دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

        اسی طرح رب  تَعَالٰی  نے اپنے بندوں کوپوشیدہ اوراعلانیہ اپنی راہ میں خرچ کرنے کے لئے فرمایا ہے :     

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ(۳۱) (إبراھیم : ۱۴؍۳۱)

ترجمہ کنزالایمان :  میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی نہ یارانہ۔

        اور خیرات کرنے والوں کو خوشخبری ہے :

وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ(۳۴) الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِۙ-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۳۵) (الحج : ۲۲؍۳۴۔۳۵)

ترجمہ کنزالایمان : اور اے محبوب خوشی سنادو ان تواضع والوں کو کہ جب  اللہ  کا ذکر ہوتا ہے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں اور جو افتاد پڑے اس کے سہنے والے اور نماز برپا رکھنے والے اور ہمارے دئیے سے خرچ کرتے ہیں ۔

        ایک اور مقام پر فرمایا :

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ(۶۰) اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ(۶۱) (المؤمنون : ۲۳؍۶۰۔۶۱)

ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں یوں کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے یہ لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے۔   

        ’’جو کچھ دیں ‘‘ کی تفسیر میں مولانا نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  زکوٰۃ و صدقات یا یہ معنی ہیں کہ اعمالِ صالحہ بجا لاتے ہیں ۔

        ترمذی کی حدیث میں ہے کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دریافت کیا کہ کیا اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو شرابیں پیتے ہیں اور چوری کرتے ہیں فرمایا اے صدیق کی نوردیدہ ایسا نہیں یہ اُن لوگوں کا بیان ہے جو روزے رکھتے ہیں صدقے دیتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ اعمال نامقبول نہ ہوجائیں ۔

        ’’یہی سب سے پہلے انہیں پہنچے‘‘ اس کی وضاحت میں صدر الافاضل فرماتے ہیں : یعنی نیکیوں کو، معنی یہ ہیں کہ وہ نیکیوں میں اور امتوں پر سبقت کرتے ہیں ۔[1]؎

        اور فرمایا :

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗؕ-وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹) (سبا : ۳۴؍۳۹)

ترجمہ کنزالایمان : تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لئے چاہے اور جو چیز تم  اللہ  کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

        ’’اور دے گا‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے صدرالافاضل فرماتے ہیں :  دنیا میں یا آخرت میں بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ  اللہ   تَعَالٰی  فرماتا ہے خرچ کرو تم پرخرچ کیا جائے گا۔ دُوسری حدیث میں ہے صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، معاف کرنے سے عزّت بڑھتی ہے، تواضع سے مرتبے بلند ہوتے ہیں ۔[2]؎

        ایک اور مقام پر پوشیدہ اوراعلانیہ راہ خدا میں خرچ کرنے والوں کی تعریف فرمائی گئی ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ(۲۹) لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ(۳۰) (فاطر : ۳۵؍۲۹۔۳۰)

ترجمہ کنزالایمان : بیشک وہ جو  اللہ  کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوٹا نہیں تاکہ ان کے ثواب انہیں بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔

        نیز خیرات کرنے والوں کے لئے بڑا اجر ہے :

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۷) (الحدید : ۵۷؍۷)

ترجمہ کنزالایمان :  اللہ  اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ خرچ کرو جس میں تمہیں اوروں کا جانشین کیا تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا  ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔   

        ’’اوروں کا جانشین کیا‘‘ اس کے تحت صدر الافاضل فرماتے ہیں : جو تم سے پہلے تھے اور تمہارا جانشین کرے گا تمہارے بعد والوں کو معنی یہ ہیں جو مال تمہارے قبضے میں ہیں سب  اللہ   تَعَالٰی  کے ہیں اس نے تمہیں نفع اُٹھانے کے لئے دے دئیے ہیں تم حقیقۃً ان کے مالک نہیں ہو بمنزلۂ نائب و وکیل کے ہو، انہیں راہِ خدا میں خرچ کرو اور جس طرح نائب اور وکیل کو مالک کے حکم سے خرچ کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا تو تمہیں بھی کوئی تامل و تردّد نہ ہو۔[3]؎

        اور ایک مقام پرراہ خدا میں خرچ نہ کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی گئی :

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ     الآیۃ  (الحدید : ۵۷؍۱۰)

ترجمہ کنزالایمان :  اور تمہیں کیا ہے کہ  اللہ  کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث  اللہ  ہی ہے۔

        ’’سب کا وارث  اللہ  ہی ہے‘‘ اس کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الافاضل فرماتے ہیں : تم ہلاک ہوجاؤگے اور مال اسی کی مِلک میں رہ جائیں گے اور تمہیں خرچ کرنے کا ثواب بھی نہ ملے گا



4       (خزائن العرفان)

5       (خزائن العرفان)

1       (خزائن العرفان)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن