30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲) (محمد : ۲۲)
ترجمہ کنزالایمان : تو کیا تمہارے یہ لچھّن (انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو۔
یوں ہی بے شمار احادیث میں بھی صلۂ رحمی کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے، چنانچہ :
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ’’یَا أَیُّھَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللّٰہِ قَبْلَ أَنْ تَمُوْتُوْا، وَبَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَۃِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوْا، وَصِلُوْا الَّذِيْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ بِکَثْرَۃِ ذِکْرِکُمْ لَہُ، وَکَثْرَۃِ الصَّدَقَۃِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِیَّۃِ تُرْزَقُوْا وتُنْصَرُوْا وَتُجْبَرُوْا‘‘۔[1]؎ الحدیث
حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، فرمایا اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ تَعَالٰی سے توبہ کرو اور فرصت کے لمحات ختم ہونے سے پہلے نیک اعمال بجا لاؤ، اور اپنے رب کا ذکر کرکے، اور پوشیدہ وظاہری طور پر خوب صدقہ کرکے اپنے رب سے تعلق کو ملاؤ۔ (جزاء یہ ہوگی کہ) روزی پاؤگے، مدد الٰہی حاصل ہوجائے گی اور تمہارے احوال اچھے کردئیے جائیں گے۔
ایک اور مقام پر ہے :
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’الصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ، وَعَلٰی ذَوِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ : صَدَقَۃٌ، وَصِلَۃٌ‘‘۔[2]؎
حضرت سلمان بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، عام مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور وہی صدقہ اپنے قرابت دار پر دو صدقے ہیں ایک صدقہ دوسرا صلہ رحمی۔
’’پہلے مسکین سے مراد اجنبی مسکین ہے یعنی اجنبی مسکین کو خیرات دینے میں صرف خیرات کا ثواب ہے اور اپنے عزیز مسکین کو خیرات دینے میں خیرات کا بھی ثواب ہے اور صلہ رحمی کا بھی، صلہ رحمی یعنی اہلِ قرابت کا حق ادا کرنا بھی عبادت ہے، بہترین عبادت، پھر جس قدر رشتہ قوی اُسی قدر اُس کے ساتھ سلوک کرنا زیادہ ثواب ہے، اس لئے رب تَعَالٰی نے اہلِ قرابت کا ذکر پہلے فرمایا کہ ارشاد فرمایا : (وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ)‘‘۔ [3]؎ ( (بني إسرائیل : ۱۷/۲۶) ترجمہ : اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو (کنزالایمان))۔
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ أُمِّ کُلْثُوْمٍ بِنْتِ عُقْبَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’أَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ عَلٰی ذِي الرَّحِمِ الْکَاشِحِ‘‘۔[4]؎
حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ایسے اہلِ قرابت پر صدقہ کرنا افضل ہے جو پوشیدہ دشمنی رکھتا ہو۔
فقیہ ابو اللیث سمرقندی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ، اگر کسی شخص کے رشتہ دار قریب ہوں تو اس پر لازم ہے کہ ان کے ساتھ تحائف و ملاقات کے ذریعہ صلۂ رحمی کرے، اگر مالی طور پر صلۂ رحمی پر قادر نہ ہو تو ان سے ملا کرے اور ضرورتاً ان کے کاموں میں ہاتھ بٹائے اور اگر دور ہوں تو ان سے مراسلہ کرے اور (سفر کرکے) ان کے پاس جانے کی طاقت رکھتا ہوتو (خط لکھنے سے) خود جانا افضل ہے۔[5]؎
اہلِ قرابت پر صدقہ کرنے سے اس کا ثواب دونا ہوجاتا ہے، چنانچہ :
عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو اُمامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’إِنَّ الصَّدَقَۃَ عَلٰی ذِيْ قَرَابَۃٍ یُضَعَّفُ أَجْرُھَا مَرَّتَیْنِ‘‘۔[6]؎نے فرمایا، بے شک اہلِ قرابت پر صدقہ کا ثواب دوگنا بڑھا دیا جاتا ہے۔
فقیہ ابو اللیث سمرقندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، کہ صلۂ رحمی میں دس اچھی خصلتیں ہیں ؛ ایک یہ کہ اس سے اللہ راضی ہوتا ہے کیونکہ صلۂ رحمی خود اسی کا حکم ہے۔ دوسری یہ کہ صلۂ رحمی سے انہیں دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے اور حدیث شریف میں بھی ہے کہ افضل اعمال وہ ہیں جو مومن کو مطمئن کریں ۔ تیسری اچھی خصلت یہ ہے کہ فِرشتے خوش ہوتے ہیں ۔ چوتھی یہ کہ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ۔ پانچویں یہ کہ صلۂ رحمی سے شیطان لعین غمناک ہوتا ہے۔ چھٹی یہ کہ عمر میں برکت ہوتی ہے۔ ساتویں اچھی خصلت رزق میں برکت۔ آٹھویں اچھی خصلت اچھی
5 (سنن الترمذي، کتاب الزکاۃ، باب ما جاء في الصدقۃ علی ذي قرابۃ، الحدیث : ۶۵۸، ج۱، ص۴۷۴)
(سنن ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ، الحدیث : ۱۸۴۴، ج۲، ص۴۱۲۔۴۱۳)
(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ علی الأقارب، الحدیث : ۲۵۸۲، الجزء۵، ج۳، ص۹۷)
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب أفضل الصدقۃ، الفصل الثاني، الحدیث : ۱۹۳۹، ج۱، ص۳۶۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع