30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا اور یہ ایسا گوشت ہے کہ غلام اسے پکاتے وقت اس میں سے کھا نہیں سکتا اگر وہ اس کی آنکھ، کان یا چہرے سے کھاتا ہے تو مجھے پتہ چل جاتا ہے پھر یہ کہ اس میں سے مجھے مختلف ذائقے حاصل ہوتے ہیں آنکھ کا ذائقہ الگ ہے، کان کا ذائقہ جدا ہے، زبان کا ذائقہ مختلف ہے اور اس کی گُدی اور دماغ کے ذائقے بھی منفرد ہیں اور اس کے پکانے کی مشقت سے بھی محفوظ رہتا ہوں تو اس میں میرے لئے کئی آسانیاں جمع ہوتی ہیں ۔
یہی شخص خلیفہ مہدی کے پاس جانے لگا تو اس کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا : اگر خلیفہ نے تجھے انعام دیا تو اس میں میرا حصہ کتنا ہوگا؟ اس نے کہا :
اگر مجھے ایک لاکھ ملے تو تجھے ایک درہم دوں گا۔ چنانچہ اسے ساٹھ ہزار درہم ملے تو اس نے اسے چار دانق دئیے (ایک دانق درہم کا چھٹا حصّہ ہوتا ہے اس طرح چار دانق درہم کا دو تہائی حصہ ہوا)۔
ایک مرتبہ اس نے ایک درہم کا گوشت خریدا ادھر اس کے دوست نے اسے دعوت دی تو اس نے گوشت قصاب کو واپس کردیا اور ایک دانق کا نقصان اٹھایا اور کہنے لگا مجھے فضول خرچی پسند نہیں ہے۔[1]؎
نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ایثار و محبت اور راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خرچ کرنے کے نیک جذبہ سے سرشار تھے، چنانچہ :
عَنْ مَالِکٍ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُأَخَذَ أَرْبَعَ مِائَۃِ دِیْنَارٍ فَجَعَلَھَا فِيْ صُرَّۃٍ، فَقَالَ لِغُلَامٍ : اِذْھَبْ بِھَا إِلٰی أَبِيْ عُبَیْدَۃَ ثُمَّ تَلَہَّ فِي الْبَیْتِ سَاعَۃً حَتّٰی تَنْظُرَ مَا یَصْنَعُ، قَالَ : فََذَھَبَ بِھَا الْغُلَامُ، فَقَالَ : یَقُوْلُ لَکَ أَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ خُذْ ھٰذِہِ، فَقَالَ :
حضرت مالک دار سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے چار سو دینار لئے اور تھیلی میں ڈال کراپنے ایک غلام سے فرمایا : یہ ابو عبیدہ کے پاس لے جاؤ پھر کچھ دیر اُن کے گھر ہی میں ٹھہرو اور دیکھو کہ وہ ان کا کیا کرتے ہیں ، تو غلام وہ دینار لے کر چلا اور عرض کی : امیر المؤمنین نے آپ کے لئے کہا ہے کہ یہ دینار
وَصَلَہُ اللّٰہُ وَرَحِمَہُ، ثُمَّ قَالَ : تَعَالِي یَا جَارِیَۃُ اِذْھَبِيْ بِھٰذِہِ السَّبْعَۃِ إِلٰی فُلَانٍ، وَبِھٰذِہِ الْخَمْسَۃِ إِلٰی فُلَانٍ، حَتّٰی أَنْفَذَھَا، فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلٰی عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ فَوَجَدَہُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَھَا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، فَأَرْسَلَہُ بِھَا إِلَیْہِ، فَقَالَ مُعَاذٌ : وَصَلَہُ اللّٰہُ : یَاجَارِیَۃُ اِذْہَبِیْ اِلٰی بَیْتِ فُلَانٍ بِکَذَا، وَلِبَیْتِ فُلَانٍ بِکَذَا، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَۃُ مُعَاذٍ وَقَالَتْ : نَحْنُ وَاللّٰہِ مَسَاکِیْنُ فَأَعْطِنَا فَلَمْ یَبْقَ فِي الْخِرْقَۃِ إِلَّا دِیْنَارَانِ فَدَحٰی بِھِمَا إِلَیْھَا، وَرَجَعَ الْغُلَامُ فَأَخْبَرَ بِذٰلِکَ، وَقَالَ : إِنَّھُمْ إِخْوَۃٌ بَعْضُھُمْ مِّنْ بَعْضٍ۔[2]؎
لے لیجئے، تو انہوں نے فرمایا : اللہ تَعَالٰی ان کا بھلا کرے اور ان پر اپنی رحمت فرمائے۔ پھراپنی باندی کو بلا کر فرمایا : اے باندی! یہاں آؤ، یہ سات دینارفلاں کو دے آؤ اور یہ پانچ فلاں کو، حتی کہ اس طرح انہوں نے سارے دینار تقسیم کر دئیے۔ غلام نے واپس آکر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے تمام معاملہ بیان کیا، پھر غلام نے دیکھا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس جیسی ایک تھیلی حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے لئے تیار کر رکھی ہے۔حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے غلام کو وہ دینار دے کر حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بھیجا، ( غلام نے وہ دینار حضرت معاذ کی خدمت میں پیش کئے) تو حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : اللہ تَعَالٰی ان کا بھلا کرے۔پھر اپنی باندی سے فرمایا : اے باندی! اِتنے دینار فلاں کے گھر دے آؤ اور اتنے فلاں کے گھر، تو حضرت معاذ کی زوجہ محترمہ تشریف لائیں اور کہا کہ خدا کی قسم! ہم خود بھی مسکین ہیں ، ہمیں بھی دیجئے۔اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی رہ گئے تھے حضرت معاذ نے وہ دو دینار زوجہ محترمہ کی طرف پھینکے اور غلام نے حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بارگاہ میں حاضر ہوکر سارا معاملہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا : بے شک یہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔
بُخل ناحق خونریزی کا باعث ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’اِتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَھُمْ عَلٰی أَنْ سَفَکُوْا دِمَائَھُمْ، وَاسْتَحَلُّوْا مَحَارِمَھُمْ‘‘۔[3]؎
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ، قرارِقلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کوہلاک کردیا، کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی اور حرام کو حلال جانا۔
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ظلم کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اور کسی کا حق مارنا، اسکی بہت قسمیں ہیں گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے، قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم، کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پر ظلم، یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنےظاہری معنی پر ہے یعنی ظالم پل صراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا، یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا، جیسے کہ مومن کا ایمان اور اس کے نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے، رب تَعَالٰی فرماتا ہے : (یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ أَیْدِیْھِمْ) ((الحدید : ۵۷/۱۲) ترجمہ : (دیکھو گے کہ) ان کا نور ان کے آگے دوڑتا ہے۔ (کنزالایمان)) چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لئے اندھیرے میں رہا۔
عربی میں شُحّ بخل سے بدتر ہے، بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے غرض کہ شح، بخل، حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے، اسی لئے یہ فتنوں ، فساد، خوں ریزی وقطع رحمی کی جڑ ہے، جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ انکے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔[4]؎
ایک زمانہ ایسا ہوگا کہ جب صدقہ لینے والا کوئی نہ ہوگا، حدیث شریف میں ہے :
3 تلہّ : ھو بفتح التاء المثناۃ فوق واللام أیضاً وتشدید الھائ : أي تشاغل۔فدحی بھما : بالحاء المھملۃ : أی رمی بھما۔ (سیر أعلام النبلائ، ج۱، ص۴۵۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع