30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : جی ہاں۔ جس پانى مىں مکھى ىا مچھر مَرا ہوا ہو تو اس پانى سے وُضو ىا غسل کر سکتے ہىں۔ ([1])
مُراد پوری ہونے پر سِکوں کو پانی میں ڈالنا کیسا؟
سُوال : بعض لوگ نہر یا دَریا میں سکے ڈالتے ہوئے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارى مُراد پورى ہوئى ہے اِس لیے ہم سکے ڈال رہے ہیں توان کا ایسا کرنا کیسا ہے ؟
جواب : اگر واقعی وہ اِس طرح پانی میں سکے ڈال کر انہیں ضائع کر رہے ہوتے ہىں تو یہ مال کا ضائع کرنا ہے جو کہ حرا م اور گناہ ہے۔ بعض اوقات بچے پانی میں تىر رہے ہوتے ہىں اور لوگ اُن پر سکے پھىنکتے ہىں تو بچے پانی میں اُن سِکوں کو پکڑ لىتے ہىں ىہ ایک الگ صورت ہےکیونکہ اِس صورت میں اگرچہ سکے پھینکنے والوں نے سِکوں کو ضائع کرنے کے لىے خطرے مىں ڈالا مگر ان کی سکے ضائع کرنے کی نیت نہیں ہوتی بلکہ وہ سکے بچوں کو دے رہے ہوتے ہیں اِس لیے یہاں ضائع کرنا نہ پایا گیا۔
قرآنِ پاک کی تفسیر کو بے وُضو چُھونے کا شرعی حکم
سُوال : کىا قرآنِ پاک کی تفسیر کو بے وُضو چُھو سکتے ہىں؟
جواب : جی ہاں!قرآنِ پاک کی تفسىر کو بے وُضو چُھو سکتے ہىں البتہ جہاں جہاں آىت یا اس کا تَرجمہ لکھا ہو بعینہ اس جگہ اور اس کے پیچھے کاغذ کا جو حِصَّہ ہو اُسے نہىں چُھو سکتے۔ ([2])(اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا : )تَفاسیر دو طرح کى ہوتى ہىں : اىک تو وہ جو جُدا گانہ ہوتی ہیں اور تفسىر ہی کہلاتى ہیں جىسا کہ تفسىر جَلالَىن کہ یہ ہمارے یہاں الگ سے ملتی ہے تو اسے بے وُضو چُھو سکتے ہیں اور دوسری وہ تَفاسیر جو بالکل قرآنِ پاک کی طرح ہوتی ہیں اور قرآنِ پاک ہی کہلاتی ہیں جیسا کہ بیروت سے چھپنے والی تفسیرِ جَلالَین ، تفسیر خزائنُ العرفان اور تفسیر نورُ العرفان وغیرہ کہ یہ دیکھنےمیں قرآنِ پاک ہی معلوم ہوتی ہیں لہٰذاایسی تَفاسیر کو بے وُضو ہاتھ نہیں لگا سکتے ۔ ([3])
سُوال : کىا جانِ عالَم نام رکھ سکتے ہىں ؟
جواب : اللہ پاک کے سِوا جو کچھ بھی ہے اسے عالَم کہتے ہىں اور ان سب کی جان یعنی پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جانِ عالَم کہا جاتا ہے۔ (اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا : )عام طور پر جانِ عالَم ، نبیٔ کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لىے بولا جاتا ہے اور جانِ عالَم نام رکھنا غالباً مسلمانوں مىں رائج بھى نہىں ہے ، نیز اِس نام میں تزکیہ ىعنى اپنے نفس کى بڑائى بىان کرنا بھی پایا جا رہا ہے لہٰذا ایسا نام نہیں رکھنا چاہیے ۔ ([4])
مَیِّت کو اِیصالِ ثواب کرنے والے کا پتا چل جاتا ہے
سُوال : ہم جسے اِیصالِ ثواب کریں تو کیااُسے ىہ پتا چل جاتا ہے کہ فُلاں نے مجھے اِىصالِ ثواب کىا ہے؟
جواب : جى ہاں!جب ہم کسی کو اِیصالِ ثواب کرتے ہیں تو اُسے پتا چل جاتا ہے کہ فُلاں نے مجھے اِیصالِ ثواب کیا ہے ۔ نیز جس کا نام لے کر اِیصالِ ثواب کیا جاتا ہے اُسے خوشى بھى حاصِل ہوتى ہے۔ اگر ہم اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں کہ ہمارے کیے ہوئے ذِکر و اَذکار کا ثواب سب مسلمانوں کو پہنچا تو وہ سب کو پہنچ جائے گا لىکن اگر ہم کسی کا نام لىں گے مثلاً ہماری والدہ صاحبہ یا والد صاحب کو پہنچا تو ان کو خوشى زىادہ ہو گى کہ مىرے بىٹے نے مجھے اِىصالِ ثواب کىا ہے۔ جس طرح جب مہمان آتے ہیں تو کھانا سب مہمانوں کے لىے چُنا جاتا ہے اور سب ہی کھا رہے ہوتے ہىں لیکن اگر آپ نے کسی کا نام لے کر اُسے کہا کہ بھائی پىٹ بھر کر کھانا اور ذَرا بھی نہیں شرمانا تو جس جس کا آپ نام لىں گے اُسے خوشى زىادہ ہو گى تو اسی طرح اِىصالِ ثواب کا بھی مُعاملہ ہے کہ اگر ہم ساری اُمَّت کے لیے اِیصال ِ ثواب کریں گے تو جو جو ایمان پر دُنیا سے رُخصت ہوئے ان سب کو ثواب پہنچے گا مگر جس کا نام لیں گے اُسے زیادہ خوشی ہو گی ۔
دعوتِ اسلامی میں ”صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیْب“کس طرح رائج ہوا؟
سُوال : آپ جو دُرُود شریف پڑھنے کے لیے “ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب “ کہتے ہیں یہ کس حدیث میں ہے اور کس کا طریقہ یا كس كی سُنَّت ہے؟
جواب : قرآنِ کریم میں واضح حکم موجود ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)) (پ۲۲ ، الاحزاب : ۵۶) ترجمۂ کنز الایمان : “ اے اِیمان والو! ان پر دُرُود اور خوب سلام بھیجو ۔ “ اب اگر کوئی اُُردو یا اپنی مادری زبان میں کہے کہ دُرُود شریف پڑھیے جیسے عموماً مُقَرِّرِین عوام سے کہتے ہیں : “ محبت کے ساتھ جُھوم جُھوم کر دُرُود شریف پڑھیے “ اس کو منع کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ میں نے مدینے شریف میں دیکھا ہے کہ جگہ جگہ بورڈ لگے ہوتے ہیں جس پر “ صَلِّ عَلَی النَّبِی “ (یعنی نبی پر دُرُود پڑھو)لکھا ہوتا ہے۔ نیز جب وہاں کسی کا جھگڑا ہوجاتا تو لوگ بعض اوقات “ صَلِّ عَلَی النَّبِی “ کہتے تھے اِس سے اُن کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لڑائی لڑائی مُعاف کرو ، اپنا دِل صاف کرو اور دُرُودِ پاک پڑھو۔ مجھےیہ اَنداز پسند آیا مگر میں یہ بھول گیا کہ وہ لوگصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبکہتے ہیں یاصَلِّ عَلَی النَّبِی۔ پھر میں نے ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجتماع میںصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب کہنے کی یُوں ترغیب دِلائی کہ “ میرا جی چاہتا ہے کہ میں صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب کہوں تو لوگ یہ سُن کر صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّدکہیں۔ “ چونکہ سُنّیوں کو دُرُود شریف پڑھنے میں ویسے ہی مَزہ آتا ہے کہ دُرُود شریف تو شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے ، لہٰذا اسی وقت سے یہ رائج ہوگیا۔ البتہ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب کا جواب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّدمیں نے عربوں سے نہیں سنا تھا ، مگر اللہ پاک کی رَحمت سے یہ بھی عام ہوگیا جوکہ بِدْعَتِ حَسَنَہ یعنی اچھا کام ہے جس کا ثواب یہ کام جاری کرنے والے کو ملے گا اور جب
[1] فتاویٰ ھندية ، کتاب الطهارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، الفصل الثانی فی ما لا یجوز به الوضوء ، ۱ / ۲۴ ماخوذاً
[2] فتاویٰ رضویہ ، ۱ / ۱۰۷۵
[3] (بے وُضو ، جنب اور حَیض و نِفاس والی )ان سب کو فقہ و تفسیر و حدیث کی کتابوں کا چُھونا مکروہ ہے اور اگر ان کو کسی کپڑے سے چُھوا اگرچہ اس کو پہنے یا اوڑھے ہوئے ہو تو حَرَج نہیں مگر مَوضَعِ آیت پر ان کتابوں میں بھی ہاتھ رکھنا حرام ہے۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۳۲۷ ، حصہ : ۲)
[4] بہارِ شریعت ، ۳ / ۶۰۴ ، حصہ : ۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع