دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

        ’’آگ لوہے کو پگھلا دیتی ہے بلکہ زیادہ تیز ہو تو لوہے کو گلا کر پانی بنادیتی ہے‘‘۔

        ’’پانی آگ کو بجھادیتا ہے، اگرچہ آگ پانی کو گرم بھی کردیتی ہے اور جلا بھی دیتی ہے مگر کسی برتن کی مدد سے جبکہ پانی اس میں بند ہو، اگر آڑ ہٹادی جائے تو پانی ہی آگ کو بجھاتا ہے لہٰذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں ، پانی قید میں رہ کر جلتا ہے‘‘۔

        ’’ہوا پانی سے لدے بادلوں کو اُڑائے پھرتی ہے اور سمندر میں طلاطم پیدا کردیتی ہے جس سے وہاں طوفان برپا ہوجاتا ہے‘‘۔[1]؎

        پوشیدہ سخاوت کرنے والے شخص کے ان تمام سے مضبوط ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہکیونکہ ایسا سخی اس سرکش نفس کو تابعدار کرلیتا ہے جو پہاڑ سے زیادہ سخت، سمندر و ہوا سے زیادہ طوفانی ہے، نفس اولاً تو بخل سکھاتا ہے جب سخاوت کی جائے تو دکھلاوے کو پسند کرتا ہے، یہ خفیہ سخاوت کرنے والا نفس کی دونوں خواہشوں کو کچل دیتا ہے اور نفس کی آگ کو بجھادیتا ہے لہٰذا بڑا بہادر ہے، نیز خفیہ صدقہ سے غضبِ الٰہی کی آگ بجھتی ہے، رضائے الٰہی حاصل ہوتی ہے، یہ نعمتیں پہاڑ، لوہے، آگ، پانی، ہوا سے حاصل نہیں ہوسکتیں ، لہٰذا یہ صدقہ اُن سب سے بہتر۔

        صوفیائے کرام رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِم فرماتے ہیں کہ سخاوتِ مال سے سخاوتِ حال افضل ہے اور سخاوتِ حال سے سخاوتِ کمال بہتر کہ سخاوتِ مال میں فقیر کی اسی زندگی کے دو ایک دن سنبھل جاتے ہیں مگر حال و کمال کی سخاوت سے ہم جیسے مسکینوں کے دونوں جہان درست ہوجاتے ہیں ، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے تاقیامت لوگوں کے دین ودنیا سنبھال دئیے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَبڑے داتا ہیں ، جیسے زمین پہاڑوں سے ٹھہری ایسے ہی ہمارے دل کسی کی نگاہِ کرم سے ٹھہر سکتے ہیں ورنہ دل کا کوئی ٹھکانہ نہیں ۔[2]؎

        جو مال صدقہ کردیا جاتا ہے وہ  اللہ   تَعَالٰی  کے فضل وکرم سے بقاء پاجاتا ہے یعنی  اللہ   تَعَالٰی  کی محافظت میں داخل ہوجاتا ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ  بروزِ قیامت وہ اجر و ثواب کی صورت میں انسان کو نفع پہنچائے گا۔ حدیث شریف میں ہے :     

            عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا أَنَّھُمْ ذَبَحُوْا شَاۃً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’مَا بَقِیَ مِنْھَا‘‘؟ قَالَتْ :  مَا بَقِيَ مِنْھَا إِلَّا کَتِفُھَا۔ قَالَ :   ’’بَقِيَ کُلُّھَا غَیْرَ کَتِفِھَا‘‘۔[3]؎

حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ اہل بیت نے بکری ذبح کی تو  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  اس میں سے کیا بچا؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے جواب دیا کہ کندھے کے سواکچھ نہیں بچا حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  کندھے کے سوا سب بچ گیا۔

        ’’کندھے کے سوا کچھ نہیں بچا‘‘ اس کی وضاحت کرتے ہوئیمفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یعنی سارا گوشت خیرات کردیا گیا صرف شانہ بچا ہے۔ غالباً یہ گھر کے خرچ کے لئے رکھا گیا ہوگا اور یہ بکری صدقہ کے لئے ذبح نہ کی گئی ہوگی کہ صدقہ کا گوشت گھر کے خرچ کے لئے نہیں رکھا جاتا۔

        ’’کندھے کے سوا سب بچ گیا‘‘اس کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں :  یعنی جو راہ خدا میں صدقہ دے دیا گیا وہ باقی اور لازوال ہوگیا اور جو اپنے کھانے کے لیے رکھا گیا وہ ہضم ہو کر فنا ہو جائے گا، رب  تَعَالٰی  فرماتا ہے :

(مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ     ) ((النحل : ۱۶/۹۶)

ترجمہ :  جو تمہارے پاس ہے ہو چکے گا اور جو اللہ  کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے ۔(کنزالایمان)) [4]؎   

        ایک حدیث شریف میں ہے :

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’مَامِنْکُمْ مِّنْ أَحَدٍ إِلَّا سَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ یَحْجُبُہُ فَیَنْظُرُ أَیْمَنَ مِنْہُ فَلَا یَرٰی إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِہِ، وَیَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْہُ فَلَا یَرٰی إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَیَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ  فَلَا یَرٰی إِلَّا النَّارَ تِلْقَائَ وَجْہِہِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ‘‘۔[5]؎

حضرت عدی ابن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العلمین، جناب صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : نہیں ہے  تم میں سے کوئی مگر اس سے اس کا رب کلام کرے گا اس کے اور رب کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا اور نہ پردہ جو اس کے لئے آڑ ہو تووہ دائیں دیکھے گا تونہ دیکھے گا مگر وہی جو اس نے آگے بھیجے اور اپنیبائیں دیکھے گا تونہ دیکھے گا مگروہی اعمال جو اس نے آگے بھیجے اور اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ کے سوا نہ دیکھے گا تو تم آگ سے بچو! اگرچہ کھجور کی قاش ہی سے۔   

        اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ قیامت میں ہر ایک کو ربّ کا دیدار بھی ہوگا اور ہر ایک رب کا



3      (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۱۱۳۔۱۱۴)

4      (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۱۱۳۔۱۱۴)

5      (سنن الترمذي، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۳۳۔ باب، الحدیث : ۲۴۷۰، ج۳، ص۳۶۸)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الحدیث : ۱۹۱۹، ج۱، ص۳۶۴)

1        (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۱۱۰)

2      (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ، الحدیث : ۶۵۳۹، ج۴، ص۲۱۸)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ۔۔۔إلخ، الحدیث : ۱۰۱۶، ص۳۱۴)

(سنن الترمذي، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث : ۲۴۱۵، ج۳، ص۴۳۰)

(سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، الحدیث : ۱۸۵، ج۱، ص۱۱۶)

(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب القلیل في الصدقۃ، الحدیث : ۲۵۵۲، ج۳، الجزء۵، ص۷۸)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب أحوال القیامۃ۔۔۔إلخ، باب الحساب۔۔۔إلخ، الحدیث : ۵۵۵۰، ج۲، ص۳۱۴)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن