30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرائے اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا جسم مبارک پر قمیص نہیں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔[1]؎
حضرت جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ہمراہ سفر پر تھے جبکہ آپ کے ساتھ کچھ لوگ اور بھی تھے جو خیبر سے لَوٹ کر آئے تھے کہ چند دیہاتی آپ کے گرد جمع ہوکر مانگنے لگے حتی کہ انہوں نے آپ کو ببول کے درخت کی طرف مجبور کردیا اور آپ کی چادر مبارک لے لی، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَٹھہرے اور فرمایا : میری چادر مجھے دو اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر میرے پاس ان کانٹوں کے برابر جانور ہوتے تو میں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا پھر تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔[2]؎
ہر روزدو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خرچ کرنے والے کے لئے دعا جبکہ دوسرا بخیل کے لئے بددعا کرتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَا مِنْ یَوْمٍ یُصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ، إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ، فَیَقُوْلُ أَحَدُھُمَا : اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقاً خَلَفاً، وَیَقُوْلُ الْآخَرُ :
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور دو فرشتے نہ اُتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے : الٰہی! عَزَّ وَجَلَّ سخی کو زیادہ اچھا عوض دے اور دوسرا کہتا ہے : الٰہی! عَزَّ وَجَلَّ اللّٰہُمَّ أَعْطِ مُمْسِکاً تَلَفاً‘‘۔[3]؎ بخیل کو بربادی دے۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یعنی سخی کے لئے دعا اور کنجوس کے لئے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینا قبول ہے، خیال رہے کہ خَلَف مطلقاً عوض کوکہتے ہیں دنیاوی ہو یا اُخروی، حسّی ہو یا معنوی مگر تَلَف دنیوی اور حسّی بربادی کو کہا جاتاہے، رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ ) ((السبا : ۳۴/۳۹)
ترجمہ : اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا (کنزالایمان)) [4]؎
حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : سخاوت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطاسے ہے ، سخاوت کرو اللہ تَعَالٰی تمہیں مزیدعطا فرمائے گا، سنو! اللہ تَعَالٰی نے سخاوت کو پیدا فرماکر ایک مرد کی صورت عطا فرمائی اور اس کی اصل کو طوبیٰ درخت کی جڑ میں راسخکردیا اور ٹہنیوں کو سدرۃ المنتہیٰ کی ٹہنیوں کے ساتھ مضبوط کر دیا اور اس کی بعض شاخوں کو دنیا کی طرف جُھکا دیا تو جو شخص اس کی ایک ہی ٹہنی پکڑ لے اللہ تَعَالٰی اسے جنت میں داخل فرمادیتا ہے، سنو! بیشک سخاوت ایمان ہی سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور اللہ تَعَالٰی نے بخل کو اپنے غضب سے پیدا فرمایا اور اس کی اصل کو شجر زقوم (جہنم کے کانٹے دار درخت) کی جڑ میں مضبوط کر دیا۔ اس کی بعض شاخیں زمین کی جانب مائل فرمادیں تو جو شخص اس کی کسی بھی ٹہنی کو تھامتا ہے اللہ تَعَالٰی اسے جہنم میں داخل فرمادیتا ہے، سنو! بخل ناشکری ہے اور ناشکری جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بنو لحیان کے وفد سے پوچھا : اے بنو لحیان! تمہارا سردار کون ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جد بن قیس، مگر وہ بخیل ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : بخل سے بڑی بیماری کونسی ہے، تو پھر تمہارے سردار حضرت عمرو بن جموح ہیں ۔
ایک روایت میں ہے انہوں نے عرض کی کہ جد بن قیس ہمارے سردار ہیں ، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : تم نے اُسے سردار کیوں بنایا ہے؟ انہوں نے عرض کی : اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ مال دار ہیں لیکن اس کے باوجود ہم ان میں بخل پاتے ہیں ۔ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : بھلا بخل سے بڑھ کر بھی کوئی بیماری ہے؟ وہ تمہارا سردار نہیں ، تو عرض کی : یارسول اللہ ! پھر ہمارا سردار کون ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : تمہارے سردار بشر بن براء ہیں ۔[5]؎
اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا مفید ہے جبکہ اسے روک رکھنا بعض اوقات مضر ہوتا ہے۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نزول سکینہ، فیض گنجینہوَسَلَّمَ : ’’یَا اِبْنَ آدَمَ إِنَّکَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَیْرٌ لَّکَ، وَإِنْ تُمْسِکْہُ شَرٌّ لَّکَ، وَلَا تُلَامُ عَلٰی کَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی‘‘۔[6]؎
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اے انسان! اگر تم بچا مال خرچ کردو توتمہارے لئے اچھا ہے اور اگر اُسے روک رکھو تو تمہارے لئے بُرا ہے اور بقدرِ ضرورت اپنے پاس رکھ لو تو تم پر ملامت نہیں اور دینے میں اپنے عیال سے ابتدا کرو اور اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔
اس حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یعنی اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا خود تیرے لئے ہی مفید ہے کہ اس سے تیرا کوئی کام نہ رُکے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع