30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اگر تم خدا کی راہ میں خرچ کرو تو ثواب بھی پاؤ۔[1]؎
اور راہِ خدا میں خیرات کرنے والوں کو قرضِ حسن دینے والا فرمایا اور ان کے لیے معزّز ثواب کی بشارت ہے۔
اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ(۱۸) (الحدید : ۵۷؍۱۸)
ترجمہ کنزالایمان : بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ جنہوں نے اللہ کو اچھا قرض دیا ان کے دونے ہیں اور ان کے لئے عزت کا ثواب ہے۔
’’اچھا قرض دیا‘‘اس کی تفسیر میں صدر الافاضل فرماتے ہیں : یعنی خوشدلی اور نیت صالحہ کے ساتھ مستحقین کو صدقہ دیا اور راہِ خدا میں خرچ کیا۔[2]؎
’’ان کے لئے عزت کا ثواب ہے‘‘اس کی تفسیر میں صدر الافاضل فرماتے ہیں : اور وہ جنت ہے۔[3]؎
ایک اور مقام پر فرمایا :
وَأَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَأَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناًط وَمَا تُقَدِّمُوْا لِأَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ھُوَ خَیْراً وَّأَعْظَمُ أَجْراًط الآیۃ (المزمل : ۷۳؍۲۰)
ترجمہ کنزالایمان : اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دو اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے۔
حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ اس قرض سے مراد زکوٰۃ کے سوا راہِ خدا میں خرچ کرنا اور صلۂ رحمی میں اور مہمانداری میں اور یہ بھی کہا گیا کہ اس سے تمام صدقات مراد ہیں جنہیں اچھی طرح مال حلال سے خوشدلی کے ساتھ راہ خُدامیں خرچ کیا جائے۔[4]؎
اسی طرح فضائل صدقات میں اللہ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک فرمودات بھی بے شمار وارد ہیں ، چنانچہ صدقہ کرنے والے کی روحانی طاقت کا کیا خوب بیان فرمایا :
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِیْدُ وَتَکَفَّأُ فَأَرْسَاھَا بِالْجِبَالِ فَاسْتَقَرَّتْ فَعَجِبَتِ الْمَلَائِکَۃُ مِنْ شِدَّۃِ الْجِبَالِ، فَقَالَتْ : یَا رَبَّنَا! ھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ الْجِبَالِ؟ قَالَ : نَعَمْ اَلْحَدِیْدَ، قَالُوْا : فَھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ الْحَدِیْدِ؟، قَالَ : اَلنَّارَ۔ قَالُوْا : فَھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ : اَلْمَاءَ۔
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : سید المبلغین، رحمۃللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جب اللہ تَعَالٰی نے زمین کو پیدا فرمایا تووہ ہلنے لگی تو اللہ تَعَالٰی نے پہاڑوں کو اس میں گاڑ دیاجس سے زمین ٹھہر گئی، فرشتے پہاڑوں کی مضبوطی سے متعجب ہوئے اور عرض کیا : الٰہی! کیا تونے پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت وشدید کوئی مخلوق پیدا فرمائیہے؟ اللہ تَعَالٰی نے فرمایا : ہاں !وہ لوہا ہے۔انہوں عرض کیا : الٰہی! کیا تونے لوہے سے بھی زیادہ مضبوط کوئی مخلوق بنائی ہے؟ فرمایا : ہاں ! وہ آگ ہے۔ فرشتوں نے عرض کیا : مولیٰ! کیا آگ سے بھی زیادہ قوی کوئی مخلوق پیدا فرمائی ہے؟ ارشاد ہوا : وہ پانی ہے۔
قَالُوْا : فَھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ الْمَائِ؟، قَالَ : اَلرِّیْحَ، قَالُوْا : فَھَلْ خَلَقْتَ خَلْقاً أَشَدَّ مِنَ الرِّیْحِ؟ قَالَ : اِبْنَ آدَمَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ بِیَمِیْنِہِ فَأَخْفَاھَا مِنْ شِمَالِہِ‘‘۔[5]؎
فرشتے عرض گزار ہوئے : اے رب! کیا کوئی مخلوق پانی سے بھی زیادہ طاقتور پیدا فرمائی ہے؟ ارشادفرمایا : وہ ہوا ہے۔ وہ پھر عرض کرنے لگے : اے پروردگار! کیا ہوا سے بھی زیادہ سخت کسی مخلوق کو پیدا فرمایا ہے؟ اللہ تَعَالٰی نے فرمایا : ہاں وہ انسان کہ جب داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے تو اسے بائیں ہاتھ سے چُھپائے۔
حدیث مذکور کی تشریح میں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جیسے ہلکی کشتی وجہاز پانی پر ہلتا ہے اسی طرح زمین ہلتی تھی فرشتوں نے گمان کیا کہ اس سے لوگ نفع نہ اُٹھاسکیں گے۔[6]؎
حکیم الامت مزید فرماتے ہیں : مرقات نے فرمایا کہ پہلے بو قبیس پہاڑ پیدا ہوا پھر دوسرے پہاڑ، ان پہاڑوں سے زمین ایسی ٹھہر گئی جیسے جہاز میں وزن لاد دینے سے دریا پر ٹھہر جاتا ہے جنبش نہیں کرتا، پہاڑ زمین میں ایسے گڑھے ہیں جیسے زمین میں مضبوط درخت کہ پہاڑوں کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں ، رب تَعَالٰی فرماتا ہے : (وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ) ((النحل : ۱۶/۱۵) ترجمہ : اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے (کنزالایمان)) (ملخصاً)
حکیم الامّت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : فرشتوں کو حیرت یہ ہوئی کہ پہاڑوں نے اتنی بڑی زمین کو اس طرح دبوچ لیا کہ اسے ہلنے نہیں دیتے تو ان سے سخت تر مخلوق کون سی ہوگی، خیال رہے کہ پہاڑ زمین سے زیادہ وزنی نہیں مگر جیسے جہاز کا سامان جہاز کے وزن سے کہیں ہلکا ہوتا ہے مگر جہاز کو ہلنے نہیں دیتا اسی طرح پہاڑ کا معاملہ ہے۔
لوہے، آگ، پانی، ہوا، کے پہاڑ، لوہے، آگ، پانی سے زیادہ مضبوط ہونے کی و جہ بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتیہیں :
’’کیونکہ لوہا پہاڑ کو توڑ دیتا ہے، پہاڑ لوہے کو نہیں توڑتا‘‘۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع