دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

اس نے کہا :  تم اس کے خاص آدمی ہو اگر تمہارا ستر ننگا ہوجائے اور کپڑے پھٹ جائیں تو پھر کیا ہوگا؟ اس نے کہا :  وہ کہے گا :   اللہ  کی قسم!  میرے پاس تو سُوئی نہیں جس کے ساتھ میں اس کی سلائی کروں ۔ اور اگر محمد بن یحییٰ بغداد سے نوبہ (ایک مقام) تک (اتنے بڑے) گھر کا مالک ہو اور وہ سوئیوں سے بھرا ہوا ہو اور پھر حضرت جبریل اور حضرت میکائیل علیہما السلام تشریف لائیں اور ان کے ساتھ حضرت یعقوب علیہ السلام بھی ہوں اور وہ اس سے ایک سوئی مانگیں تاکہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کی سلائی کریں جو پیچھے سے پھٹ گئی تھی تو تب بھی وہ سُوئی نہیں دے گا۔[1]؎

        بخلرزق سے محروم ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ چنانچہ

عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَکْرٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَاقَالَتْ :  قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’لَا تُوْکِيْ فَیُوْکٰی عَلَیْکِ‘‘۔[2]؎

حضرت اسماء بنت ابی بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتی ہیں :  رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے فرمایا : راہ خدا میں خرچ کرنے سے مت رک ورنہ رزق روک دیا جائے گا۔

         جمع مال سے بچنے اور سائل کو تہی دست نہ لوٹانے کی ترغیب میں بیان ہے :

عَنْ بِلَالٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  قَالَ :  قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’یَا بِلَالُ مُتْ فَقِیْراً وَلَا تَمُتْ

حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنےغَنِیّاً‘‘۔ قُلْتُ :  وَکَیْفَ لِيْ بِذَاکَ؟ قَالَ :  ’’مَا رُزِقْتَ فَلَا تَخْبَأْ، وَمَا سُئِلْتَ فَلَا تَمْنَعْ‘‘، فَقُلْتُ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَیْفَ لِيْ بِذَاکَ؟ قَالَ :  ’’ھُوَ ذَاکَ أَوِ النَّارُ‘‘۔[3]؎

 مجھ سے فرمایا :  اے بلال! فقیر مرنا غنی نہ مرنا، میں نے عرض کی :  یہ مجھ سے کیسے ہوگا؟ فرمایا :  تمہیں جو رزق ملے اسے جمع مت کرو اور جو تم سے مانگا جائے اس سے منع مت کرو، تو میں نے عرض کی :  یارسول  اللہ ! یہ مجھ سے کیسے ہوگا؟  فرمایا :  ایسے ہی کرنا ہوگا ورنہ آگ ہے۔

        ان دو شخصوں کے متعلق جن میں سے ایک نے اپنے بعد اپنی اولاد کے معاملہ میں  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کیا اور دوسرے نے فقر کے خوف سے مال جمع کرکے رکھا حدیث شریف میں بیان ہوا کہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’نَشَرَ اللّٰہُ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِہِ أَکْثَرَ لَھُمَا الْمَالَ وَالْوَلَدَ، فَقَالَ لِأَحَدِھِمَا : أَيْ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ! قَالَ :  لَبَّیْکَ رَبِّ وَسَعْدَیْکَ۔ قَالَ :  أَلَمْ أُکْثِرْ لَکَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟

حضرت عبد  اللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبرصلی  اللہ  تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :  اللہ   تَعَالٰی  نے اپنے بندو ں میں سے دو بندوں کو ان کی موت کے بعد زندہ فرمایا جنہیں بکثرت مال واولاد دی تھی۔ ایک سے فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! اس نے عرض کی :  اے رب! عَزَّ وَجَلَّ  میں حاضر ہوں ۔  اللہ   تَعَالٰی  نے فرمایا :  کیا میں نے تجھ    

قَالَ :  بَلٰی أَيْ رَبِّ۔ قَالَ :  کَیْفَ صَنَعْتَ فِیْمَا آتَیْتُکَ؟ قَالَ :  تَرَکْتُہُ لِوَلَدِيْ مَخَافَۃَ الْعَیْلَۃِ عَلَیْھِمْ۔ قَالَ :  أَمَا إِنَّکَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِکْتَ قَلِیْلاً، وَلَبَکَیْتَ کَثِیْراً، أَمَا إِنَّ الَّذِيْ تَخَوَّفْتَ عَلَیْھِمْ قَدْ أَنْزَلْتُ بِھِمْ وَیَقُوْلُ لِلْآخَرِ :

پرمال و اولاد کی کثرت نہ کی ؟ اس نے عرض کیا :  کیوں نہیں ! اے میرے رب! عَزَّ وَجَلَّ   اللہ   تَعَالٰی  نے فرمایا :  تم نے میرے عطاکردہ مال میں کیا عمل کیا ؟ اس نے عرض کی :  اسے فقر کے خوف سے اولاد کے لئے چھوڑدیا۔ اللہ   تَعَالٰی  نے فرمایا :  اگر تم حقیقت جان لیتے تو کم ہنستے اورزیادہ روتے۔ سنو! جس فقر کا تمہیں اپنی اولاد پر خوف تھا وہ میں ان پر نازل کرچکا ہوں ۔ اور دوسرے

 أَيْ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَیَقُوْلُ :  لَبَّیْکَ أَيْ رَبِّ وَسَعْدَیْکَ؟ قَالَ لَہُ :  أَلَمْ أُکْثِرْ لَکَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟ قَالَ :  بَلٰی۔ أَيْ رَبِّ۔ قَالَ :  فَکَیْفَ صَنَعْتَ فِیْمَا آتَیْتُکَ؟ فَقَالَ :  أَنْفَقْتُ فِيْ طَاعَتِکَ، وَوَثِقْتُ لِوَلَدِيْ مِنْ بَعْدِيْ بِحُسْنِ طَوْلِکَ۔ قَالَ :  أَمَا إِنَّکَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِکْتَ کَثِیْراً، وَلَبَکَیْتَ قَلِیْلاً، أَمَا إِنَّ الَّذِيْ سے فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! اس نے عرض کی : اے میرے رب! عَزَّ وَجَلَّ میں حاضر ہوں ۔  اللہ   تَعَالٰی  نے فرمایا :  کیا میں نے تجھ پر مال و اولاد کی کثرت نہیں کی ؟ اس نے عرض کی :  کیوں نہیں ، اے میرے رب! عَزَّ وَجَلَّ    اللہ   تَعَالٰی  نے فرمایا :  تم نے میرے عطاکردہ مال میں کیا عمل کیا ؟ اس نے عرض کی :  میں نے اسے تیری اِطاعت میں خرچ کیا اور اپنے بعد اپنی اولاد کے بارے میں تیرے فضل وکرم پر بھروسا کیا۔ اللہ   تَعَالٰی  نے فرمایا : اگر تم حقیقت  جان لیتے تو زیادہ ہنستے اور کم روتے۔ سنو! جن  قَدْ وَثِقْتَ بِہِ أَنْزَلْتُ بِھِمْ‘‘۔[4]؎ کے بارے میں تونے مجھ پر بھروسا کیا میں نے ان کی حاجت روائی فرمائی۔

        بخیل بظاہر تو مال جمع کرتا ہے مگر حقیقت میں اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ اس مال کے سبب جن نعمتوں کا حصول اس کے لئے ممکن ہوسکتا ہے اپنی کنجوسی کی وجہ سے وہ اُن سے محروم رہتا ہے۔ چنانچہ :

        کہا جاتا ہے کہ مروان بن ابی حفصہ بخل کی وجہ سے گوشت نہیں کھاتا تھا اور جب اس کا جی چاہتا تو وہ غلام کو بھیج کر بازار سے سِری منگوالیتا اور اسے کھاتا اس سے کہا گیا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ گرمیوں سردیوں میں سریاں ہی کھاتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا :  یہ ٹھیک ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اس کے نرخ کا علم ہے لہٰذا میں غلام کی خیانت سے محفوظ رہتا ہوں اور وہ



4    (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، حکایات البخلائ، ج۳، ص۳۴۳)

5      (صحیح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ والشفاعۃ فیھا، الحدیث : ۱۴۳۳، ج۱، ص۳۵۱)

6      (المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث : ۱۰۲۱، ج۱، ص۳۴۱)

 

1      (المعجم الأوسط للطبراني، الحدیث : ۴۳۸۳، ج۴، ص۳۴۲)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن