30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ڈالے وہ بھی ملعون ہے یا نابینا کو راہ سے بہکا دے وہ بھی ملعون ہے، جو اللہ کا نام لئے بغیر جانور ذبح کردے وہ بھی ملعون ہے۔[1]؎
حضرت علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمتقی وپرہیزگار صحابی تھے۔ نماز، روزہ اور صدقہ جیسی عبادات بجا لانے میں حد درجہ کوشاں رہتے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیمار ہوگئے اور مرض طول پکڑ گیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی زوجہ نے سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ عالی میں پیغام بھیجا کہ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میرا شوہر علقمہ حالتِ نزع میں ہے، میں نے چاہا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ان کے حال سے آگاہ کردوں ۔چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت سیدنا عمار، حضرت سیدنا بلال اور حضرت سیدنا صہیب رومی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو بھیجا اور ارشاد فرمایا : ’’ان کے پاس جاؤ اور انہیں کلمۂ شہادت کی تلقین کرو۔‘‘ لہٰذا وہ حضرات سیدنا علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس تشریف لائے اور انہیں حالت نزع میں پا کر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرنے لگے، لیکن وہ کلمہ شہادت ادا نہیں کرپارہے تھے۔ ان حضرات نے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس صورتِ حال کہلا بھیجی، تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دریافت فرمایا : ’’کیا ان کے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟‘‘ عرض کی گئی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!ان کی والدہ زندہ ہیں جوکہ بہت بوڑھی ہیں ۔‘‘ سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ایک قاصد کو یہ پیغام دے کر ان کی والدہ کے پاس بھیجا کہ’’اگر آپ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہونے کی قدرت رکھتی ہیں تو چلیں ورنہ گھر میں ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا انتظار کریں ۔‘‘جب قاصد نے جا کر انہیں یہ بتایا تو وہ کہنے لگیں : ’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر میری جان قربان !میں زیادہ حق دارہوں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضرہوں ۔‘‘ وہ عصا کے سہارے کھڑی ہوئیں اورحسن اخلاق کے پیکر، دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو ئیں اور سلام عرض کیا، سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ، باعث نزول سکینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سلام کا جواب دیا اورارشاد فرمایا : ’’اے امِ علقمہ! تمہارے بیٹے علقمہ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے عرض کی : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! وہ بکثرت نماز پڑھنے والا، روزے رکھنے والا اور صدقہ دینے والا ہے۔‘‘ پھر سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دریافت فرمایا : ’’اور تمہارا اپنا کیا حال ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں اس پر ناراض ہوں ۔‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ’’کس وجہ سے؟‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وآلہ وسلم! وہ اپنی بیوی کو مجھ پر ترجیح دیتا اور میرے معاملے میں کوتاہی کرتا ہے۔‘‘ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’ماں کی ناراضگی نے علقمہ کی زبان کو کلمہ شہادت سے روک دیا ہے۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’اے بلال! جاؤ اور میرے لیے بہت ساری لکڑیاں اکٹھی کرو۔‘‘ علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی والدہ نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ ان لکڑیوں کا کیا کریں گے۔‘‘ ارشاد فرمایا : ’’میں نے ارادہ کیا کہ ان کے ذریعے علقمہ کوآگ میں جلادوں ۔‘‘انہوں نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میرا دل برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیرے بیٹے کو میرے سامنے آگ میں جلائیں ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’اے امِ علقمہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب تو اس سے بھی سخت اورباقی رہنے والا ہے۔ اگر آپ کو یہ پسند ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ علقمہ کی مغفرت فرما دے تو آپ ان سے راضی ہوجائیں ، اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، علقمہ کو اس کی نماز، روزے اور صدقہ نفع نہ دیں گے جب تک آپ اس سے ناراض رہیں گی۔‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے فرشتوں اور یہاں موجود مسلمانوں کو گواہ بناتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے علقمہ سے راضی ہوں ۔‘‘
حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : ’’اے بلال!علقمہ کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا اب وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟‘‘ لہٰذا حضرت سیدنا بلا ل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتشریف لے گئے اور علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو گھر کے اندر سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھتے ہوئے سنا، حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُگھر میں داخل ہوئے اور فرمایا : ’’اے لوگو! بے شک علقمہ کی زبان کو ان کی ماں کی ناراضگی نے کلمہ شہادت پڑھنے سے روک دیا تھا اور اب ماں کی رضا مندی نے ان کی زبان کوکھول دیا ہے۔‘‘ پھر حضرت سیدنا علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاسی دن وصال فرما گئے۔
سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتشریف لائے اور ان کی تجہیزوتکفین کا حکم ارشاد فرمایا۔ پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی اورتدفین میں بھی شرکت فرمائی، پھر ان کی قبر کے کنارے کھڑے ہو ئے اور ارشاد فرمایا : ’’اے گروہ مہاجرین و انصار! جواپنی بیوی کو اپنی ماں پر ترجیح دے اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے نہ نفل قبول فرمائے گا نہ ہی فرض مگر یہ کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور اپنی ماں سے حسن سلوک کرے اور اس کی رضا چاہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ماں کی رضا مندی میں ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی ماں کی ناراضگی میں ہے۔‘‘[2]؎
ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا، والدین کے لئے دعا نہ کرنا اولاد کے گزر بسر کی کج حالی کا سبب بن جاتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا، کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین کی وفات کے بعد بھی اُنہیں راضی کرسکے؟ فرمایا کرسکتا ہے بلکہ تین چیزوں سے، ایک یہ کہ وہ خود نیک و پرہیزگار رہے کیونکہ والدین کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا نیک ہو، دوسری چیز یہ کہ وہ والدین کے عزیز واقارب کے ساتھ صلۂ رحمی کرتا رہے، او رتیسری چیز یہ کہ اُن کے لئے استغفار و دعائیں کرتا رہے اور ان کے لئے صدقہ وغیرہ دیکر ایصالِ ثواب کرتا رہے۔[3]؎
حضرت علاء بن عبد الرحمن اپنے والدسے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، جب آدمی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع