دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

تیسری قسم : یہ وہ آفت ہے جس سے کوئی بھی نہیں بچتا وہ یہ کہ مال کی اصلاح اسے  اللہ  تَعَالٰی  کے ذکر سے غافل کردیتی ہے اور جو کام بندے کو  اللہ   تَعَالٰی  سے غافل کردے وہ نقصان کا باعث ہے۔

        اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :

        مال میں تین آفات ہیں ایک یہ کہ حرام طریقے سے حاصل کرے، عرض کی گئی :  اگر حلال طریقے سے حاصل کرے تو؟ فرمایا :  اسے ناحق استعمال کرتا ہے پوچھا گیا :  اگر صحیح مقام پر خرچ کرے تو؟ فرمایا :  اس کی اصلاح اسے  اللہ   تَعَالٰی  سے غافل کردیتی ہے۔ 

        اور یہ لاعلاج مرض ہے کیونکہ عبادت کی اصل، اس کا مغز اور راز  اللہ   تَعَالٰی  کا ذکر اور اس کے جلال میں تفکّر ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ دل فارغ ہو جب کہ مال اور ساز و سامان والا صبح و شام کسانوں سے الجھاؤ اور ان  سے حساب و کتاب میں مشغول رہتا ہے اسی طرح شرکاء کے ساتھ پانی اور زمین کی حدود کا جھگڑا ہوتا ہے خراج کے سلسلے میں حکومتی کارندوں سے اور تعمیر میں کوتاہی کے سلسلے میں مزدوروں سے اختلاف نیز کاشتکاروں سے خیانت اور چوری کے حوالے سے جھگڑا رہتا ہے۔

        تاجر کو اپنے شریک کی طرف سے خیانت کی فکر رہتی ہے نیز یہ کہ وہ نفع زیادہ لیتا ہے اور کام میں کوتاہی کرتا ہے علاوہ ازیں مال کو ضائع کرتا ہے اسی طرح جانوروں کا مالک بھی اس قسم کے مسائل سے دوچار ہوتا ہے بلکہ مال کی کوئی بھی صورت ہو یہی پریشانی رہتی ہے لیکن جو خزانہ زمین میں دفن کیا گیا ہو اس میں مشغولیت کم ہوتی ہے اگرچہ یہاں بھی دل کا تردّد باقی ہوتا ہے کہ کہاں خرچ کرے اس کی حفاظت کیسے کرے اس پر لوگ مطلع نہ ہوجائیں ۔

        غرضیکہ دنیوی افکار کی وادیوں کی کوئی انتہا نہیں ہے اور جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو وہ ان تمام باتوں سے محفوظ ہے۔

        تویہ دنیوی آفات ہیں اس کے علاوہ بھی دنیا داروں کو پریشانی، غم، خوف، حاسدوں کے حسد کو دور کرنے کی مشقت مال کی حفاظت اور کمائی کے سلسلے میں سخت خطرات ہیں لہٰذا مال کا تریاق (علاج) یہ ہے کہ اس سے گزر اوقات کے لئے لینے کے بعد باقی اچھے کاموں پر خرچ کردے کیوں کہ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زہر اور آفات ہیں ۔

        ہم  اللہ   تَعَالٰی  سے سلامتی اور اچھی مدد کا سوال کرتے ہیں  اللہ   تَعَالٰی  اپنے لطف و کرم سے نواز دے بے شک وہ اس پر قادر ہے۔[1]؎

بُخل کی مذمّت

         اللہ   تَعَالٰی  بُخل کی مذمت فرماتا ہے :

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ      الآیۃ (النساء : ۴؍۳۶۔۳۷)

ترجمہ کنزالایمان :  بے شک  اللہ  کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا جو آپ بخل کریں اور اوروں سے بخل کے لئے کہیں اور  اللہ  نے جو اُنہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپائیں ۔

        بخل یہ ہے کہ خود کھائے دوسرے کو نہ دے، شُحّ یہ ہے کہ نہ کھائے نہ کھلائے سَخَا یہ ہے کہ خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے جُوْد یہ ہے کہ آپ نہ کھائے دوسروں کو کھلائے، شانِ نزول :  یہ آیت یہود کے حق میں نازل ہوئی جو سید عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے  مسئلہ :  اس سے معلوم ہوا کہ علم کو چھپانا مذموم ہے۔   

        حدیث شریف میں ہے کہ  اللہ  کو پسند ہے کہ بندے پر اس کی نعمت ظاہر ہو۔

  مسئلہ :   اللہ  کی نعمت کا اظہار اخلاص کیساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لئے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔[2]؎

        بخیل شخص در اصل اپنا ہی نقصان کرتا ہے کیونکہ راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کیا ہوا مال بلاشبہ دنیا میں برکت اور آخرت میں اجر و ثواب کی صورت میں نفع بخش ہوتا ہے جبکہ بخیل ان دونوں (برکت وثواب) سے محروم رہتا ہے، چنانچہ  اللہ   تَعَالٰی  متنبّہ فرماتا ہے :

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُۚ-وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُۚ-وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۙ-ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠(۳۸) (محمد : ۴۷؍۳۸)

ترجمہ کنزالایمان :  ہاں ہاں یہ جو تم ہوبلائے جاتے ہو کہ  اللہ  کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے اور  اللہ  بے نیاز ہے اور تم سب محتاج اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ تمہارے سوا اور لوگ بدل لے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

        مال کے حقوق واجبہ ادا کرنے میں بخل کرنے والوں کی بوقت ِموت چیخ وپکار لا حاصل ر ہے گی قرآن پاک پہلے ہی متنبہ کرچکا ہے چنانچہ ارشاد ہوتاہے :   

وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ-فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۰) (المنٰفقون : ۶۳؍۱۰)

ترجمہ کنزالایمان :  اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدّت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔

        قرآن کریم میں مال و اولاد کو فتنہ فرمایا گیا ہے :

اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۵) (التغابن : ۶۴؍۱۵)

ترجمہ کنزالایمان :  تمھارے مال اور تمھارے بچے جانچ ہی ہیں اور  اللہ  کے پاس بڑا ثواب ہے۔

 



2     (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان تفصیل آفات المال وفوائدہ، أما الآفات، ج۳، ص ۳۱۷۔۳۱۸)

1   (خزائن العرفان)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن