30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتاہے لیکن تین عمل منقطع نہیں ہوتے، صدقہ جاریہ، علم نافع اورنیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔[1]؎
ایک اور جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے :
یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-الآیۃ (البقرۃ : ۲؍۲۱۵)
ترجمہ کنزالایمان : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے۔
اور فرمایا :
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۚ-وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ الآیۃ (الأنعام : ۶؍۱۵۱)
ترجمہ کنزالایمان : تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دینگے۔
آیۂ کریمہ میں ارشاد ’’ ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ‘‘ کی تفسیر میں صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’کیونکہ تم پر ان کے بہت حقوق ہیں انہوں نے تمہاری پرورش کی تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی اُن کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور اُنکے ساتھ حسن سلوک کا ترک کرنا حرام ہے‘‘۔
مزید فرماتے ہیں ’’اس میں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حرمت بیان فرمائی گئی جس کا اہل جاہلیت میں دستور تھا کہ وہ اکثر ناداری کے اندیشہ سے اولاد کو ہلاک کرتے تھے انہیں بتایا گیا کہ روزی دینے والا تمہارا ان کا سب کا اللہ ہے پھر تم کیوں قتل جیسے شدید جُرم کا ارتکاب کرتے ہو‘‘۔[2]؎
حضرت با یزید بسطامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ سخت سردی کی ایک رات میں میری والدہ نے مجھ سے پانی مانگا، میں آبخورہ (گلاس) بھر کر لے آیامگر ماں کو نیند آگئی تھی، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا، پانی کا آبخورہ لیے اس انتظار میں ماں کے قریب کھڑا رہا کہ بیدار ہوں تو پانی پیش کروں ۔ کھڑے کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی اور آبخورے سے کچھ پانی بہ کر گر گیا تھااور سخت سردی کی وجہ سے میری انگلی پر برف بن کر جم گیا تھا بہرحال جب والدۂ محترمہ بیدار ہوئیں تو میں نے آبخورہ پیش کیا تو چونکہ انگلی پر برف جم جانے کی وجہ سے وہ چپک گیا تھا لہٰذا انگلی کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا، ماں نے دیکھ کر پوچھا یہ کیا ؟ میں نے سارا حال بیان کیا تو انہوں نے بارگاہ خداوندی میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے اور عرض کیا، اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہنا۔[3]؎
قرآن مجید میں ہے :
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
ترجمہ کنزالایمان : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔
مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرمان، ’’ہوں نہ کہنا‘‘ کے تحت صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ،
’’یعنی ایسا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالنا جس سے یہ سمجھا جائے کہ اُنکی طبیعت پر کچھ گرانی ہے‘‘۔
اور فرمان ’’تعظیم کی بات کہنا‘‘ کے تحت فرمایا، ’’اور حسنِ اَدب کے ساتھ اُن سے خطاب کرنا مسئلہ : ماں باپ کو ان کا نام لے کر نہ پکارے یہ خلاف اَدب ہے اور اس میں انکی دل آزاری ہے لیکن وہ سامنے نہ ہوں تو اُنکا ذکر نام لیکر کرنا جائز ہے مسئلہ : ماں باپ سے اس طرح کلام کرے جیسے غلام و خادم آقا سے کرتا ہے‘‘۔
فرمان ’’عاجزی کا بازو بچھا‘‘ کے تحت صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، ’’یعنی بہ نرمی و تواضع پیش آ اور اُنکے تھکے وقت (یعنی بڑھاپے اور بیماری) میں شفقت و محبت کا برتاؤ کر کہ انہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز انہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کر‘‘۔
صدر الافاضل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں ، ’’مدعا یہ ہے کہ دنیا میں بہتر سلوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادانہیں ہوتا اس لئے بندے کو چاہئے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دُعا کرے اور عرض کرے کہ یارب میری خدمتیں اُن کے احسان کی جزاء نہیں ہوسکتیں تو اُن پر کرم کر کہ اُن کے احسان کا بدلہ ہو مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان کے لئے رحمت و مغفرت کی دعا جائز اور اُسے فائدہ پہنچانے والی ہے مُردوں کو ایصالِ ثواب میں بھی اُن کے لئے دُعائے رحمت ہوتی ہے لہٰذا اسکے لئے یہ آیت اصل ہے مسئلہ : والدین کافر ہوں تو اُن کے لئے ہدایت و ایمان کی دُعا کرے کہ یہی اُن کے حق میں رحمت ہے۔ حدیث شریف میں ہے والدین کی رضا میں اللہ تَعَالٰی کی رضا اور اُن کی ناراضی اللہ تَعَالٰی کی ناراضی ہے دوسری حدیث میں ہے والدین کا فرمانبردار جہنمی نہ ہوگا اور اُن کا نافرمان کچھ بھی عمل کرے گرفتارِ عذاب ہوگا ایک اور حدیث میں ہے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا والدین کی نافرمانی سے بچو اس لئے کہ جنّت کی خوشبو ہزار برس کی راہ تک آتی ہے اور نافرمان وہ خوشبو نہ پائے گا نہ قاطع رحم نہ بوڑھا زناکار نہ تکبّر سے اپنی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع