دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حجۃ الوداع کے موقع پر حاضر ہوئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَصدقہ تقسیم فرمارہے تھے انہوں نے بھی حضور سے صدقہ مانگا تو حضور نے ہم پر نظر اُٹھائی پھر جھکائی أَعْطَیْتُُکُمَا، وَلَا حَظَّ فِیْھَا لِغَنِيٍّ وَّلَا لِقَوِيٍّ مُکْتَسِبٍ‘‘۔[1]؎

ہم کو تندرست و توانا دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں مگر اس میں نہ تو غنی کا حصہ ہے نہ کمائی کے لائق تندرست کا۔

        حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حصۂ حدیث ’’صدقہ تقسیم فرما رہے تھے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں ’’ ظاہر یہ ہے کہ صدقہ فرض یعنی زکوٰۃ ہوگا اور حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حجاج نے اپنی زکوٰۃ تقسیم کے لئے پیش کی ہوگی، جیسا کہ صحابہ کا دستور تھا‘‘۔

        مزید فرماتے ہیں ’’اس میں دونوں (جو سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے صدقہ طلب کرتے تھے، ) کو تقویٰ و طہارت کی تعلیم ہے یعنی چونکہ تم دونوں اگرچہ فقیر ہو مگر تندرست اور کمانے کے لائق ہو اس لئے اس سے لینا تمہارے لائق نہیں ، اگر ان کو یہ صدقہ لینا حرام ہوتا جیسا کہ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں تو حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  یہ نہ فرماتے کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں ، اس اختیار دینے سے معلوم ہورہا ہے کہ دینا جائز تو ہے مگر بہتر نہیں ‘‘۔[2]؎   

صلۂ رحمی

         اللہ   تَعَالٰی  فرماتا ہے :

وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ-وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙﰳ (۳۶) (النساء : ۴؍۳۶)

ترجمہ کنزالایمان :  اور  اللہ  کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے اور کروٹ کے ساتھی اور راہ گیر اور اپنی باندی غلام سے بے شک  اللہ  کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا۔  

        اس آیۂ کریمہ میں فرمان ’’ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو‘‘ کی تفسیر فرماتے ہوئے صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی صاحب متوفی ۱۳۶۷ھ فرماتے ہیں ،

        ’’اَدب و تعظیم کے ساتھ اور ان (یعنی والدین) کی خدمت میں مستعد رہنا اور ان پر خرچ کرنے میں کمی نہ کرو مسلم شریف کی حدیث ہے سیّدِ عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین مرتبہ فرمایا اسکی ناک خاک آلود ہو حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کیا کِس کی یا رسول  اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرمایا : ’’ جس نے بوڑھے ماں باپ پائے یا اُن میں سے کسی ایک کو پایا اور جنّتی نہ ہوگیا‘‘۔

        حدیث شریف میں ہے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک کرنے والوں کی عمر دراز اور رزق وسیع ہوتا ہے (بخاری ومسلم) ۔

        حدیث :  سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا میں اور یتیم کی سرپرستی کرنے والا ایسے قریب ہوں گے جیسے انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی (بخاری شریف) حدیث : سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا بیوہ اور مسکین کی امداد وخبر گیری کرنے والا مجاہد فی سبیل  اللہ  کے مثل ہے۔

        سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جبریل مجھے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید کرتے رہے اس حد تک کہ گمان ہوتا تھا کہ انکو وارث قرار دیں (بخاری ومسلم)۔ [3]؎

        ایک اور مقام پر ارشاد ہے :

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ     (النحل : ۱۶؍۹۰)

ترجمہ کنزالایمان :  بیشک  اللہ  حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے۔

          آیۂ کریمہ میں ’’انصاف         ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ’’حضرت ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ انصاف تو یہ ہے کہ آدمی  لَاإِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دے اور نیکی اَور فرائض کا ادا کرنا اور آپ ہی سے ایک روایت ہے کہ انصاف شرک کا ترک کرنا اور نیکی دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اگر وہ مومن ہو تو اُس کے برکات ایمان کی ترقی تمہیں پسند ہو اور اگر کافر ہو توتمہیں یہ پسند آئے کہ وہ تمہارا اسلامی بھائی ہوجائے انہیں سے ایک اور روایت ہے، اس میں ہے کہ انصاف توحید ہے اور نیکی اخلاص اور ان تمام روایتوں کا طرز بیان اگرچہ جُدا جُدا ہے لیکن مآل و مُدعا ایک ہی ہے‘‘۔[4]؎

        ایک اور مقام پر ارشاد ہے :

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ- وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا الآیۃ (البقرۃ : ۲؍۸۳)

 



3       (سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب من یعطی من الصدقۃ وحدّ الغنی، الحدیث :  ۱۶۳۳، ج۲، ص۱۹۵)

(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب مسألۃ القوي المکتسب، الحدیث :  ۲۵۹۷، الجزئ۵، ج۳، ص۱۰۵)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ الصدقۃ، الفصل الثاني، الحدیث :  ۱۸۳۲، ج۱، ص۳۴۸)

4    (مرآۃ المناجیح، ج۳، ص۵۱)

1       (خزائن العرفان)

2       (خزائن العرفان)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن