30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خانۂ کعبہ، سبز گنبد اور نعلِ پاک کے نقش والی ٹوپی پہن کر بیت الخلا جانا کیسا؟
سوال : آج کل ایسی ٹوپىاں بھی آرہى ہىں جن پر خانۂ کعبہ ، سبز گنبد اور نعل ِپاک کى تصوىرىں بنی ہوتی ہىں تو انہیں پہن کر بیت الخلا جانا کیسا؟
جواب : جن ٹوپیوں پر خانۂ کعبہ ، سبز گنبد اور نعل ِپاک کى تصوىرىں بنی ہوں تو انہیں پہن کر بیت الخلا جانا بڑی بے ادبی ہے ۔ مجھے بھی یہ تشویش تھی کہ لوگ عقىدت مىں ایسی ٹوپی پہن تو لیتے ہیں مگر بیت الخلا میں جاتے وقت پتا نہیں کیا کرتے ہوں گے ؟بہتر یہی ہے کہ اس طرح کی ٹوپیاں نہ پہنی جائیں ۔ بیچنے والوں کو تو پیسا چاہیے اس لیے وہ تو بیچیں گے اور ہم انہیں زورزبردستی کر کے منع بھی نہیں کر سکتے البتہ ہم خریدنا بند کرسکتے ہیں ۔ ان ٹوپیوں میں بے ادبى کا ىہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ کبھى یہ ٹوپیاں سر سے زمىن پر تشرىف لے آتى ہوں گی یا پھر بچہ نیچے پھىنک دىتا ہو گا تو اس طرح کی بے ادبىوں کا امکان رہتا ہے ۔ مىں عقیدت میں اپنے عمامے پر نعل ِپاک کا بیج لگاتا ہوں تو اس کے زمىن پر تشرىف لانے کا امکان کسى حد تک کم ہے اس لیے کہ ىہ تھوڑى دىر کے لىے لگایا جاتا ہے اور پھر اس کو نکال کر اپنى جگہ رکھ دىا جاتا ہے ، یوں بچہ اس کو کھینچ کر پھینک نہیں سکتا جبکہ ٹوپی پر کڑھائی کر کے جو نعل ِ پاک وغیرہ بنایا جاتا ہے اس کو بندہ جدا کر کے کہیں رکھ نہیں سکتا لہٰذا اس کی بے ادبی کا اندیشہ رہتا ہے ۔ آج کل لوگ عموماً ٹوپى استعمال نہیں کرتے البتہ اگر کسی مذہبی بندے سے ملنا ہو یا کسی مذہبی اجتماع میں آنا ہو تو طرح طرح کے ڈیزائن والی اُونچی نیچی ٹوپیاں پہن لیتے ہیں اور پھر واپسی پر پُڑیا بنا کر جیب میں ٹھونس لیتے ہوں گے ۔ ایسے لوگ نمازیں بھی ننگے سر پڑھتے ہىں بہرحال اونچى نىچی ٹوپىاں پہننا تو چل جائے گا لىکن نعلِ پاک ، سبز گنبد والی ٹوپى مىں بے ادبی کا اندیشہ ہے لہٰذا اسے نہ پہنا جائے ۔ البتہ جو ادب کر سکے وہ بھلے پہن لے لىکن اس کا ادب کرنا بڑا مشکل ہے کیونکہ جب بیت الخلا مىں جائىں گے تو اسے کہاں رکھ کر جائىں گے ؟ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کی دُکانوں میں بھی یہ ٹوپیاں بکتی ہیں ہو سکتا ہے کوئی بے چارہ جوش مىں آ کر نعلِ پاک والی ٹوپی لے لے کہ فىضانِ مدىنہ کے باہر بک رہی ہے تو یاد رہے کہ ىہاں بکنے والى ہر چىز ہمارى منظوری سے نہیں بکتی مثلاًمىں کباب سموسے کى مخالفت کرتا رہتا ہوں مگر ہمارے ىہاں دُکانوں پر کباب سموسے بک رہے ہوتے ہىں ۔
خانۂ کعبہ پر پہلى نظر پڑے تو کونسا عمل کیا جائے ؟
سُوال : جب ہم مکہ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً جائیں اور ہماری پہلی نظر خانۂ کعبہ پر پڑے تو ہم نوافل ادا کرىں ىا نظر جھکا کر کھڑے رہىں؟
جواب : جوں ہى کَعْبَۂ مُعَظَّمَہ پر پہلى نظر پڑے تو تىن بار لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اللہُ اَکْبَرُ کہىں اور دُرود شرىف پڑھ کر دُعا مانگىں کہ رَفِیْقُ الْحَرَمَیْن میں ہے : جب کعبہ شرىف پر پہلی نظر پڑتى ہے تو وہ قبولىت ِدُعا کا وقت ہے ۔ ([1]) لہٰذا اس وقت جو دعا مانگى جائے ضرور قبول ہوتى ہے ۔ آپ چاہىں تو ىہ دُعا مانگ لىں کہ یا اللہ ! مىں جب بھى کوئى جائز دُعا مانگا کروں وہ قبول ہوا کرے ۔
سُوال : کىا برف سے تىمم ہو سکتا ہے ؟
جواب : جى نہىں !تىمم زمین ىا زمین کى جنس ىعنى جو چیز بھى زمین کى قسم سے ہو اس سے تىمم ہو سکتا ہے ۔ ([2]) مٹى کے برتن سے بھی تیمم ہوسکتا ہے لیکن اگر مٹى کے برتن پر پگھلے ہوئے کانچ کى ىا کسی اور چیز کی چکنى تہ چڑھی ہوئى ہو تو اس سے تىمم نہىں ہو سکتا ۔ مٹی کے برتن کا باہر والا وہ حصہ جو رکھتے وقت زمین سے ملا ہوتا ہے اس پر تہ نہىں چڑھى ہوتى تو اس حصے پر ہاتھ پھیر کر تىمم کىا جا سکتا ہے ۔
سُوال : کیا قرآنِ کرىم مىں وضو کے بارے مىں حکم آىا ہے ؟
جواب : وضو کے بارے مىں قرآنِ کرىم مىں حکم موجود ہے چنانچہ پارہ 6 سُورةُ الْمَائِدَۃ کی آیت نمبر 6 میں ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِؕ-) (پ۶، المائدة : ۶) ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو !جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منھ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ ۔
بچی کا نام اُمُّ الْقُریٰ رکھنا کیسا؟
سُوال : میں نے بىٹى کا نام اُم ُّالْقُریٰ رکھا ہے تو کیا یہ نام رکھنا صحىح ہے ؟
جواب : بچى کا نام ”اُم ُّالْقُریٰ “رکھنے مىں کوئى حرج نہىں ہے ۔ مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا اىک نام” اُم ُّالْقُریٰ“ بھی ہے ۔ ([3])
شوہر کى اجازت کے بغیر گھر چھوڑ کر جانے والی عورت کا حکم
سُوال : جو عورت شوہر کى اجازت کے بغىر گھر چھوڑ کر چلی جائے اس کے بارے مىں کىا حکم ہے ؟
جواب : جوعورتیں بات بات پر گھر چھوڑ کر چلى جاتى ہىں ان کے لىے مکتبۃ المدینہ کے ایک بہت پیارے مدنی رسالے ”احترامِ مسلم“جسے دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر بھی پڑھا جا سکتا ہے اس کے صفحہ نمبر 16 پر ہے : با ت بات پر روٹھ کر مىکے چلى جانے والى عورت اس حدىثِ پاک کو بار بار اپنے کانوں پر دہرائے اور دل کى گہرائىوں میں اُتارے ، سرکارِ مدىنہ صَلَّی اللّٰہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع