دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

اور تجھے دنیا وآخرت میں عوض مل جائے گا اور اسے روکے رکھنا خود تیرے لئے ہی بُرا ہے کیونکہ وہ چیز سڑ گل یا اور طرح سے ضائع ہوجائے گی اور تُو ثواب سے محروم ہوجائیگا، اسی لئے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پُرانا بیکار کپڑا خیرات کردو نیا جوتا رب  تَعَالٰی  دے تو پُرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اُس کا بھلا ہوجائے گا۔

         مفتی صاحب رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ مزیدفرماتے ہیں :  اس میں دو حکم بیان ہوگئے ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقہ دے کر کل خود بھیک نہ مانگو، دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔[1]؎   

        کہا گیا ہے کہ نوشیروان کے پاس ایک ہندوستانی حکیم اور ایک رومی فلاسفر آئے،  نوشیروان نے ہندوستانی حکیم سے کہا :  کچھ کہو، وہ بولا :  بہترین آدمی وہ ہے جو سخاوت کے ساتھ ملاقات کرے اور غصّے کی حالت میں باوقار رہے، گفتگو میں ٹھہراؤ ہو اور رقّت کی حالت میں بھی تواضع کرنے والا ہو نیز تمام رشتہ داروں پر شفقت کرنے والا ہو۔

        رومی فلاسفرنے کھڑے ہو کرکہا :  بخیل آدمی کا دشمن اس کے مال کا وارث ہوتا ہے، جو آدمی شکر کم ادا کرتا ہے وہ کامیابی نہیں پاسکتا، جھوٹے لوگ قابلِ مذمت ہیں اور چغل خور حالتِ فقر میں مرتے ہیں اور جو آدمی رحم نہیں کرتا اس پر بے رحم شخص مسلّط کردیا جاتا ہے۔[2]؎

        ایک اور حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  قَالَ :  قَالَ النَّبِيُّ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’مَا مِنْ یَومٍ طَلَعَتْ شَمْسُہُ إِلَّا وَکَانَ بِجَنْبَتَیْھَا مَلَکَانِ یُنَادِیَانِ نِدَائً یَسْمَعُہُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ کُلُّھُمْ غَیْرُ الثَّقَلَیْنِ۔ یَا أَیُّھَا النَّاسُ ھَلُمُّوْا إِلٰی رَبِّکُمْ، إِنَّ مَا

حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  روزانہ سورج یوں ہی طلوع ہوتا ہے کہ اس کے اطراف میں دو فِرشتے پکارتے ہیں اور ان کی یہ پکار جن و اِنس کے سوا تمام مخلوق سُنتی ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ بے شک جو (رزق) اگرچہ کم ہو اور کفایت   

قَلَّ وَکَفٰی خَیْرٌ مِمَّا کَثُرَ وَأَلْھٰی وَلَا آبَتِ الشَّمْسُ إِلَّا وَکَانَ بِجَنْبَتَیْھَا مَلَکَانِ یُنَادِیَانِ نِدَائً یَسْمَعُہُ خَلْقُ اللّٰہِ کُلُّھُمْ إِلَّا الثَّقَلَیْنِ :  اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقاً خَلَفاً وَأَعْطِ مُمْسِکاً تَلَفاً۔[3]؎

 کرے تو وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ تو ہو مگر (یادِ الٰہی سے)غافل کردے اور ہر روز سورج یوں ہی ڈوبتا ہے کہ اس کے اطراف میں دو فِرشتے پکارتے ہیں جس پکار کو جن و اِنس کے سوا تمام مخلوق سُنتی ہے الٰہی! عَزَّ وَجَلَّ  سخی کو اچھا عوض دے اور بخیل کو بربادی دے۔

        حضرت امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :  میرے نزدیک کسی بخیل کو عادل قرار دینا درست نہیں کیونکہ بخل اسے لالچ پر اُبھارتا ہے نتیجۃً وہ نقصان کے خوف سے اپنے حق سے زیادہ لے لیتا ہے۔ لہٰذا جس شخص میں بخل کی صفت پائی جاتی ہے اس کے پاس امانت محفوظ نہیں ہوسکتی۔[4]؎

         اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے نہ کہ کمی چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

عَنْ قَیْسِ بْنِ سِلَعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  أَنَّ إِخْوَتَہُ شَکَوْہُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  فَقَالُوْا :  إِنَّہُ یُبَذِّرُ مَالَہُ، وَیَنْبَسِطُ فِیْہِ۔

حضرت قیس بن سلع انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ان کے بھائیوں نے حضور پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ان کی شکایت کی کہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں اور اس معاملے میں بہت کھلا ہاتھ ہے،     

فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’یَا قَیْسُ مَا شَأْنُ إِخْوَتِکَ یَشْکُوْنَکَ یَزْعَمُوْنَ أَنَّکَ تُبَذِّرُ مَالَکَ، وَتَنْبَسِطُ فِیْہِ‘‘، قُلْتُ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ إِنِّيْ آخُذُ نَصِیْبِيْ مِنَ الثَّمَرَۃِ فَأُنْفِقُہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مَنْ صَحِبَنِيْ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمْ صَدْرَہُ وَقَالَ :  ’’أَنْفِقْ یُنْفِقِ اللّٰہُ عَلَیْکَ‘‘ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ،

تو سید المبلغین، رحمۃللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان سے فرمایا :  تمہارے بھائیوں کا کیا مسئلہ ہے، وہ اس گمان پر تمہاری شکایت کررہے ہیں کہ تم اپنے مال میں بہت فضول خرچی کرتے ہو اور تمہارا ہاتھ بہت کھلا ہے؟ میں نے عرض کی :  یا رسول  اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں آمدنی سے اپنا حصہ لے کر  اللہ  کی راہ میں اور اپنے دوستوں میں خرچ کردیتا ہوں تو رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے سینۂ اقدس پر دستِ اقدس رکھا اور تین مرتبہ فرمایا :  خرچ کر  اللہ  تجھے عطا فرمائے گا۔

 فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذٰلِکَ خَرَجْتُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَمَعِيَ رَاحِلَۃٌ، وَأَنَا أَکْثَرُ أَھْلِ بَیْتِي الْیَوْمَ وَأَیْسَرُہُ۔[5]؎

 (راوی فرماتے ہیں ) اس کے بعد جب بھی میں راہ خدا میں نکلتا تو میرے پاس اپنی سواری ہوتی اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں مال و آسائش میں اپنے اہل خانہ (بھائیوں )  سے بڑھ کر ہوں ۔

        شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، ، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال صلی  اللہ  تعالٰی علیہ وسلمکی بارگاہ میں ایک عورت کی تعریف کی گئی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کی کہ وہ بہت روزے رکھنے والی اوررات کو قیام کرنے والی ہے لیکن اس میں بخل کی عادت بھی ہے تو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  پھر اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔

        حضرت بشررَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  بخیل کو دیکھنا دل کو سخت کرتا ہے اور بخیل سے ملنا مومنوں کے دلوں پر شاق ہوتا ہے۔

        حضرت یحییٰ بن معاذرَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  سخی لوگ چاہے فاجر ہوں ان کے لئے دلوں میں محبت ہی ہوتی ہے اور بخیل چاہے کتنے ہی بھلے کیوں نہ ہوں دلوں میں ان کے لئے نفرت



3      (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۷۰۔۷۱)

  (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم البخل، ج۳، ص۳۴۲)

5      (شعب الإیمان، باب الزکاۃ، فصل في کراھیۃ رد السائل، الحدیث : ۳۴۱۲، ج۳، ص۲۳۳)

1      (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم البخل، ج۳، ص۳۴۲)

2    (المعجم الأوسط للطبراني، الحدیث : ۸۵۳۶، ج۸، ص۲۴۷)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن