30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ الآیۃ (البقرۃ : ۲؍۲۶۵)
ترجمہ کنزالایمان : اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینہ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے۔
صدر الافاضل فرماتے ہیں : یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ ایسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور اِنفاق خواہ کم ہو یا زیادہ ہو اللہ تَعَالٰی اس کو بڑھاتا ہے۔[1]؎
اور فرمایا :
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) (البقرۃ : ۲؍۲۶۲)
ترجمہ کنزالایمان : وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر دئیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم
شانِ نزول : یہ آیت حضرت عثمان غنی و حضرت عبدالرحمن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے حق میں نازل ہوئی حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے غزوئہ تبوک کے موقع پر لشکر اسلام کے لئے ایک ہزار اُونٹ مع سامان پیش کئے اور عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے چار ہزار درہم صدقہ کے بارگاہ رسالت میں حاضر کئے اور عرض کیا کہ میرے پاس کُل آٹھ ہزار درہم تھے نصف میں نے اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے رکھ لئے اور نصف راہِ خدا میں حاضر ہیں سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو تم نے دئیے اور جو تم نے رکھے اللہ تَعَالٰی دونوں میں برکت فرمائے۔[2]؎
’’نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ‘‘ اس کی وضاحت میں صدر الافاضل فرماتے ہیں : احسان رکھنا تو یہ کہ دینے کے بعد دُوسروں کے سامنے اظہار کریں کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کئے اور ان کو مکدّر (یعنی شرمندہ) کریں اور تکلیف دینا یہ کہ اسکو عار دلائیں کہ تو نادار تھا مفلِس تھا مجبور تھا نکمّا تھا ہم نے تیری خبرگیری کی یا اورطرح دباؤ دیں یہ ممنوع فرمایا گیا۔[3]؎
ایک اور مقام پر فرمایا :
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ(۲۷۴) (البقرۃ : ۲؍۲۷۴)
ترجمہ کنزالایمان : وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر ان کے لئے ان کا نیگ (ثواب) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنے کا نہایت شوق رکھتے ہیں اور ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں ۔
شانِ نزول : یہ آیت حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ نے راہ خدا میں چالیس ہزار دینار خرچ کئے تھے دس ہزار رات میں اور دس ہزار دن میں اور دس ہزار پوشیدہ اور دس ہزار ظاہر، ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تَعَالٰی وجہہالکریم کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ کے پاس فقط چار درہم تھے اور کچھ نہ تھا اور آپ نے ان چاروں کو خیرات کردیا۔ ایک رات میں ایک دِن میں ایک کو پوشیدہ ایک کو ظاہر۔
فائدہ : آیت کریمہ میں نفقۂ لیل (رات میں خرچ کرنے) کو نفقۂ نہار (دن میں خرچ کرنے) پر اور نفقۂ سرّ (پوشیدہ خرچ کرنے) کو نفقۂ علانیہ (ظاہرکرکے خرچ کرنے)پر مقدم فرمایا گیا اس میں اشارہ ہے کہ چھپا کردینا ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے۔[4]؎
یوں ہی خیرات کرنے والے کے لئے ایک اور بشارت ارشاد فرمائی گئی ہے :
یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ الآیۃ (البقرۃ : ۲؍۲۷۶)
ترجمہ کنزالایمان : اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔
فرمان، ’’بڑھاتا ہے خیرات کو‘‘ کے تحت صدر الافاضل فرماتے ہیں ، یعنی اس کو زیادہ کرتا ہے اور اس میں برکت فرماتا ہے دنیا میں اور آخرت میں اس کا اجر وثواب بڑھاتا ہے۔[5]؎
اللہ تَعَالٰی کی راہ میں صدقہ کرنے والوں کے لئے اجروثواب کا مژدہ ہے :
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ(۶۰) (الأنفال : ۸؍۶۰)
ترجمہ کنزالایمان : اور اللہ کی راہ میں جو خرچ کروگے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہوگے۔
صدر الافاضل فرماتے ہیں : اس کی جزا وافر ملے گی۔[6]؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع