30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’إِنَّ الصَدَقَۃَ لَتُطْفِئُ عَنْ أَھْلِھَا حَرَّ الْقُبُوْرِ، وَإِنَّمَا یَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِيْ ظِلِّ صَدَقَتِہِ‘‘۔[1]؎
حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : بے شک صدقہ کرنے والوں کو صدقہ قبر کی گرمی سے بچاتا ہے، اور بلاشبہ مسلمان قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ہوگا۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
رُوِيَ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّھَا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَفْتِنَا عَنِ الصَّدَقَۃِ؟ فَقَالَ : ’’إِنَّھَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ لِمَنِ احْتَسَبَھَا یَبْتَغِيْ بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘۔[2]؎
حضرت میمونہ بنت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ آپ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کے بارے میں ہماری راہ نمائی فرمائیے! فرمایا : جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کی خاطر صدقہ کرے تو وہ (صدقہ) اس کے اور آگ کے درمیان پردہ بن جاتا ہے۔
ایک شخص خراسان سے بصرہ آیا اور اس نے حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس دس ہزار درہم بطور امانت رکھے اور کہا کہ آپ اس کے لئے بصرہ میں ایک گھر خریدیں تاکہ جب وہ مکہ سے لوٹے تو اس گھر میں رہے اسی دوران لوگوں کو آٹے کی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا تو حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُن درہموں سے آٹا خرید کر صدقہ کردیا، اُن سے کہا گیا کہ اُس شخص نے تو آپ سے گھر خریدنے کے لئے کہا تھا! فرمایا : میں نے اُس کے لئے جنت میں گھر لے لیا ہے! اگر وہ اس پر راضی ہوگا تو ٹھیک، ورنہ میں اُسے دس ہزار درہم واپس دے دوں گا۔ پھر جب وہ لوٹا تو پوچھا : اے ابو محمد!رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا آپ نے گھر خریدلیا؟ جواب دیا : ہاں ! محلّات، نہروں اور درختوں کے ساتھ، تو وہ شخص بہت خوش ہوا پھرکہنے لگا : میں اس میں رہنا چاہتا ہوں آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : میں نے وہ گھر اللہ تَعَالٰی سے جنت میں خریدا ہے! یہ سن کر اُس شخص کی خوشی مزید بڑھ گئی، اس کی بیوی بولی : ان سے کہو کہ اپنی ضمانت کی ایک دستاویز لکھ دیں تو حبیب عجمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے لکھا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط ، جو گھر حبیب عجمی نے محلات، نہروں اور درختوں سمیت دس ہزار درہم میں اللہ تَعَالٰی سے فلاں بن فلاں کے لئے جنت میں خریدا ہے یہ اس کی دستاویز ہے۔ اب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے کہ وہ حبیب عجمی کی ضمان کوپورا فرمادے ۔ کچھ عرصہ بعد اس شخص کا انتقال ہوگیا۔ اس نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے کفن میں یہ رقعہ ڈال دینا۔ (تدفین کے بعد) جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ اس شخص کی قبر پر ایک رقعہ ہیجس میں لکھا تھا کہ یہ حبیب عجمی کے لئے اس مکان سے برأ ت نامہ ہے جوانہوں نے فلاں شخص کے لئے خریدا تھا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس شخص کووہ مکان عطا فرمادیا۔ اس مکتوب کو حبیب عجمی نے لے لیا اور بہت روئے اور فرمایا : یہ اللہ تَعَالٰی کی جانب سے میرے لئے برأت نامہ ہے۔[3]؎
حضرت عیسیٰعلیہ السلام کے زمانے میں ایک دھوبی تھا جو لوگوں کے کپڑے آپس میں تبدیل کردیتا، لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کے متعلق بتایا تو آپ علیہ السلام نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی : اے اللہ ! عز وجل اسے ہلاک فرمادے، ایک روز وہ دھوبی اپنے معمول کے مطابق نکلا، اس کے پاس تین روٹیاں تھیں ایک سائل آیا تو اس نے ایک روٹی اُسے دے دی، سائل نے دعا دی : اللہ تَعَالٰی تجھ سے آفاتِ سماویہ کا شر دور فرمائے، دھوبی نے اس دعا سے متأثر ہو کراسے ایک اور روٹی دے دی، اس پر سائل نے دعا دی : اللہ تَعَالٰی تجھے جملہ آفتوں سے محفوظ رکھے تو اُس نے تیسری روٹی بھی دے دی، اس پر دعا دی : اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ اسی دوران ایک بہت بڑا سانپ اس کے کپڑوں کی گٹھڑی میں داخل ہوچکا تھا۔ جب دھوبی نے کپڑے لینے کا ارادہ کیا تواس سانپ نے اسے ڈسنا چاہا، ایک فرشتے نے اسی لمحے اس سانپ کو لوہے کی لگام ڈال دی اور دھوبی سلامتی کے ساتھ واپس آگیا۔
لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا : یاروح اللہ !وہ دھوبی تو صحیح سلامت واپس آگیا! آپ علیہ السلام نے اسے بلایا اور فرمایا : تو نے کونسی بھلائی کی ہے؟ تو اُس نے عرض کی : میں نے تین روٹیاں صدقہ کی ہیں ۔ پھر آپ علیہ السلام نے اس سانپ سے پوچھا : تو نے اسے قتل کیوں نہ کیا؟ سانپ نے عرض کی : اے اللہ کےنبی! اللہ تَعَالٰی نے آپ کی دعا قبول فرمالی اور مجھے اسے ہلاک کرنے کے لیے بھیجا مگر جب اس دھوبی نے سائل کو صدقہ دیا تو ایک فرشتے نے آکر مجھے لوہے کی لگام ڈال دی۔ لوگ اس بات سے بہت متعجب ہوئے اور دھوبی نے توبہ کرلی۔[4]؎
حدیث شریف میں ہے :
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’اَلصَّدَقَۃُ تَسُدُّ سَبْعِیْنَ بَاباً مِنَ السُّوْئِ‘‘۔[5]؎
حضرت رافع بن خدیج رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : خاتم المرسلین، رحمۃللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : صدقہ برائی کے ستّر دروازے بند کرتا ہے۔
حضرت منصور بن عمار رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک روز وعظ فرمارہے تھے، کسی حقدار نے چار درہم کا سوال کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اعلان فرمایاجو اس کو چار درہم دے گا میں اس کے لیے چار دعائیں کروں گا۔ اس وقت وہاں سے ایک غلام گزر رہا تھا ایک ولیٔ کامل کی رحمت بھری آواز سن کر اس کے قدم تھم گئے اور اس کے پاس جو چار درہم تھے وہ اس نے سائل کو پیش کردیئے۔ حضرت سیدنا منصور رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : بتاؤ کون کون سی چار دعائیں کروانا چاہتے ہو؟ عرض کیا (۱) میں غلامی سے آزاد کر دیا جاؤں (۲) مجھے ان دراہم کا بدلہ مل جائے (۳) مجھے اور میرے آقا کو توبہ نصیب ہو (۴) میری، میرے آقا کی، آپ کی اور تمام حاضرین کی بخشش ہو جائے۔
حضرت سیدنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ الغفار نے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمادی ۔ غلام اپنے آقا کے پاس دیر سے پہنچا، آقانے سببِ تاخیر دریافت کیا تو اس نے واقعہ کہہ سنایا۔ آقا نے پوچھا پہلی دعا کون سی تھی،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع