30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَّصْنَعَ؟ قَالَ : ’’فَلْیُعِنْ مَظْلُوْماً‘‘۔ قُلْتُ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ ضَعِیْفاً لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُّعِیْنَ مَظْلُوْماً؟ قَالَ : ’’مَا تُرِیْدُ أَنْ تَتْرُکَ لِصَاحِبِکَ مِنْ خَیْرٍ، لِیُمْسِکَ أَذَاہُ عَنِ النَّاسِ‘‘۔ قُلْتُ :
سے عرض کی، بندے کو کونسی چیز آگ سے بچاتی ہے؟ فرمایا، اللہ تَعَالٰی پر ایمان، میں نے عرض کی، اے اللہ کے نبی کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ہے؟ فرمایا، جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے تھوڑا بہت صدقہ کرنامیں نے عرض کی یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاگر کوئی فقیر ہو کہ صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پائے تو؟ارشاد فرمایا نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے، میں نے عرض کی، اگر کوئی نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے کی استطاعت بھی نہ پائے تو؟ فرمایا کسی بے ہنر کی مدد کرے، میں نے عرض کی، یارسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر وہ اسے بھی بخوبی نہ کرسکے؟توفرمایا کہ کسی مظلوم کی مدد کرے، میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ کمزور ہو اور مظلوم کی مدد نہ کرسکے تو؟فرمایا کیا تو اپنے ساتھی کے لیے کوئی بھلائی نہیں چھوڑنا چاہتا، اسے چاہیے کہ لوگوں کو اپنی ذات سے تکلیف پہنچنے سے بچائے، میں نے عرض کی،
یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَرَأَیْتَ إِنْ فَعَلَ ھٰذَا یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ : ’’مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ یُّصِیْبُ خَصْلَۃً مِّنْ ھٰذِہِ الْخِصَالِ إِلَّا أَخَذَتْ بِیَدِہِ حَتّٰی تُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ‘‘۔[1]؎
یارسول اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپ کیا فرماتے ہیں کہ اگروہ یہ اعمال کرے تویہ اسے جنت میں داخل کردیں گے؟ فرمایا جو بھی مومن بندہ ان خصائل میں سے کسی خصلت کو اختیار کرلے گا وہ خصلت اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں لے جائے گی۔
اپنے دینی بھائی کو کھلانا، ایک درہم صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اپنے دینی بھائی پرایک درہم صدقہ کرنا، غیر پر سو درہم صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’لَأَنْ أُطْعِمَ أَخاً لِيْ فِي اللّٰہِ لُقْمَۃً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلٰی مِسْکِیْنٍ بِدِرْھَمٍ، وَلَأَنْ أُعْطِيَ أَخاً لِيْ فِي اللّٰہِ دِرْھَماً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلٰی مِسْکِیْنٍ بِمِائَۃِ دِرْھَمٍ‘‘۔[2]؎
حضرت حسن بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے آپ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، ، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، مجھے کسی اجنبی مسکین پر ایک درہم خرچ کرنے سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے دینی بھائی کو ایک لقمہ کھلاؤں اور کسی اجنبی مسکین کو ایک سو درہم صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے کہ اپنے دینی بھائی کو ایک درہم دوں ۔
اسی طرح کا مفہوم ایک اور حدیث میں ہے :
عَنْ عَلِيٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : لَأَنْ أَجْمَعَ نَفَراً مِنْ إِخْوَانِيْ عَلٰی صَاعٍ، أَوْ صَاعَیْنِ مِنْ طَعَامٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ سُوْقَکُمْ فَأَشْتَرِيَ رَقَبَۃً فَأُعْتِقَھَا۔[3]؎
حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، مجھے تمہارے بازار میں آکے غلام خرید کر آزاد کردینے سے زیادہ عزیز ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو ایک یا دو صاع کھانا کھِلادوں ۔
تین قسم کے لوگوں پر اللہ تَعَالٰی کا سایۂ رحمت ہے :
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ نَشَرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ کَنَفَہُ، وَأَدْخَلَہُ جَنَّتَہُ : رِفْقٌ بِالضَّعِیْفِ، وَشَفَقَۃٌ عَلَی الْوَالِدَیْنِ، وَإِحْسَانٌ إِلَی الْمَمْلُوْکِ۔وَثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ
حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں ، خاتم الْمُرْسَلین، رَحْمَۃ للْعالمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، تین صفات ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں گی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر اپنی رحمت کا سایہ کردے گااور اسے اپنی جنت میں داخل فرمائے گا۔(وہ صفات یہ ہیں ) کمزور کے ساتھ نرمی برتنا، والدین پر شفقت کرنا اور غلاموں کے ساتھ احسان کرنا۔اور تین صفات وہ ہیں کہ جس شخص فِیْہِ أَظَلَّہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تَحْتَ عَرْشِہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ : الْوُضُوْ ءُ فِي الْمَکَارِہِ، وَالْمَشْيُ إِلَی الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ، وَإِطْعَامُ الْجَائِعِ‘‘۔[4]؎
میں ہوں گی اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دن اپنے عرش کے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا (وہ صفات یہ ہیں ) سخت مشکل میں وضو کرنا، اندھیرے میں مساجد کو جانا، اور بھوکے کو کھانا کھلانا۔
نیک بندے کی پہچان کیا ہے؟
سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاارشادِ حقیقت بُنیادہے، بے شک لوگوں میں سے وہ لوگ بُرے ہیں جن سے لوگ محض ان کے شر کی وجہ سے بچتے ہوں ۔
(مُوطا امام مالک ، ج۲، ص۴۰۳، حدیث ۱۷۱۹)
مزیدسلطانِ دوجہان ، شَہَنشاہِ کون ومکان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے، اللہ تَعَالٰی کے نیک بندے وہ ہیں جنہیں دیکھیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ یاد آجائے اور اللہ تَعَالٰی کے بُرے بندے وہ ہیں جو چُغل خوری کرتے ، دوستوں میں جدائی ڈالتے اور نیک لوگوں کے عیب تلاش کرتے ہیں ۔ (مسند امام احمد، ج ۶، ص ۲۹۱ ، حدیث ۱۸۰۲۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع