30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موت۔ نویں ، محبت میں زیادتی، کیونکہ جن پر اس نے احسان کئے ہوں گے سب اس کی خوشی و غم میں شریک ہوں گے اور اس پر اس کی مدد بھی کرتے رہیں گے جس کی وجہ سے اس کی محبت لوگوں کے نزدیک اور بڑھے گی اور دسویں اچھی خصلت موت کے بعد زیادتیٔ اجر ہے، کیونکہ لوگ اس کی موت کے بعد اس کے احسانات کو یاد کرکے اس کے لئے ایصالِ ثواب و دُعا کریں گے۔[1]؎
نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صلۂ رحمی کرنے والوں کے لئے عذابِ قیامت سے بچاؤ کا مژدہ عطا فرمایا، چنانچہ :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’وَالَّذِيْ بَعَثَنِيْ بِالْحَقِّ لَا یُعَذِّبُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ رَحِمَ الْیَتِیْمَ، وَلَانَ لَہُ فِي الْکَلَامِ، وَرَحِمَ یُتْمَہُ وَضُعْفَہُ، وَلَمْ یَتَطَاوَلْ عَلٰی جَارِہِ بِفَضْلِ مَا آتَاہُ اللّٰہُ‘‘۔ وَقَالَ : ’’یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ وَالَّذِيْ بَعَثَنِيْ بِالْحَقِّ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَدَقَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِّنْ رَجُلٍ، وَلَہُ قَرَابَۃٌ مُّحْتَاجُوْنَ إِلٰی صِلَتِہِ۔ وَیَصْرِفُھَا إِلٰی غَیْرِھِمْ، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔[2]؎
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، اس ذاتِ پاک کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اللہ تَعَالٰی اس شخص کو بروز قیامت عذاب نہ دیگا جو یتیم پر رحم کھائے اور اس سے نرم گفتگو کرے اور اسکی یتیمی اور کمزوری پر رحم کھائے۔ اور اللہ تَعَالٰی کے عطاکردہ (مال و متاع) کی وجہ سے اپنے ہمسائے پر نہ اِترائے، اور فرمایا اے امتِ محمد!اس ذات مقدس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اللہ تَعَالٰی بروزِ قیامت اس شخص سے صدقہ قبول نہ فرمائے گا جس کے اہلِ قرابت محتاجِ رحم ہوں اور وہ غیروں کو بانٹتا پھِرے۔ اس ذات اقدس کی قسم ایسے شخص پر اللہ تَعَالٰی بروزِ قیامت نظرِ رحمت نہ فرمائے گا۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ : ’’أُمَّکَ، ثُمَّ أُمَّکَ، ثُمَّ أُمَّکَ، ثُمَّ أَبَاکَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ‘‘۔[3]؎
حضرت بہز بن حکیم اپنے والد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور وہ ان کے دادا سے روایت نقل کرتے ہیں فرماتے ہیں ، میں نے عرض کی، یا رسول اللہ کون زیادہ حقدار ہے، فرمایا تیری ماں ، پھر تیری ماں ، پھر تیری ماں پھر تیرا باپ پھر قریب ترین رشتہ دار اور پھر قریب تر۔
پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کی ہمیشگی بندے کی نیکیوں میں اضافے کا سبب ہے، ہمیشہ کم یا زیادہ صدقہ کرتے رہنا، ہمیشہ تھوڑی یا زیادہ صلۂ رحمی کرتے رہنا، ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہنا، پانی کے اسراف کے بغیر ہمیشہ باوضو رہنا، اور ہمیشہ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔[4]؎
یوں ہی اہلِ قرابت رشتہ دار کے ساتھ استطاعت ہوتے ہوئے، بخل کرنے پر وعید ہے، چنانچہ :
عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَا مِنْ ذِيْ رَحِمٍ
حضرت جریر بن عبد اللہ بَجَلِیّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو اپنے اہل قرابت رشتہ دار سے اس کے ضرورت سے زائدیَأْتِيْ ذَا رَحِمِہِ، فَیَسْأَلُہُ فَضْلاً أَعْطَاہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ فَیَبْخَلُ عَلَیْہِ إِلَّا أَخْرَجَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ جَھَنَّمَ حَیَّۃً یُقَالُ لَھَا شُجَاعٌ یَتَلَمَّظُ فَیُطَوَّقُ بِہِ‘‘۔[5]؎
مال میں سے سوال کرے اور وہ بخل کرے (اسے نہ دے) تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے جہنم سے ایک سانپ نکالے گا جسے شُجَاع کہا جاتا ہے وہ زبان باہر نکالتا ہوگا اوراس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔
ایک اور حدیث میں ہے :
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’أَیُّمَا رَجُلٍ أَتَاہُ ابْنُ عَمِّہِ یَسْأَلُہُ مِنْ فَضْلِہِ فَمَنَعَہُ، مَنَعَہُ اللّٰہُ فَضْلَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔[6]؎
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، جس شخص سے اُس کا چچازاد بھائی اس کے فضل (یعنی ضرورت سے زائد مال میں ) سے کچھ طلب کرنے کے لئے آئے اور وہ اسے نہ دے تو بروزِ قیامت اللہ تَعَالٰی اُس شخص سے اپنا فضل روک لے گا۔
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے :
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
مَاذَا یُنْجِي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ : ’’الإِْیْمَانُ بِاللّٰہِ‘‘۔ قُلْتُ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ مَعَ الإِْیْمَانِ عَمَلٌ؟ قَالَ : ’’أَنْ تَرْضَخَ مِمَّا رَزَقَکَ اللّٰہُ‘‘۔ قُلْتُ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ، فَإِنْ کَانَ فَقِیْراً لَا یَجِدُ مَا یَرْضَخُ؟ قَالَ : ’’یَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ‘‘۔ قُلْتُ : إِنْ کَانَ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یَّأْمُرَ بِالْمَعْرُوْفِ، وَلَا یَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ؟ قَالَ : ’’فَلْیُعِنِ الْأَخْرَقَ‘‘۔ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ لَا یُحْسِنُ أَنْ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع