دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

عَنْ حَارِثِ بْنِ وَھْبٍ، قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’تَصَدَّقُوْا فَإِنَّہُ یَأْتِيْ عَلَیْکُمْ زَمَانٌ یَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِہِ فَلَا یَجِدُ مَنْ یَّقْبَلُھَا، یَقُوْلُ الرَّجُلُ :  لَوْ جِئْتَ بِھَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُھَا، فَأَمَّا الْیَوْمَ فَلَا

حضرت حارث بن وہب سے مروی ہے، فرماتے ہیں :  نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ملے گاآدمی کہے گا کہ اگر تم کل لاتے تو میں حَاجَۃَ لِيْ بِھَا‘‘۔[1]؎         لے لیتاآج مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔

        مذکورہ حدیث شریف کی شرح میں حکیم الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : مراد ساری امّت رسول  اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہے نہ کہ صحابہ کیونکہ مال کی فراوانی قریب قیامت حضرت امام مہدی کے زمانہ میں ہوگی، اور ہوسکتا ہے کہ صحابہ ہی سے خطاب ہو اور سیّدنا خضر علیہ السلام اس میں داخل ہوں کہ وہ بھی حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صحابی ہیں اور وہ یہ زمانہ پائیں گے کہ ان کی وفات بالکل قیامت سے متصل ہوگی۔

         حکیم الامّت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ یہ قبول نہ کرنا غِنٰی کی وجہ سے ہوگا کہ سارے لوگ اتنے مالدار ہوجائیں گے کہ آسانی سے کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملے گا اس حدیث کی روش سے معلوم ہورہا ہے کہ اس وقت بھی فقیر ملیں گے تو مگر بہت تلاش اور دشواری سے ورنہ مالداروں پر زکوٰۃ فرض نہ رہتی، جیسے جس کے اعضائے وضو ایسے زخمی ہوں جن پر نہ پانی پہنچ سکے نہ تیمم کا ہاتھ پھر سکے، تو اس پر وضو اور تیمم دونوں معاف ہوجاتے ہیں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقراء کا ہونا بھی  اللہ  کی رحمت ہے کہ ان کے ذریعہ ہم بہت سے فرائض سے سبکدوش ہوتے ہیں ۔

        یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس زمانہ کے لوگ زاہد، صابر اور تارک الدنیا ہوجائیں گے جو زکوٰۃ لینا پسند کریں گے ہی نہیں ۔[2]؎   

        سخی  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ، جنت اور لوگوں سے قریب اور جہنم سے دور ہوتا ہے، جبکہ بخیل اس کے برعکس ، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’اَلسَّخِيُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللّٰہِ، قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ، قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ، بَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ، وَالْبَخِیْلُ بَعِیْدٌ مِنَ اللّٰہِ، بَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ، بَعِیْدٌ مِّنَ النَّاسِ، قَرِیْبٌ مِّنَ النَّارِ۔ وَلَجَاھِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیْلٍ‘‘۔[3]؎   

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :  حضورپاک، صاحب لولاک، سیّاح افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  سخی  اللہ  کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے، آگ سے دور ہے اور کنجوس  اللہ  سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، آگ کے قریب ہے اور یقیناً جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے۔

        حکیم الامّت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :  یہاں مرقات نے فرمایا کہ حقیقی سخی وہ ہے جو غِنٰی پر رب  تَعَالٰی  کی رضا کو ترجیح دے، اس کے تین قرب بیان ہوئے اور ایک دوری،  اللہ   تَعَالٰی  تو ہر ایک سے قریب ہے لیکن اس سے قریب کوئی کوئی ہے۔ شعر :

یار نزدیک تر از من بمعنی است٭دیں عجب بیں کہ من از وے دُورم

        اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ سخاوتِ مال حسنِ مآل یعنی انجام بخیر کا ذریعہ ہے۔ سخی سے مخلوق خود بخود  راضی رہتی ہے۔     

        حکایت : کسی عالم سے پوچھا گیا کہ سخاوت بہتر ہے یا شجاعت؟ فرمایا :  خدا  تَعَالٰی  جسے سخاوت دے، اُسے شجاعت کی ضرورت ہی نہیں ، لوگ خود بخود اُس کے سامنے چت ہوجائیں گے۔

         چونکہ صدقہ غضب کی آگ بجھاتا ہے اس لئے سخی دوزخ سے دور ہے۔

        مذکورہ حدیث شریف میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فرمان :  ’’جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے‘‘ کی تشریح فرماتے ہوئے حکیم الامّت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ رقم طراز ہیں :  یہاں عابد سے مراد عالم عابد ہے جیسا کہ جاہل کے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے، یعنی جو شخص عالم بھی ہو عابد بھی مگر کنجوس کہ نہ زکوٰۃ دے نہ صدقات واجبہ ادا کرے وہ یقیناً سخی جاہل سے بدتر ہوگا کیونکہ وہ عالم حقیقتاً بے عمل ہے بخل بہت سے فسق پیدا کردیتا ہے اور سخاوت بہت خوبیوں کا تخم ہے، بلکہ وہ عابد بھی کامل نہیں ، کیونکہ عبادت مالی یعنی زکوٰۃ وغیرہ ادا نہیں کرتا، صرف جسمانی عبادت ذکر وفکر پر قناعت کرتا ہے جس میں کچھ خرچ نہ ہو۔[4]؎    مومن میں بد اخلاقی اور کنجوسی  ایک ساتھ نہیں پائی جاتیں ۔

عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ، قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِيْ مُؤْمِنٍ :  اَلْبُخْلُ وَسُوْئُ الْخُلْقِ‘‘۔[5]؎

حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  مومن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں



3    (صحیح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ من کسب، باب الصدقۃ قبل الرد، الحدیث :  ۱۴۱۱، ج۱، ص۴۷۶)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الترغیب في الصدقۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث : ۱۰۱۱، ص۳۶۳)

(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ، الحدیث : ۲۵۵۴، ج۳، الجزئ۵، ص۸۱)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک، الحدیث : ۱۸۶۶، ج۱، ص۳۵۴)

4      (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۷۲۔۷۳)

5    (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في السخائ، الحدیث : ۱۹۶۱، ج۳، ص۹۲)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک، الحدیث : ۱۸۶۹، ج۱، ص۳۵۵)

1    (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۷۴۔۷۵)

2     (سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في البخیل، الحدیث : ۱۹۶۲، ج۳، ص۹۳)

        (مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب الإنفاق وکراھیۃ الإمساک، الحدیث : ۱۸۷۲، ج۱، ص۳۵۵)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن