30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
إِذَا نَظَرَ أَحَدُکُمْ إِلٰی مَنْ فَضَّلَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْیَنْظُرْ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَسْفَلَ مِنْہُ مِمَّنْ فُضِّلَ عَلَیْہِ۔(صحیح البخاري، کتاب الرقاق)
جب تم میں سے کوئی شخص اس آدمی کو دیکھے جسے اللہ تَعَالٰی نے مال اور خلقت میں اس پر فضیلت دی ہے تو اسے چاہئے کہ اس کی طرف دیکھے جواس سے کمتر ہے اور اسے اس پر فضیلت دی گئی ہے۔
ان امور کے ساتھ قناعت کی صفت حاصل کرنے پر قادر ہوجائے گا تو اصل بات یہ ہے کہ صبر کرے اور امید کم رکھے اور یہ بات جان لے کہ دنیا میں اس کے صبر کی انتہا چند روزہ ہے لیکن اس کا نفع ایک طویل زمانے تک ہوگا پس وہ اس مریض کی طرح ہے جو دوائی کی کڑواہٹ پر صبر کرتا ہے کیوں کہ اسے شفاء کے انتظار کی شدید لالچ ہوتی ہے۔[1]؎
سوال کرنے کے بارے میں بہت زیادہ ممانعت آئی ہے اور اس سلسلے میں اجازت بھی دی گئی ہے۔ شہنشاہ مدینہ، قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَلَوْ جَائَ عَلٰی فَرَسٍ (سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ)
مانگنے والے کا حق ہے اگرچہ گھوڑے پر آئے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے :
رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحَرَّقٍ
سائل کا سوال پورا کرو اگرچہ جلا ہوا کھُر دے کر۔
اصل کے اعتبار سے سوال حرام ہے اور ضرورت کے تحت یا کسی اہم حاجت کی صورت میں جو ضرورت کے قریب ہو، مانگنا جائز ہے اگر اس سے بچ سکتا ہو تو سوال حرام ہوگا ہم نے یہ کہا کہ اصل میں سوال حرام ہے کیونکہ مانگنے کی صورت میں تین حرام کام کرنا پڑتے ہیں :
پہلا کام : اللہ تَعَالٰی پر شکوہ کا اظہار، کیوں کہ سوال فقر کا اظہار ہے اور اللہ تَعَالٰی کی نعمت کی کمی کا ذکر عین شکوہ ہے اور جس طرح کسی مملوک غلام کا مانگنا اپنے مالک پر طعن و تشنیع ہے اسی طرح بندوں کا سوال کرنا اللہ تَعَالٰی کی ذات پر طعن ہے اور یہ کام حرام ہے اور ضرورت کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں جیسا کہ مردار ضرورت کے وقت ہی حلال ہوتا ہے۔
دوسرا کام : مانگنے میں غیر خدا کے سامنے ذلت اختیار کرنا ہے اور مومن کے لئے جائزنہیں کہ اللہ تَعَالٰی کے سوا کسی کے سامنے ذلیل و رسوا ہوتا پھرے بلکہ اسے چاہئے کہ اپنے آقا کے سامنے ہی عاجزی اختیار کرے کیوں کہ اس میں اس کی عزت ہے باقی تمام لوگ اس کی طرح بندے ہیں لہٰذا ضرورت کے بغیر ان کے سامنے ذلت و رسوائی اختیار نہ کرے۔ اور سوال کرنے میں مسؤل عنہ (جس سے سوال کیا گیا) کے مقابل سائل کی ذلت ہے۔
تیسرا کام : عام طور پر مانگنے والے کو مسؤل عنہ کی طرف سے اذیت پہنچتی ہےکیوں کہ بعض اوقات وہ دل کی خوشی سے خرچ کرنا نہیں چاہتا پس اگر وہ سائل سے حیا کرتے ہوئے یا ریاکاری کے طور پر خرچ کرے تو یہ لینے والے پر حرام ہے اور اگر وہ منع کرے تو بعض اوقات وہ حیا کرتے ہوئے منع کرتے وقت اپنے نفس میں اذیت محسوس کرتا ہے کیوں کہ اپنے آپ کو بخیل کی شکل میں دیکھتا ہے کہ خرچ کرنے میں مال کا نقصان ہے اور منع کرنے میں عزت کا نقصان ہے اور یہ دونوں کام اذیت ناک ہیں اور سائل ہی ایذا کاسبب بنااور ایذا رسانی ضرورت کے بغیر حرام ہے۔
اب جب تم ان تینوں باتوں کو سمجھ گئے تو تمہیں نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ارشاد گرامی کی سمجھ بھی آگئی ہوگی کہ آپ نے فرمایا :
مَسْئَلَۃُ النَّاسِ مِنَ الْفَوَاحِشِ مَا أُحِلَّ مِنَ الْفَوَاحِشِ غَیْرُھَا۔
لوگوں سے مانگنا فاحش کاموں سے ہے اور فواحش میں سے اس کے سوا کچھ مباح نہیں کیا گیا۔
تو دیکھئے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مانگنے کو فاحش (گناہ کبیرہ) قرار دیا ہے اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ فاحش کام ضرورت کے وقت ہی جائز ہوتا ہے جیسے کہ آدمی کا لقمہ پھنس جائے اور اس کے پاس شراب کے سوا کچھ نہ ہو (تو بَدِل نخواستہ) اسے استعمال کرسکتا ہے۔
اور نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
مَنْ سَأَلَ عَنْ غِنًی فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَھَنَّمَ۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ)
جو شخص مالدار ہونے کے باوجود مانگتا ہے وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرتا ہے۔
اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :
مَنْ سَأَلَ وَلَہٗ مَا یُغْنِیْہِ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَوَجْھُہُ عَظْمٌ یَتَقَعْقَعُ وَلَیْسَ عَلَیْہِ لَحْمٌ۔(المستدرک للحاکم، کتاب الزکوٰۃ)
جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا ہے جو اسے بے پرواہ کرے وہ قیامت کے دن یوں آئے گا کہ اس کا چہرہ حرکت کرتی ہوئی ایک ہڈی ہوگی جس پر گوشت نہیں ہوگا۔
دوسری روایت میں اس طرح ہے :
وَکَانَتْ مَسْأَلَتُہُ خُدُوْشاً وَکُدُوْحاً فِيْ وَجْھِہِ۔ (سنن أبي داود، کتاب الزکوٰۃ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع