دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zakhmi Sanp | زخمی سانپ

Be Pardgi Koi Choti Musibat Nahi

book_icon
زخمی سانپ

بے پردَگی کوئی چھوٹی مصیبت نہیں!

اِس حِکایت سے ہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں کہ جو بے پردَگی کیلئے طرح طرح کے بہانے تَراشتی ہیں۔  کوئی کہتی ہے:  کیا کروں میں تو بیوہ ہوں ، کوئی کہتی ہے:  بچّوں کا پیٹ پالنے کے لئے دفتر میں غیر مردوں کے ساتھ بے پردَگی یا خلوت (یعنی تنہائی)  میں یا اندیشۂ فتنہ ہونے کے باوُجُود نوکری کرنی پڑگئی ہے ، حالانکہ حُصُولِ مَعاش کیلئے کوئی گھریلو کسب بھی ممکن تھا، لیکن ’’مَدَنی سوچ ‘‘ کہاں سے لائیں ! کیا پہلے کی باپردہ خواتین بیوہ نہیں ہوتی تھیں؟  ان پر مصیبتیں نہیں پڑتی تھیں؟ کیا اَسیرانِ کربلا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم پر آفتوں کے پہاڑ نہیں ٹوٹے تھے؟  کیا مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کربلا والی عِفَّت مَآب  بِیبیوں رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے پردہ ترک کیا تھا؟  نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر مہربانی فرما کر اپنی ناتُوانی پر ترس کھائیے اور اپنے کمزور وُجُود کو قَبْروجہنَّم کے عذاب سے بچانے کی خاطِر پردہ اختِیار کیجئے۔   خدا کی قسم !  وہ بے پردَگی چھوٹی مصیبت نہیں ہو سکتی جوکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب میں پھنسا کر رکھ دے۔   وَا لعِیاذُ بِاللّٰہِ تعالٰی۔   

31 مَدَ نی پھولوں کا گلدستہ

{1}ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عورت کا ہاتھ،  ہاتھ میں لئے بِغیرفَقَط زَبان سے بَیْعَت لیتے تھے۔     (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت  ج۳ ص۴۴۶)  
{2}عورت کا اپنے پِیر ومرشِد سے بھی اِسی طرح پردہ ہے جس طرح دیگر نامَحرموں سے ۔   عورت اپنے پِیر کا ہاتھ نہیں چُوم سکتی، اپنے سر پر ہاتھ نہ پِھروائے،پِیر صاحِب کے ہاتھ پاؤں بھی نہ دابے ۔             

مرد و عورت مُصافحَہ نہیں کر سکتے

{3}مردو عورت آپَس میں ہاتھ نہیں ملاسکتے ۔    فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جاتی اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چُھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں ۔   ‘‘        (مُعْجَم کبیرج۲۰ص۲۱۱حدیث۴۸۶) 
{4}عورت اجنبی مَرْد کے جِسْم کے کسی بھی حصّے کو نہ چُھوئے جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی جوان ہو اس کوشَہْوت ہوسکتی ہو۔  اگرچِہ اس بات کا دونوں کو اطمینان ہو کہ شَہوَت پیدا نہیں ہوگی۔     (عالمگیری ج۵ص۳۲۷،بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۳) 

مَرْد سے چُوڑیاں پہننا

{5}نامَحرم کے ہاتھ سے عورت کا چُوڑیاں پہننا گناہ ہے ۔   دونوں گنہگار ہیں۔    

چھوٹے بچّے کا کون سا حصّہ چُھپائے

{6}بَہُت چھوٹے بچّے کے لیے عورت (یعنی چُھپانے کا عُضْو)  نہیں اس کے بدن کے کسی حصّے کو چُھپانا فرض نہیں، پھر جب کچھ بڑا ہوگیا تو اس کے آگے اورپیچھے کا مقام چُھپانا ضَروری ہے ۔   دس برس سے بڑا ہوجائے تو اس کے لیے بالِغ کا ساحکم ہے ۔     ( رَدُّالْمُحتَارج۹ص۶۰۲،،بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۲) 

مَحارِم کے جِسْم کی طرف دیکھنے کے اَحکام

{7}مَرد اپنی مَحارِم  (یعنی وہ خواتین جن سے رِشتے کے لحاظ سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حرام ہو مَثَلاً والِدہ، بہن ، خالہ ، پھوپھی وغیرہ ) کے سر ، چہرہ ، کان، کندھا ، بازو ، کلائی ، پنڈلی اورقدم کی طرف نظر کرسکتاہے جب کہ دونوں میں سے کسی کو شَہوَ ت کا اندیشہ نہ ہو ۔      (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۳ص۴۴۴،۴۴۵) 
{8}مَرْد کے لیے مَحارِم کے پیٹ ، کروٹ ، پیٹھ ، ران اورگُھٹنے کی طرف نظر کرنا جائز نہیں۔    (ایضاًص۴۴۵)   (یہ حکم اس وقت ہے جب جسم کے ان حصوں پر کوئی کپڑا نہ ہو اور اگر یہ تمام اعضا موٹے کپڑے سے چھپے ہوئے ہوں تو وہاں نظر کرنے میں حرج نہیں) 
{9}مَحارِ م کے جن اَعضا کو دیکھنا جائز ہے ان کو چُھونا بھی جائز ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کو شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو۔   (بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۵) 

ماں کے پاؤں دبانا

{10}مرد اپنی ماں کے پاؤں دبا سکتاہے ۔   مگر ران اُس وَقْت دبا سکتاہے جب کہ کپڑے سے  چُھپی ہوئی ہو ۔   ماں کی ران کو بھی بِلا حائل چُھونا جائزنہیں۔    (مُلَخَّص بہارِ شریعت ج۳ص۴۴۵) 
{11}والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتاہے ۔   حدیثِ پاک میں ہے: ’’جس نے اپنی ماں کا پاؤں چُوما تو ایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔    ‘‘ (اَلْمَبْسُوط لِلسَّرَخْسِی ج۵ص۱۵۶) 

اِن رِشتے داروں سے پردہ ہے

{12}تایا زاد، چچا زاد ،  ماموں زاد ،  پھوپھی زاد ،  خالہ زاد ،  سالی اوربہنوئی ،  بھابی اور دیور، جیٹھ ،  چچی،  تائی، مُمانی،  خالو،  پھوپھا ،  لے پالک بچہ جس کو ایّامِ رَضاعت ( ) میں دودھ نہ پلایا ہو اوراب مردوعورت کے معاملا ت سمجھنے لگا ہومنہ بولے بھائی بہن ، منہ بولے ماں بیٹے، منہ بولے باپ بیٹی،  پیر اورمُریدَنی الغرض جن کی آپس میں شادی جائز ہے ان کا آپس میں پردہ ہے ۔    ہاں ایسی بڑھیا جو نہایت ہی بدشکل ہوکہ جس کو دیکھنے سے بِالکل شَہوَت کا شائبہ نہ ہو اس سے مرد کا پردہ نہیں۔   اس کے علاوہ کسی عورت کو دیکھنے سے شَہوَت ہو یا نہ ہو مرد بلا اجازتِ شَرعی نہیں دیکھ سکتا ۔   جن سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حرام ہے ان سے پردہ نہیں۔    ’’بہارِشریعت ‘‘  میں ہے کہ عورت کو شَہْوَت کا شُبہ بھی ہو تو اجنبی مَرد کی طرف ہر گز نظر نہ کرے۔   (بہارِ شریعت ج۳ ص  ۴۴۳)  
{13}حُرمَتِ مُصاہَرت کے سبب مرد کو اپنی ساس سے اور عورت کو اپنے سُسرسے پردے کے مُعامَلے میں رِعایت حاصِل ہوجاتی ہے۔    ہاں دونوں میں سے کوئی ایک اگر جوان ہے تو پردہ کرنا چاہئے یہی مناسب ہے۔    (حُر مَتِ مُصاہَرت کی تفصیلی معلومات کیلئے بہارِشریعت حصّہ 7 سے   ’’محرمات کا بیان ‘‘  مُلاحَظہ فرمالیجئے بلکہ نِکاح ،طلاق ، عدّت ،بچّوں کی پرورش وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے شادی سے قبل ہی اور نہیں پڑھا تو شادی کے بعد ہی سہی بہارِ شریعت حصّہ 7اور8ضَرور ضَرور ضَرور پڑھ لیجئے۔   )  

عورَت کا چہرہ دیکھنا

{14}عورت کا چِہر ہ اگر چِہ عورَت نہیں مگر فتنے کے خوف کے سبب غیرمَحرَم کے سامنے مُنہ کھولنا مَنْع ہے ۔   اسی طرح اس کی طرف نظر کرنا غیرمَحرم کے لیے جائز نہیں اورچھُونا تو اوربھی زِیادہ مَنْع ہے ۔     (دُرِّمُختارج۲ص۹۷،بہارِ شریعت ج۱ص۴۸۴)  

باریک پاجامہ مت پہنئے

{15}بعض لوگ باریک کپڑے کا پاجامہ پہنتے ہیں جس سے ران کی جِلد کا رنگ چمکتا ہے ،اسے پہن کرنَماز نہیں ہوتی ایسا پاجامہ بلا مقصدِ شرعی پہننا حرام ہے۔    

دوسرے کے کُھلے ہوئے گٹھنے دیکھنا گناہ ہے

{16}بعض لوگ دوسروں کے سامنے گھٹنے بلکہ رانیں کھولے رہتے ہیں یہ حرام ہے ۔   (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۱ص۴۸۱)  ان کی کھلی ہوئی ران یا گُھٹنے کی طرف نظر کرنا بھی جائز نہیں ۔   لہٰذا نیکر پہن کر کھیلنے اورورزِش کرنے اورایسوں کو دیکھنے سے بچنا ضَروری ہے ۔    

تنہائی میں بے ضَرورت ستر کھولنا کیسا؟

{17}سَتْرِ عورت ہر حال میں واجِب ہے بِغیر کسی صحیح وجہ کے تنہائی میں کھولنا بھی جائز نہیں لوگوں کے سامنے اورنمَاز میں تو سَتْر بِالاِجْماع فرض ہے ۔  (دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۲ص۹۳ ،بہارِ شریعت ج۱ص۴۷۹ مُلَخَّصاً)  

اِستنجا کے وَقْت سَتْر کب کھولے؟

{18}اِستنجا کرتے وَقْت جب زمین سے قریب ہوجائیں اُس وَقْت سَتْر کھولنا چاہئے اورضَرورت سے زِیادہ حصّہ نہ کھولیں۔   ( ماخوذ ازبہارِ شریعت ج۱ص۴۰۹)  ا گر پاجامے میں زِپ (zip) ڈلوالی جائے تو پیشاب کرنے میں بے حدسَہُولت ہوسکتی ہے کہ اس طرح بہت کم سَتْر کھُولنے کی ضَرورت پڑے گی۔   مگر پانی سے اِستنجا کرنے میں سخت اِحتِیاط کرنی ہوگی ۔  زِپ باریک والی سب سے زِیادہ کامیاب ہے ۔   

ناف سے لے کرگھٹنے تک کا حصّہ

{19}مرددوسرے مرد کے ناف سے لے کر گھٹنے تک کا کوئی حصہ نہیں دیکھ سکتا اورعورَت بھی دوسری عورت کے ناف سے گھٹنے تک کا کوئی حصّہ نہیں دیکھ سکتی۔   عورت عورت کے باقی اَعضاء پر نظر کرسکتی ہے جب کہ شَہوَت کا اندیشہ نہ ہو ۔   (ایضاًج۳ص۴۴۲،۴۴۳) 
{20}موئے زیر ناف مونڈ کر ایسی جگہ پھینکنا دُرُست نہیں جہاں دوسرے کی نظر پڑے۔       (بہارِ شریعت ج۳  ص۴۴۹)              

عورَت کی کنگھی کے بال

{21}عورَتوں کے لیے لازِم ہے کہ کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال نکلیں انہیں کہیں چھپادیں کہ غیر مَرد کی ان پر نظر نہ پڑے۔     (ایضاًص۴۴۹)  
{22}حیض کا  لتّا ایسی جگہ ہر گز نہ پھینکیں جہاں دوسروں کی نظر پڑے۔   

عورت کے پاؤں کی جھانجھن کی آواز

{23}حدیث شریف میں ہے :’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اُس قوم کی دُعا نہیں قَبول فرماتا جن کی عورَتیں جھانجھن پہنتی ہوں ۔   ‘‘   (التفسیرات الاحمدیہ، ص۵۶۵)   حدیثِ پاک میں جس باجے دار جھانجھن پہننے کی ممانعت کی گئی اس سے مراد گھنگرو والا زیور ہے۔   
اس سے سمجھناچاہئے کہ جب زیور کی آوازعَدَم قَبولِ دُعا  (یعنی دعاقَبول نہ ہونے )  کا سبب ہے تو خاص عورَت کی (اپنی)  آواز (کا بِلااجازتِ شَرعی غیر مردوں تک پہنچنا)  اور اسکی بے پردگی کیسی مُوجِبِ غَضَبِ الٰہی ہوگی،پردے کی طرف سے بے پروائی تباہی کا سبب ہے۔   اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بجنے والے زیور کے استِعمال کےمُتَعَلِّق فرماتے ہیں :  بجنے والا زیور عورت کے لئے اس حالت میں جائز ہے کہ نامحرموں مَثَلاً خالہ ماموں چچا پھوپھی کے بیٹوں ،جیٹھ ،  دَیور ،بہنوئی کے سامنے نہ آتی ہو نہ اس کے زیور کی جھنکار  (یعنی بجنے کی آواز)   نا محرم تک پہنچے۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:  وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ  (تَرجَمۂ کنزالایمان:اور اپنا سنگارظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر۔  ۔  ۔  اِلخ)   (پ ۱۸ ، النور :  ۳۱ )  اور فرماتا ہے   :   وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-  (تَرجَمۂ کنزالایمان:زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار )   (پ۱۸، النور :۳۱ ) فائدہ: یہ آیتِ کریمہ جس طرح نامَحرم کو گہنے  (یعنی زیور) کی آواز پہنچنا مَنْع فرماتی ہے یونہی جب آواز نہ پہنچے  (تو)  اس کا پہننا عورَتوں کے لئے جائز بتاتی ہے کہ دھمک کر پاؤں رکھنے کو منع فرمایا نہ کہ پہننے کو۔       (فتاوٰی رضویہ  ج ۲۲ ص۱۲۸ مُلَخَّصاً ) 
اس سے وہ اسلامی بہنیں در سِ عبرت حاصل کریں جو خریداری ،محلّہ داری وغیرہ میں غیر مردوں سے بے تکلُّفی کے ساتھ گُفْتْگُو  (گُفْت ۔   گُو) کرتی ہیں۔   انہیں تو گھر کی چار دیواری میں بھی آہستہ آواز نکالنی چاہیے تاکہ دروازے کے باہَر والے لوگ یا پڑوسی و غیرہ آواز نہ سننے پائیں ۔   بچّوں پر بھی گرجتے برستے وقت یہی احتیاط رکھیں ۔    

عورت پوری آستین کا کُرتا پہنے

{24}عورت پردے سے ہاتھ بڑھا کر غیر مرد کو اس طرح کوئی چیز نہ دے کہ اس کی کلائی   (ہتھیلی اورکہنی کے درمیان کا حصہ کلائی کہلاتا ہے )  ننگی ہو۔ (آج کل عموماً ایسا ہی ہوتاہے ۔    اگر مرد نے قصداً کلائی کی طرف نظر کی تو وہ بھی گنہگار ہے ۔   لہٰذا ایسے موقع پر کلائی کسی موٹے کپڑے سے چھپاناضروری ہے) اسلامی بہنیں پوری آستین کا کرتا پہنیں نیزدستانے اورجرابیں بھی استعمال فرمائیں ۔   

شَرعی پردہ والی کو دیکھنا کیسا؟

{25}بیان کردہ شَرعی پردے میں ملبوس خاتون کو اگر مردبِلا شَہوَت دیکھے تو مُضایَقہ نہیں کہ یہاں عورت کو دیکھنا نہیں ہو ابلکہ یہ ان کپڑوں کو دیکھنا ہوا۔   ہاں اگر چُست کپڑے پہنے ہوں کہ بدن کا نقشہ کھنچ جاتاہو مَثَلاً چُست پاجامے میں پِنڈلی اورران وغیرہ کی ہَیئت نظر آتی ہو تو اس صور ت میں نظر کرنا جائز نہیں ۔    (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۳ص۴۴۸) 

عورت کے بالوں کو دیکھنا حرام ہے

{26}اگر عورت نے کسی باریک کپڑے کا دوپٹّا پہنا ہے جس سے بال یا بالوں کی سیاہی کان یا گردن نظر آتی ہو تو اس کی طرف نظر کرنا حرام ہے ۔ (ایضاً)  اس طرح کے باریک دوپٹّے میں عورت کی نَماز بھی نہیں ہوتی۔     
{27}آج کل مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ عورَتیں کھلے بالوں کے ساتھ باہَر نکلتیں کلائیاں اوربال کھولے گاڑیاں چلاتیں اوراسکوٹر کے پیچھے اپنی چُٹیا لہراتی ہوئی بیٹھتی ہیں ۔   ان کے بالوں یا کلائیوں پراچانک پہلی نظر مُعاف ہے ۔   جب کہ فوراًپھیرلی اورقَصْداً اس طرف دیکھنا یا نظر نہ ہٹانا حرام ہے۔    

حکایت

مفتی دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مفتی محمد فاروق عطّاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی نے اِس خوف سے اپنی اسکوٹر بیچ ڈالی کہ راستے میں بے پردہ عورَتیں بکثرت ہوتی ہیں ،ڈرائیونگ میں نگاہوں کی حِفاظت ممکن نہیں کیوں کہ نہ دیکھے تو حادِثے کا خطرہ اور دیکھنا تو گوارا نہیں ۔           
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حِساب مغفِرت ہو۔   
{28}مرد اَجنَبِیَّہ عورت کے کسی بھی حصّے کو بِلا اجازتِ شَرعی نہ دیکھے ۔    

مرد سے عورت کب عِلاج کرواسکتی ہے؟  

{29}اگر کوئی طبِیبہ نہ ملے توبامْرِ مجبوری عورت طبیب کو حسبِ ضَرورت اپنے جسم کا بیماری و الا حصّہ دکھا سکتی ہے اوراب طبیب ضَرورتاًچھُو بھی سکتاہے ۔   ضَرورت سے زِیادہ جسم ہر گز نہ کھولے۔    

غیر عورت کے ساتھ تنہائی

{30}غیر مرد اورغَیر عورت کا ایک مکان میں تنہا ہونا حرام ہے ۔   ہاں ایسی بدصورت بڑھیا کہ جو شَہْوَت کے قابل نہ ہو اس کو دیکھنا اور اس کے ساتھ تنہائی جائز ہے ۔    

اَمْرد کے ساتھ تنہائی

{31}مرد کا   ’’اَمْرَد‘‘  کو شَہْوَت کی نظر سے دیکھنا حرام ہے ۔ شَہْوَت آتی ہو تو اس کے ساتھ ایک مکان میں تنہائی ناجائز ہے ۔   بوسہ لینے یا چپٹا لینے کی خواہش پیدا ہونا شَہْوَت کی علامات میں سے ہے۔     ( ) 
تنبیہ :  مالی،مزدور،  چوکیدار، ڈرائیور اورگھر کے ملازم سے بھی بے پردَگی حرام ہے ۔    (پردے کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب  ’’پردے کے بارے میں سوال جواب ‘‘ پڑھ لیجئے۔  )  

مآخذ و مراجع

کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
قراٰنِ مجید مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی الزواجر عن اقتراف الکبائر دار المعرفہ بیروت
تفسیراتِ احمدیہ پشاور المبسوط دار الکتب العلمیہ بیروت
مسلم دار ابن حزم بیروت ردالمحتار دار المعرفۃ بیروت
ابوداوٗد دار احیاء التراث العربی بیروت عالمگیری دار الفکر بیروت
ترمذی دار الفکر بیروت فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور
معجم کبیر دار احیاء التراث العربی بیروت بہارِ شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
الفردوس بمأثور الخطاب دار الکتب العلمیہ بیروت مراٰۃ المناجیح ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور
تاریخ بغداد دار الکتب العلمیہ بیروت ٭٭٭ ٭٭٭

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن