30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت مسلمہ بن عبد الملک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے مروی ہے کہ وہ حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے وصال کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے اور کہا : اے امیر المومنین! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔ آپ نے اولاد چھوڑی ہے لیکن ان کے لئے درہم اور دینار نہیں چھوڑے۔ حالانکہ آپ کے تیرہ بچے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : مجھے بٹھاؤ چنانچہ انہوں نے آپ کو بٹھایا آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : تمہارا یہ کہنا کہ میں نے ان کے لئے درہم اور دینار نہیں چھوڑے تو میں نے ان کا حق نہیں روکا لیکن دوسروں کا حق ان کو نہیں دیا اور میری اولاد کی دو حالتیں ہیں اگر وہ اللہ تَعَالٰی کی اِطاعت کریں گے تو وہ ان کو کفایت کرے گا کہ اللہ تَعَالٰی نیک لوگوں کو کفایت کرتا ہے اور اگر وہ نافرمان ہوں گے تو مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔[1]؎
ایک روایت میں ہے کہ حضرت کعب قرظی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بہت سا مال ملا تو ان سے کہا گیا : اچھا ہوتا اگر آپ اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے جمع رکھتے۔ انہوں نے فرمایا : نہیں بلکہ میں اسے اپنے لئے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے پاس جمع کروں گا اوراپنی اولاد کے معاملہ میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کروں گا۔[2]؎
طبرانی کی ایک حدیث میں ہے :
عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَاللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ : ’’إِنِّيْ لَأَلِجُ ھٰذِہِ الْغُرْفَۃَ مَا أَلِجُھَا إِلَّا خَشْیَۃَ أَنْ یَّکُوْنَ فِیْھَا مَالٌ فَأُتَوَفَّی، وَلَمْ أُنْفِقْہُ‘‘۔[3]؎
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرمایا کرتے : میں اس کمرے میں خوف کے ساتھ ہی داخل ہوتا ہوں کہ کہیں اس میں مال ہو اور میں اسے خرچ کئے بغیر وصال فرماجاؤں ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ کیا بات ہے کہ آپ تو پانی پر چل سکتے ہیں مگر ہم نہیں ؟ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : تمہارے نزدیک درہم اور دینار کا کیا مرتبہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا : اچھا رتبہ ہے، تو آپعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا : لیکن میرے نزدیک درہم و دینار اور مٹی کے ڈھیلے برابر ہیں ۔[4]؎
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيْ أُحُداً ذَھَباً أَبْقٰی صُبْحَ ثَالِثَۃٍ وَعِنْدِيْ
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُشہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : میں پسند نہیں کرتا کہ اُحُد پہاڑ میرے لئے سونے کا ہو اورمِنْہُ شَيْئٌ إِلَّا شَیْئًا أُعِدُّہُ لِدَیْنٍ‘‘۔ رواہ البزار۔[5]؎
میں تیسری صبح تک اس سے سوائے اپنے قرض کی ادائیگی کے کچھ بچا رکھوں ۔
مروی ہے کہ ایک شخص نے ابو عبدِ رب سے کہا : اے میرے بھائی! ایسا نہ ہو کہ تم دنیا سے برائی کے ساتھ جاؤ اور مال اپنی اولاد کے لئے چھوڑ جاؤ یہ سن کر ابو عبدِ رب نے اپنے مال سے ایک لاکھ درہم خیرات کردئیے۔[6]؎
ایک دوسری حدیث شریف :
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، أَنَّہُ اسْتَأْذَنَ عَلٰی عُثْمَانَ، فَأَذِنَ لَہُ وَبِیَدِہِ عَصَاہُ، فَقَالَ عُثْمَانُ : یَا کَعْبُ! إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ تُوُفِّيَ وَتَرَکَ مَالاً، فَمَا تَرٰی فِیْہِ؟ فَقَالَ : إِنْ کَانَ یَصِلُ فِیْہِ حَقَّ اللّٰہِ، فَلَا بَأْسَ عَلَیْہِ۔ فَرَفَعَ أَبُوْ ذَرٍّ عَصَاہُ فَضَرَبَ کَعْباً وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی
حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، انہوں نے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضری کی اجازت مانگی، آپ نے انہیں اجازت دے دی ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاتھ میں ان کی لاٹھی تھی، حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : اے کعب! عبد الرحمن کی وفات ہوئی اُنہوں نے بہت مال چھوڑا اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ فرمایا کہ اگر اُس میں اللہ کا حق ادا کرتے ہوں تو کوئی حرج نہیں ، تب ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے لاٹھی اُٹھا کرکعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ماری اور فرمایا :
اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ’’مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِيْ ھٰذَا الْجَبَلُ ذَھَباً أُنْفِقُہُ وَیُتَقَبَّلُ مِنِّيْ أَذَرُ خَلْفِيْ مِنْہُ سِتَّ أَوَاقِيَّ‘‘ أَنْشَدُکَ بِاللّٰہِ یَا عُثْمَانُ! أَسَمِعْتَہُ؟! ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ : نَعَمْ۔[7]؎
= (الأحادیث المختارۃ، الحدیث : ۱۶۰۱، ج۴، ص۴۲۴)
(موارد الظمآن، الحدیث : ۲۵۵۰، ص۶۳۳)
(لسان المیزان لابن حجر، الحدیث : ۱۰۱۲، ج۱، ص۳۳۲)
(الجامع الصغیر للسیوطي، الحدیث : ۴۱۴، ص۲۴۳)
3 (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ، ج۳، ص۳۱۳)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع