروں کا ایک خوشہ لٹکا رکھا ہے، آپ’’لَوْ شَاءَرَبُّ ھٰذِہِ الصَّدَقَۃِ تَصَدَّقَ بِأَطْیَبَ مِنْ ھٰذَا، إِنَّ رَبَّ ھٰذِہِ الصَّدَقَۃِ یَأْکُلُ حَشَفاً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔[3]؎
اس خوشہ کو لاٹھی سے مارنے لگے اور فرمایا : اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے بہتر صدقہ کرتا بے شک یہ صدقہ کرنے والا بروزِ قیامت ردی کھجوریں کھائے گا۔
بنی اسرائیل میں سے ایک شخص اور اس کے اہل نے تین دن تک کھانے کے لیے کچھ نہ پایا پھر اس کی زوجہ نے اسے ایک درہم دیا تاکہ وہ اس سے کھانا خریدے جب وہ باہر نکلا تو اس نے ایک شخص کو دوسرے سے اپنے درہم کا مطالبہ کرتے ہوئے پایا۔ اس نے اپنا درہم اس کو دے دیا۔ اور آکر اپنی بیوی کو بتایا تو اس نے کہا آپ نے اچھا کیا پھر اس نے اپنے شوہر کو اُون کاتنے کا تکلا دیا تو اسے شوہر نے بیچا اور اس سے ایک مچھلی خریدی جس میں سے ایک موتی نکلا اس نے وہ موتی کثیر مال کے بدلے بیچا پھر ایک روز اس کے پاس ایک سائل آیا تو اس شخص نے کہا : یہ لو میرا آدھا مال لے لو تو اس سائل نے کہا : تمہیں مبارکباد ہو تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو میں تو ایک فرشتہ ہوں تمہارے لئے اللہ تَعَالٰی نے اُس ایک درہم کے ہر قیراط کے بدلے سو قیراط مقرر فرمائے ہیں اور (تمہاری یہ دولت) ان میں سے ایک ہی قیراط ہے جو تمہیں دنیا میں ملی ہے ۔[4]؎
حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم : ’’تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِيْ إِسْرَائِیْلَ، فَعَبَدَ اللّٰہَ فِيْ صَوْمَعَۃٍ سِتِّیْنَ عَاماً، فَأُمْطِرَتِ الْأَرْضُ فَاخْضَرَّتْ، فَأَشْرَفَ الرَّاھِبُ مِنْ صَوْمَعَتِہِ، فَقَالَ : لَوْ نَزَلْتُ فَذَکَرْتُ اللّٰہَ، فَازْدَدْتُّ خَیْراً، فَنَزَلَ وَمَعَہُ رَغِیْفٌ، أَوْ رَغِیْفَانِ فَبَیْنَمَا ھُوَ فِي الْأَرْضِ لَقِیَتْہُ امْرَأَۃٌ فَلَمْ یَزَلْ یُکَلِّمُھَا وَتُکَلِّمُہُ حَتّٰی غَشِیَھَا، ثُمَّ أُغْمِيَ فَنَزَلَ الْغَدِیْرَ یَسْتَحِمُّ، فَجَائَہُ سَائِلٌ، فَأَوْمَأَ إِلَیْہِ أَنْ یَّأْخُذَ الرَّغِیْفَیْنِ، ثُمَّ مَاتَ فَوُزِنَتْ عِبَادَۃُ سِتِّیْنَ سَنَۃً بِتِلْکَ الزَّنْیَۃِ فَرَجَحَتِ الزَّنْیَۃُ بِحَسَنَاتِہِ، ثُمَّ وُضِعَ الرَّغِیْفُ أَوِ الرَّغِیْفَانِ
حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : سید المبلغین، رحمۃ للعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک بہت ہی عبادت گزار راہب تھا اس نے اپنے عبادت خانے میں ساٹھ برس تک اللہ تَعَالٰی کی عبادت کی پھر ایک روز زمین پر بارش ہوئی جس سے زمین سرسبز ہوگئی راہب نے اپنی عبادت گاہ سے جھانکا تو اس نے سوچاکہ اگر میں نیچے اتر کر اللہ تَعَالٰی کے ذکر میں مشغول ہوجاؤں تو اس طرح اپنی نیکیوں میں اضافہ کرلوں گا۔ چنانچہ وہ نیچے اُترا اس کے پاس ایک یا دو روٹیاں تھیں ، اسی دوران اُسے ایک عورت ملی دونوں میں باتیں شروع ہوئیں حتی کہ اس نے اس عورت سے زنا کرلیا۔ پھر اُس پر غشی طاری ہوگئی افاقہ ہونے پرغسل کرنے کے لئے ایک تالاب میں اُترا تو ایک سائل آیا اس نے اشارہ کیا
مَعَ حَسَنَاتِہِ، فَرَجَحَتْ حَسَنَاتُہُ فَغُفِرَ لَہُ‘‘۔[5]؎
کہ وہ دونوں روٹیاں لے جائے، پھر وہ راہب مرگیا، تو اس کی ساٹھ سالہ عبادت کا اس زنا سے موازنہ کیا گیا تو وہ زنا اس کی نیکیوں پر غالب ہوگیا پھر اس کی نیکیوں کے پلڑے میں وہ ایک یا دو روٹیاں (جو اس نے سائل کو صدقہ کی تھیں ) رکھی گئیں تو اسکی نیکیاں غالب آگئیں اور (بفضل اللہ ) اسکی مغفرت فرمادی گئی۔
صدقہ دینے میں بہتر یہ ہے کہ نیک پرہیزگار فقراء میں سے کسی کو دے، چنانچہ، امام غزالی نقل کرتے ہیں کہ ایک عالِم کا معمول تھا کہ وہ صدقہ دینے میں صوفی فقراء کو ترجیح دیتے۔ ان سے عرض کی گئی کہ آپ اگر عام فقراء کو صدقہ دیں تو کیا وہ افضل نہیں ؟ جواب دیا : یہ نیک لوگ ہر وقت اللہ تَعَالٰی کے ذکر و فکر میں رہتے ہیں اگر ان پر فاقہ یا کوئی مصیبت آئے تو ان کے مشاغل میں
5 (سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب ما لا یجوز من الثمرۃ في الصدقۃ، الحدیث : ۱۶۰۸، ج۲، ص۱۷۸)
(سنن ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب النھي أن یخرج في الصدقۃ شرّ مالہ، الحدیث : ۱۸۲۱، ج۲، ص۴۰۰)
(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب قولہ عَزَّ وَجَلَّ : (وَلَا تَیَمَّمُْوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ)، الحدیث : ۲۴۹۲، ج۳، الجزء ۵، ص۴۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع