دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

        ’’مال جمع رکھنا بعد وفات چھوڑ جانا حلال ہے جبکہ اس سے زکوٰۃ، فطرہ، قربانی، حقوق العباد ادا کئے جاتے رہے ہوں ، یہ کنز میں داخل نہیں جس کی قرآن میں برائی آئی ہے‘‘۔[1]؎

        حدیث شریف میں ہے :

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  أُھْدِيَ لَہُ ثَلَاثُ طَوَایِرَ فَأَطْعَمَ خَادِمَہُ طَیْراً، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ أَتَاہُ بِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’أَلَمْ أَنْھَکَ أَنْ تُخْبِیَٔ شَیْئاً لِغَدٍ، إِنَّ اللّٰہَ یَأْتِيْ بِرِزْقِ کُلِّ غَدٍ‘‘۔[2]؎

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں تین پرندے ھدیۃً پیش کئے گئے تو آپ نے ایک پرندہ اپنے غلام کو کھانے کے لئے عطا فرمادیا، دوسرے روز غلام  وہ پرندہ لے آیا تو رسول  اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے فرمایا کہ میں نے تجھے منع نہ کیا تھا کہ کل کے لئے کچھ بچا کر نہ رکھا کر، بے شک  اللہ   تَعَالٰی  ہر دوسرے دن کا رزق عطا فرماتا ہے۔

   حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : خدا کی قسم! جو شخص درہم (مال) کی عزت کرتا ہے  اللہ   تَعَالٰی  اسے ذلت دیتا ہے ۔   

        منقول ہے کہ سب سے پہلے درہم و دینار بنے تو شیطان نے ان کو اٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر ان کو چوما اوربولا :  جس نے ان سے محبت کی وہ میرا غلام ہے۔ (العیاذبا للہ )

          حضرت سمیط بن عجلان رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  درہم و دینار (مال ودولت) منافقوں کی لگامیں ہیں وہ ان کے ذریعہ دوزخ کی طرف کھینچے جائیں گے۔

         حضرت یحییٰ بن معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :  درہم بچھو ہیں اگر تم اس کے زہر کا اتار نہیں  جانتے تو اسے نہ پکڑ وکیوں کہ اگر اس نے ڈس لیا تو اس کا زہر تمہیں ہلاک کردے گا۔ عرض کیاگیا :  اس کا اتار کیا ہے؟ فرمایا :  حلال طریقے سے حاصل کرنا اور اس کے حقوق واجبہ ادا کرنا۔

         حضرت علاء بن زیاد رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  دنیا خوب بناؤ سنگھار کر کے میرے سامنے مثالی صورت میں آئی۔ میں نے کہا :  میں تیرے شر سے  اللہ   تَعَالٰی  کی پناہ چاہتا ہوں ۔ وہ بولی :  اگرآپ مجھ سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو درہم و دینار سے نفرت کیجئے اس لئے کہ درہم و دینار وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ آدمی ہر قسم کی دنیا حاصل کرتاہے لہٰذا جو ان دونوں (یعنی درہم و دینار)سے صبر کرے گا (یعنی دور رہے گا)وہ دنیا سے بھی صبر کرلے گا۔

        مزید امام غزالی علیہ رحمۃ  اللہ  الوالی نے درج ذیل عربی اشعار نقل کئے ہیں :

إِنِّيْ وَجَدْتُّ فَلَا تَظُنُّوْا غَیْرَہٗ             أَنَّ التَّوَرُّعَ عِنْدَ ھٰذَا الدِّرْھَمٖ

فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَیْہِ ثُمَّ تَرَکْتَہٗ                                فَاعْلَمْ أَنَّ تُقَاکَ تَقْوَی الْمُسْلِمٖ

        میں نے تو (یہ راز) پالیاہے پس تم بھی اس کے علاوہ کچھ اور گمان مت کرو اور یہ نہ سمجھو کہ تقویٰ اس درہم کے پاس ہے۔بلکہ جب تم اس پر قادر ہونے کے باوجود اسے ترک کردو تو جان لو کہ تمہارا تقویٰ ایک مسلمان کا تقویٰ ہے۔

        لَا یَـــغُــرَّنَّــکَ مِنَ الْمَرْئِ             قَـــمِـــیْــصٌ رُقْـــعُـــہٗ

        أَوْ إِزَارٌ فَوْقَ عَظْمِ السـَّ                اقِ مِــنْـــہُ رَفْـــــعُــہٗ

        أَوْ جَــبِــیْــنٌ لَاحَ فِیْــہِ               أَثرُ قَـــــدْ خَــــلَــعَـہٗ

        أَرِہُ الـدِّرْھَـمَ تَـعْـرِفُ               حُــبَّـــہٗ أَوْ وَرْعَـــہٗ

        کسی آدمی کی قمیص پر لگے ہوئے پیوند یا پنڈلی سے اوپر کی ہوئی شلوار یا اس کی پیشانی جس میں (سجدے کے) نشانات ہوں ، کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا یہ دیکھو کہ وہ درہم (روپے پیسے) سے محبت کرتا ہے یا اس سے دور رہتا ہے۔[3]؎

        ایک اور حدیث شریف :

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  لَا یَدَّخِرُ شَیْئاً لِغَدٍ۔[4]؎

حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں کہحضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کل کے لئے کچھ ذخیرہ نہ فرماتے۔   

 



3     (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد ۳، ص۸۸)

4      (مسند أبي یعلی، الحدیث : ۴۲۲۳، ج۷، ص۲۲۴)

(شعب الإیمان، باب التوکل والتسلیم، الحدیث : ۱۳۴۸، ج۲، ص۱۱۹)

 

1     (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم المال وکراھۃحبہ، ج۳، ص۳۱۲۔۳۱۳)

2      (سنن الترمذي، کتاب الزہد، باب ما جاء في معیشۃ النبي صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وأہلہ، الحدیث : ۲۳۶۲، ج۳، ص۳۱۲)

(نوادر الأصول في أحادیث الرسول، ج۳، ص۷۶)

(صحیح ابن حبان، ذکر العلۃ التي من أجلہا کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم  الأحوال التي وصفناہا، الحدیث :  ۶۳۵۶، ج۱۴، ص۲۷۰)

(الکامل  في ضعفاء الرجال، ج۲، ص۱۴۹)

(تاریخ بغداد، الحدیث :  ۳۵۳۸، ج۷، ص۹۷)

(میزان الاعتدال في نقد الرجال، ج۲، ص۱۳۹)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن