دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

ہے اور تمام صدقات میں اعلیٰ و افضل اس لئے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا گیا۔

        پہلے شخص کے متعلق حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ’’ وہ بہترین درجوں میں ہے ‘‘ اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس لئے کہ یہ شخص دین ودنیا دونوں جگہ سرخرو شاد آباد رہے گا کیوں کہ وہ مال کمائے گا حکم الٰہی کے مطابق خرچ کرے گا اسی کے مطابق جمع کرے گا۔ اسی فرمان کے ما تحت مال کی آمد، جمع، خرچ سب شریعت کے مطابق چاہئے۔

        حدیث شریف میں تیسرے شخص کے متعلق فرمایا گیا کہ ’’وہ بغیر سوچے سمجھے تصرف کرتاہے‘‘اس کی وضاحت میں مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یعنی حرام و حلال طریقے سے مال کماتا ہے اور ہر حلال، حرام جگہ خرچ کرتا رہتا ہے نہ خود عالم ہے نہ علماء کی بات مانتا ہے جیسا کہ آج کل عام امیروں کا حال ہے۔

        ’’صلہ رحمی  نہیں کرتا‘‘ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : ایسے لوگ اگر کبھی اچھی جگہ خرچ بھی کرتے ہیں تو اپنی ناموری کے لئے خرچ کرتے ہیں مگر بے فائدہ بلکہ مضر۔

        ’’یہ خبیث ترین درجہ میں ہے‘‘اس کی وضاحت کرتے ہوئے حکیم الامت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : کیونکہ اس کا مال اس کے لئے وبال ہے مال کی وجہ سے اس پر گناہوں کے دروازے بہت کھل جاتے ہیں وہ مال کے نشہ میں نہ کرنے والے کام کرتا رہتا ہے  اللہ   تَعَالٰی  عثمانی مال دے ابو جہلی مال سے بچائے۔ (آمین)

        ’’ان دونوں کا گناہ برابر ہے‘‘اس کی تشریح میں حکیم الامت رقم طراز ہیں :  یعنی یہبدنصیب بغیر کچھ کئے سب کچھ کررہا ہے کرنے والوں کے ساتھ دوزخ میں جارہا ہے۔[1]؎

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھَا أَنَّ مِسْکِیْناً سَأَلَھَا وَھِيَ صَائِمَۃٌ، وَلَیْسَ فِيْ بَیْتِھَا إِلَّا رَغِیْفٌ، فَقَالَتْ لِمَوْلَاۃٍ لَّھَا :  أَعْطِیْہِ إِیَّاہُ، فَقَالَتْ :  لَیْسَ لَکِ مَا تُفْطِرِیْنَ عَلَیْہِ، فَقَالَتْ :  أَعْطِیْہِ إِیَّاہُ۔ قَالَتْ :  فَفَعَلْتُ، فَمَا أَمْسَیْنَا حَتّٰی أَھْدٰی لَھَا أَھْلُ بَیْتٍ، أَوْ إِنْسَانٌ مِمَّنْ کَانَ یَھْدِيْ لَنَا شَاۃً وَکَفَنَھَا فَدَعَتْنِیْ عَائِشَۃُ، فَقَالَتْ :  کُلِيْ مِنْ ھٰذَا خَیْرٌ مِّنْ قُرْصِکِ۔[2]؎

سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاسے مروی ہے کہ ایک مسکین نے آپ سے سوال کیا جبکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاروزے سے تھیں اور گھر میں سوائے ایک روٹی کے کچھ نہ تھا۔ آپ نے اپنی باندی سے فرمایا :  اسے وہ روٹی دے دو، تو باندی نے کہا : آپ کی افطاری کے لئے اسکے سوا کچھ نہیں سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :  اسے وہ روٹی دے دو، باندی کہتی ہیں تو میں نے وہ روٹی اسے دیدی ابھی شام نہیں ہوئی تھی کہ اہل بیت نے یا کسی اور شخص نے جو ہدیہ دیا کرتا تھا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو بطور ہدیہ ایک بکری بھجوائی لانے والا اس گوشت کو کپڑے میں ڈھانپے ہوئے لے کر آیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے خادمہ کو بلاکر فرمایا :  لو اس میں سے کھاؤ یہ تمہاری اس روٹی سے بہتر ہے۔   

        یہ  اللہ  والوں کی شان ہے کہ سائل کو تہی دست نہیں لوٹاتے اگرچہ دینے کے بعد کچھ بھی نہ بچے اسی کو جُود کہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے توکل کے سبب  اللہ   تَعَالٰی  انہیں بہتر سے بہتر عطا کرتا ہے۔

        اپنے دور کے ابدال حضرت سیدنا ابو جعفر بن خطاب رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  میرے دروازے پر ایک سائل نے صدا لگائی میں نے زوجہ محترمہ سے پوچھا :  تمہارے پاس کچھ ہے؟ جواب ملا :  چار انڈے ہیں ۔ میں نے کہا :  منگتا کو دے دو۔ انہوں نے تعمیل کی۔ سائل انڈے پاکر چلا گیا۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ میرے پاس ایک دوست نے انڈوں سے بھری ہوئی ٹوکری بھیجی۔ میں نے گھر میں پوچھا :  اس میں کل کتنے انڈے ہیں ؟ انہوں نے کہا :  تیس۔ میں نے کہا : تم نے توفقیر کو چار انڈے دیئے تھے، یہ تیس کس حساب سے آئے! کہنے لگیں :  تیس انڈے سالم ہیں اور دس ٹوٹے ہوئے۔ حضرت سیدنا شیخ علامہ یافعی یمنی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  بعض حضرات اس حکایت کے متعلق یہ بیان کرتے ہیں کہ سائل کو جو انڈے دیئے گئے تھے ان میں تین سالم اور ایک ٹوٹا ہوا تھا۔ رب  تَعَالٰی  نے ہر ایک کے بدلے دس دس عطا فرمائے۔ سالم کے عوض سالم اور ٹوٹے ہوئے کے بدلے ٹوٹا ہوا۔[3]؎   

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ :  ’’کُلُّ امْرِئٍ فِيْ ظِلِّ صَدَقَتِہِ حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ أَوْقَالَ یُحْکَمَ بَیْنَ النَّاسِ‘‘۔ قَالَ یَزِیْدُ :  وَکَانَ أَبُو الْخَیْرِ یَعْنِيْ :  لَا یَأْتِيْ عَلَیْہِ یَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِیْہِ، وَلَوْ بِکَعْکَۃٍ أَوْ بِبَصَلَۃً۔[4]؎

حضرت عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ شہنشاہ مدینہ، قرار قلب وسینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  ہر شخص (بروز قیامت) اپنے صدقہ کے سائے میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمادیا جائے۔ یزید کہتے ہیں :  ابوالخیر کا معمول تھا کہ روزانہ بلاناغہ کچھ نہ کچھ صدقہ فرماتے اگرچہ روٹی کا ٹکڑا یا پیاز صدقہ کرکے۔

        حضرت یزید بن ابو حبیب سے مروی ہے کہ حضرت مرثد بن ابو عبد  اللہ  یزنی اہل مصر میں سے وہ پہلے شخص تھے جو شام کے وقت مسجد میں جایا کرتے تھے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں آپ کو جب بھی مسجد جاتے دیکھتا تو آپ کے ہاتھ میں صدقہ کرنے کے لئے پیسے یا روٹی یا گیہوں کچھ نہ کچھ ہوتا حتی کہ بسا اوقات میں انہیں پیاز اٹھائے ہوئے بھی دیکھتاتو میں کہتاکہ اے ابو الخیر! یہ پیاز آپ کے کپڑوں کو بدبودار کردیگاتو آپ فرماتے :  اے ابوحبیب کے بیٹے! میں اپنے گھر میں اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں پاتا کہ جسے صدقہ کروں ، مجھے ایک صحابیٔ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بیان کیا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحروبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  ’’مومن کا دیاہواصدقہ بروز قیامت اس پر سایہ ہوگا‘‘۔[5]؎

        صدقہ دینے والوں کے لئے قبر کی گرمی سے حفاظت اور بروزِ قیامت حصولِ سایۂ رحمت کی بشارت ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

 



1    (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۷، ص۹۹۔۱۰۱)

2   (شُعَبُ الإیمان، باب في الزکاۃ، فصل فیما جاء فی الإیثار، الحدیث : ۳۴۸۲، ج۳، ص۲۶۰)

3     (فیضان سنت، باب آداب طعام، ج۱، ص۵۱۳بحوالہ روض الریاحین، ص۱۵۱)

1     (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند عقبۃ بن عامر، الحدیث : ۱۷۴۶۶، ج۵، ص۸۹۵)

(السنن الکبری للبیھقي، کتاب الزکاۃ، جماع أبواب صدقۃ التطوع، باب التحریض علی الصدقۃ وإن قلت، الحدیث : ۷۷۵۱، ج۴، ص۲۹۷)

(شُعَبُ الإیمان، باب في الزکاۃ، التحریض علی صدقۃ التطوع، الحدیث : ۳۳۴۸، ج۳ص۲۱۲)

2     (الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، الترغیب في الصدقۃ والحث علیھا۔۔۔إلخ، الحدیث : ۲۸، ج۲، ص۱۱)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن