30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکھىں، اگر میں ایسا نہ کرتا تو امکان تھا کہ لوگ الماریاں قرآنِ پاک سے بھر دىتے ۔ بہت سے لوگ طرح طرح کی فرىمىں اُٹھا لاتے اور کہتے کہ ہم نے انہیں مدنى مرکز مىں لگانا ہے تو پھر انہیں سمجھایا جاتا کہ یہ فریمیں اپنے گھر پر لگاؤ مدنى مرکز اس لىے نہیں کہ اپنی مرضی کا فریم لا کر لگا دو ۔ فریمیں لگانے سے ماربل بھی خراب ہوتا ہے اور پھر ان میں کبوتر بیٹھتے ہوں گے اور کوے گھس جاتے ہوں گے کیونکہ بڑی فریم کے درمیان جگہ ہوتی ہے ۔ چونکہ مدنی مرکز میں بہت سے اسلامی بھائی تشریف لاتے تھے اس لیے میں نے فریم کی جگہ بکس بنوائے تھے اور ان پر نیکی کی دعوت پر مشتمل مدنی پھول لکھوائے تھے تاکہ اسلامی بھائی انہیں پڑھیں اور کچھ نہ کچھ سیکھیں ۔ یاد رہے ! بکس بنوانے کے لیے میں نے مدنی مرکز سے ایک پیسا بھی نہیں لیا تھا بلکہ ان کے لیے الگ سے چندہ کیا تھا ۔
سمتِ قبلہ کے خلاف رُخ کرکے نماز پڑھی تو کیا حکم ہے ؟
سُوال : اگرنماز پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ سمت قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھی تو اب کیا حکم ہے ؟
جواب : کسی ایسے مقام پر نماز پڑھی جہاں کوئی بتانے والا نہیں تھا مثلاً جنگل یا بیابان میں اور نماز پڑھنے سے پہلے تحری یعنی سوچ بچار کرلیا تھا کہ قبلہ کس جانب ہوگا بعد میں معلوم ہوا کہ جس طرف رُخ کرکے نماز پڑھی ہے وہ سمت قبلہ نہیں تھی تو یہ نماز ہوگئی ۔ ([1]) اور اگر سوچ بچار نہیں کیا یا کوئی بتانے والا تھا مگر اس سے معلوم نہیں کیا اور غلط سمت میں نماز پڑھی تو نماز نہ ہوئی لہٰذا دوبارہ پڑھنا پڑے گی ۔ ([2])
دورانِ خطبہ کوئی کام کرنا کیسا؟
سُوال : جُمُعۃُ الْمُبارَک کے خطبے کے وقت خطیب صاحب کے لیے کوئی شخص مائیک درست کر رہا ہوتا ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس دوران خطبہ شروع ہوجاتا ہے اس بارے میں کچھ ارشاد فرمادیجیے ۔
جواب : خطبے کے وقت لوگ بہت کچھ کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ یہ انتہائی غلط طریقہ ہے ۔ خطیب کے منبر پر آنے کے بعد خطبہ سننے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرنا چاہیے ۔ ([3]) مائیک درست کرنے کا کام اذانِ خطبہ شروع ہونے سے پہلے ہی کرلینا چاہیے ، یہ اندازہ پہلے ہی کرلیا جائے کہ خطیب صاحب کو کتنا اونچا مائیک چاہیے اسی کے مطابق اس کی ترکیب بنالی جائے ۔ نیز مائیک جب درست کرنے لگیں تو اس کو بند کردیں، کھلا رکھ کر درست کرنے سے اتنا شور ہوتا ہے کہ اگر کوئی سنتیں پڑھ رہا ہو تو مائیک کے شور کی وجہ سے رکعتیں ہی بھول جائے ۔ اگر ذہن بنا ہوگا تو یہ ساری احتیاطیں بآسانی ہوجائیں گی ۔
کیا بغیر ارادے کے نیت کے الفاظ دہرانا کافی ہے ؟
سُوال : مسجد میں اعتکاف کی نیت لکھی ہوتی ہے اگر کوئی اس کو صرف زبان سے پڑھ لے اور دل میں نیت کا ارادہ نہ ہو تو کیا صرف پڑھنے سے نیت ہوجائے گی؟
جواب : دل میں ارادہ نہ ہوتو فقط زبان سے دہرانے سے نیت نہیں ہوگی کیونکہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے زبان سے نہ بھی کہا اور دل میں ارادہ کرلیا تو نیت ہوجائے گی، دل میں ارادہ نہیں کیا اور صرف زبان سے الفاظ دہرا دئیے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ یہ صرف اعتکاف کی نیت کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ نماز وغیرہ کے لیے بھی دل میں نیت ہونا شرط ہے ۔
سُوال : ذکرِ خدا و ذکرِ مصطفے ٰ کرنے کا دل نہیں کرتا کوشش بہت کرتا ہوں مگر ناکام ہوجاتا ہوں ، برائے کرم !اس کا کوئی حل ارشاد فرمادیجیے ۔
جواب : بندہ بیمار ہوجائے تو دوا پینے کا دل نہیں کرتا مگر زبردستی پیتا ہے اسی طرح روح بھی بیمار ہوگئی ہے اور ذکرِ خدا و ذکرِ مصطفے ٰ کرنے سے کترا رہی ہے لہٰذا اس کو زبردستی دوا پلاناپڑے گی، جب زبردستی ذکر کرتے رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ روح تندرست ہوجائے گی پھر ذکر میں دل بھی لگنے لگے گا ۔
تیرا ذکر لب پر خدا دل کے اندر
یونہی زندگانی گزارا کروں میں(سامانِ بخشش)
شعر کے پہلے مصرع میں ہے : ”خدا دل کے اندر“ اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا دل میں رہتا ہے اس طرح کے الفاظ بعض لوگ محاورے کے طور پر بھی بولتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ مَعَاذَ اللّٰہ دل خدا کا گھر ہے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ خدا کی یاد دل میں ہے ۔ یاد رکھیے ! اللہ پاک مکان سے پاک ہے کیونکہ مکان میں رہے گا تو پھر اس کی حد بھی ہوگی جسم بھی ہوگا، جہت وغیرہ بھی ہوگی حالانکہ اللہ پاک ان تمام چیزوں سے پاک ہے نہ اس کا جسم ہے نہ مکان نہ اس کے لیے کوئی جہت کی تعیین جیسے دائیں بائیں یا اوپر نیچے ہونا ۔ یوں ہی کعبہ کو بیتُ اللہ یعنی اللہ کا گھر اسی طرح مسجد کو بھی اللہ پاک کا گھر کہا جاتا ہے تو اس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ یہاں اللہ پاک کی عبادت ہوتی ہے ۔
سُوال : اس شعر کا کیا مطلب ہے :
خدا ایک پر ہو تو اِک پر محمد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع