دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

حضرت سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں :  میں بارگاہِ نبوی میں بیٹھا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا پھر دوسرا جنازہ لایا گیا تو سرکار والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  کوئی قرض چھوڑا ہے؟ عرض کی :  نہیں ، فرمایا :  تو کیا کوئی اور چیز چھوڑ گیا؟ عرض کی :  جی تین دینار تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  یہ آگ کے تین داغ ہیں ۔

        حضرت یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  دو مصیبتیں ایسی ہیں جن کی مثل پہلے اور پچھلے لوگوں نے نہیں سنا اور وہ بندے کے لئے اس کے مال میں موت کے وقت ہوتی ہیں پوچھا گیا وہ کیا مصیبتیں ہیں ؟ فرمایا :  ایک یہ کہ اس سے تمام مال چھین لیا جاتا ہے اور دوسری یہ کہ تمام مال کا حساب دینا پڑتا ہے۔[1]؎

        راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کئے بغیر (یعنی زکوٰۃ، فطرہ و حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر) جمع کیا گیا مال بروزِ قیامت انگارے ثابت ہوگا جس سے اس شخص کو داغا جائے گا۔ چنانچہ :

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، قَالَ :  سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ’’مَنْ أَوْکٰی عَلٰی ذَھَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ وَلَمْ یُنْفِقْہُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَانَ جَمْراً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُکْوٰی بِہِ‘‘۔[2]؎

حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے آقائے مظلوم، سرور معصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا :  جو سونا یاچاندی راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں خرچ کئے بغیر جمع کرے گا تو وہ بروزِ قِیامت انگارا ہوگا جس سے اُسے داغا جائے گا۔

        حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو خط لکھا کہ اے میرے بھائی! اتنا مال جمع کرنے سے بچنا کہ اس کا شکر ادا نہ کرسکو، میں نے رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سُنا ہے کہ (بروزِ قیامت) ایک دنیادار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں  اللہ   تَعَالٰی  کا حکم مانا ہوگا اور اس کا مال اس کے سامنے ہوگا جب وہ پل صراط پر لڑکھڑانے لگے گا تو اس کا مال کہے گا آگے بڑھو!  تم نے مجھ سےمتعلق  اللہ   تَعَالٰی  کا حق ادا کردیا ہے۔ پھر ایک اور دنیادار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں  اللہ   تَعَالٰی  کی فرمانبرداری نہ کی ہوگی اس کا مال اس کے کاندھوں کے درمیان ہوگا جب وہ پل صراط پر ڈگمگائے گا تو اس کا مال کہے گا تجھے خرابی ہو تو نے مجھ سے متعلق  اللہ   تَعَالٰی  کا حق کیوں ادا نہیں کیا، وہ شخص اسی حالت پر رہے گا حتی کہ وہ اپنی ہلاکت پر چیخ وپکار کرے گا۔[3]؎

        عقلاً ونقلاً مال کا جمع کرنا بے سُود ہے کیونکہ انسان کا اصل مال تو وہی ہے جو اس نے کھا پی لیا یا راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ  میں خرچ کردیا باقی جو چھوڑ گیا وہ تو ورثاء کا ہوگا۔ چنانچہ :

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، قَالَ :  إِذَا مَاتَ الْمَیِّتُ، قَالَتِ الْمَلَائِکَۃُ :  مَا قَدَّمَ، وَقَالَ النَّاسُ :  مَا خَلَّفَ۔[4]؎

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، جب کوئی بندہ مرجاتا ہے تو فِرشتے کہتے ہیں :  اس نے آگے کیا بھیجا ہے جبکہ لوگ کہتے ہیں :   پیچھے کیا چھوڑ گیا۔

        حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی ہتھیلی میں ایک درہم رکھا پھر فرمایا :  جب تک تو مجھ سے جدا نہیں ہوگا مجھے فائدہ نہیں پہنچائے گا۔[5]؎   

مال کی آفات اور فوائد

        امام غزالی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  مال سانپ کی طرح ہے جس میں زہر بھی ہے اور تریاق بھی، اس کے فوائد اس کے تریاق ہیں اور اس کی آفات زہر ہیں تو جو شخص اس کے فوائد اور آفات کی پہچان حاصل کرلے تو اس کے لئے اس کے شر سے بچنا اور اس کی بھلائی حاصل کرنا ممکن ہے۔[6]؎

مال کے فوائد

        امام غزالی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  مال کے فوائد دو طرح ہوتے ہیں (۱)دنیوی فوائد (۲)دینی فوائد، دنیوی فوائد ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی معرفت مشہورہے اور مخلوق کی تمام اقسام میں مشترک ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو وہ اس کی طلب میں ہلاک نہ ہوتے لیکن اس کے دینی فائدے تین قسموں میں منحصر ہیں ۔

پہلی قسم : ’’اپنے آپ پر خرچ کرے‘‘یوں کہ عبادت پر خرچ کرے یاعبادت پر مدد حاصل کرنے کے لئے خرچ کرے، عبادت پر خرچ کرنے کی مثال حج اور جہاد پر مال خرچ کرنا ہے کیونکہ یہ دونوں کام مال کے بغیر نہیں ہوتے اور یہ دونوں کام تمام عبادتوں کی اصل ہیں اور فقیر آدمی ان دونوں کی فضیلت سے محروم ہوتا ہے اور عبادت پر قوت حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنے کی مثال کھانے، لباس، رہائش، نکاح اور دیگر ضروریات زندگی پر مال خرچ کرنا ہے کیونکہ جب تک حاجات حاصل نہ ہوں تو دل ان کی تدبیر میں مصروف ہوتا ہے اور دین کے لئے فارغ نہیں ہوتا اور جس چیز کے بغیر آدمی عبادت تک نہ پہنچ سکے اس کی تکمیل بھی عبادت ہوتی ہے۔

        لہٰذا دین پر مدد حاصل کرنے کے لئے دنیا سے حسبِ ضرورت لینا دینی فوائد میں سے ہے لیکن ضرورت سے زیادہ لینا اور عیاشی اس میں داخل نہیں ہے کیونکہ وہ محض دنیوی حصہ ہے۔

دوسری قسم :  ’’وہ مال جسے لوگوں پر صرف کرے‘‘ اس کی چار قسمیں ہیں (۱) صدقہ کرنا (۲)مروت کے طور پر دینا (۳)عزت کی حفاظت کے لئے دینا اور (۴)خدمت لینے کی اجرت دینا۔ صدقہ



4        (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ، ج۳، ص۳۱۳)

5       (المعجم الأوسط للطبراني، الحدیث : ۵۴۷۰، ج۵، ص۳۳۳)

      (المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث : ۱۶۴۱، ج۲، ص۱۵۳)

6   (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ، ج۳، ص۳۱۲)

1       (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الزھد، کلام أبي ھریرۃ، الحدیث : ۳۴۶۹۵، ج۷، ص۱۴۲)

            (شعب الإیمان، باب في الزھد وقصر الأمل، الحدیث : ۱۰۴۷۵، ج۷، ص۳۲۸)

            (الفردوس بمأثور الخطاب، الحدیث : ۱۱۱۱، ج۱، ص۲۸۳)

2      (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ، ج۳، ص۳۱۲)

3     (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان تفصیل آفات المال وفوائدہ، ج۳، ص۳۱۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن