30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’تو لحاظ رکھو ایسا نہ ہو کہ اموال و اولاد میں مشغول ہوکر ثوابِ عظیم کھو بیٹھو‘‘۔[1]؎
شیطان شب و روز وسوسے دلاتا رہتا ہے کہ خرچ کروگے تو ختم ہوجائے گا، سب کھِلادوگے تو کھاؤ گے کیا؟اور یوں انسان کو بخل پر ابھارتا ہے قرآن کریم میں اس قسم کے وہم پر تنبیہ فرمائی گئی ہے ۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۪-وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ(۲۶۷) اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِۚ-وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًاؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ(۲۶۸) (البقرۃ : ۲؍۲۶۷۔۲۶۸)
ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے تو نہ لوگے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بے پرواہ سراہا گیا ہے شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
صدر الافاضل مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : یعنی بخل کا اور زکوٰۃ و صدقہ نہ دینے کا اس آیت میں یہ لطیفہ ہے کہ شیطان کسی طرح بخل کی خوبی ذہن نشین نہیں کرسکتا اس لئے وہ یہی کرتا ہے کہ خرچ کرنے سے ناداری کا اندیشہ دلا کر روکے آجکل جو لوگ خیرات کو روکنے پر مصر ہیں وہ بھی اسی حیلہ سے کام لیتے ہیں ۔[2]؎
حقوق واجبہ ادا کرنے میں بخل کرتے ہوئے مال جمع کرتے رہنے کا درد ناک عذاب ہے۔چنانچہ اللہ تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے :
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵) (التوبۃ : ۹؍۳۴، ۳۵)
ترجمہ کنزالایمان : اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ وہ ہے جو تم نے اپنے لئے جوڑ رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔
’’خرچ نہیں کرتے ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الافاضل فرماتے ہیں : بخل کرتے ہیں اور مال کے حقوق ادا نہیں کرتے، زکوٰۃ نہیں دیتے۔ شانِ نزول سدی کا قول ہے کہ یہ آیت مانعینِ زکوٰۃ کے حق میں نازل ہوئی جبکہ اللہ تَعَالٰی نے احبار اور رُہبان کی حرص مال کا ذکر فرمایا تومسلمانوں کو مال جمع کرنے اور اس کے حقوق ادا نہ کرنے سے حذر دلایا۔
حضرت ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ دی گئی وہ کنز نہیں خواہ دفینہ ہی ہو اور جس کی زکوٰۃ نہ دی گئی وہ کنز ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں ہوا کہ اس کے مالک کو اس سے داغ دیا جائے گا رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اصحاب نے عرض کیا کہ سونے چاندی کا تو یہ حال معلوم ہوا پھر کون سا مال بہتر ہےجس کو جمع کیا جائے فرمایا ذکر کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اور نیک بی بی جو ایماندار کی اسکے ایمان پر مدد کرے یعنی پرہیزگار ہو کہ اس کی صحبت سے طاعت و عبادت کا شوق بڑھے (رواہ الترمذی) مسئلہ : مال کا جمع کرنا مباح ہے مذموم نہیں جبکہ اسکے حقوق ادا کئے جائیں حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت طلحہ وغیرہ اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُممالدار تھے اور جو اصحاب کہ جمع مال سے نفرت رکھتے تھے وہ ان پر اعتراض نہ کرتے تھے۔[3]؎
یونہی خرچ کرنے میں اعتدال بھی ضروری ہے کہ نہ تو بخل کیا جائے کہ باعثِ عذاب ہو اور نہ اتنا خرچ کرے جس کی وجہ سے اُس کے شب وروز مفلوج ہوجائیں اور خود حالتِ فقر کو پہنچ جائے۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے :
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ الآیۃ (بني إسرائیل : ۱۷؍۲۹۔۳۰)
ترجمہ کنزالایمان : اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا بیشک تمہارا رب جسے چاہے رزق کشادہ دیتا اور کستا ہے۔
صدر الافاضل فرماتے ہیں : یہ تمثیل ہے جس سے اِنفاق یعنی خرچ کرنے میں اعتدال ملحوظ رکھنے کی ہدایت منظور ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلوم ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے دینےکے لئے ہِل ہی نہیں سکتا ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوگا کہ بخیل، کنجوس کو سب بُرا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے۔ شانِ نزولـ : ایک مسلمان بی بی کے سامنے ایک یہودیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سخاوت کا بیان کیا اور اس میں اس حد تک مبالغہ کیا کہ حضرت سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ترجیح دیدی اور کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سخاوت اس انتہا پر پہنچی ہوئی تھی کہ اپنے ضروریات کے علاوہ جو کچھ بھی انکے پاس ہوتا سائل کو دے دینے سے دریغ نہ فرماتے یہ بات مسلمان بی بی کو ناگوار گذری اور انہوں نے کہا کہ انبیاء علیہم السلام سب صاحبِ فضل وکمال ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جُود و نوال میں کچھ شبہ نہیں لیکن سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا مرتبہ سب سے اعلیٰ ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے چاہا کہ یہودیہ کو حضرت سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے جُود و کرم کی آزمائش کرادی جائے چنانچہ اُنہوں نے اپنی چھوٹی بچی کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں بھیجا کہ حضور سے قمیص مانگ لائے اس وقت حضور کے پاس ایک ہی قمیص تھی جو زیب تن تھی وہی اُتار کر عطا فرمادی اور اپنے آپ دولت سرائے اقدس میں تشریف رکھی شرم سے باہر تشریف نہ لائے یہاں تک کہ اذان کا وقت آیا اذان ہوئی صحا بہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے انتظار کیا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتشریف نہ لائے تو سب کو فکر ہوئی حال معلوم کرنے کے لئے دولت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع