دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Yeh Masla To Hum Nay Pehli Baar Suna Hai | یہ مَسٔلہ تو ہم نے پہلی بار سنا ہے

book_icon
یہ مَسٔلہ تو ہم نے پہلی بار سنا ہے

سوال : بعض جگہ یہ رسم ہے کہ اگر کوئی جوان  مرد یا عورت شادى سے پہلے فوت ہوجائے تو میت کے ہاتھوں کو مہندی سے رنگا جاتا ہے اور انگوٹھىاں اور ہار پہنائے جاتے ہیں، ایسا کرنا کیسا ہے ؟

جواب : مىت کو زىنت کرنا منع ہے ۔ لہٰذا  میت کو انگوٹھىاں پہنانا، مہندى سے رنگنا یا  زىنت کے لىے پھول ڈالنا  درست نہىں ۔ ہمارے یہاں مىت کو کفن پہنانے کے بعد اس کے اِردگِرد جو پھول چنے جاتے ہىں اگر ىہ زىنت کے لىے ہوں  اور بظاہر زینت کے لىے ہی معلوم ہوتے ہىں تو  زىنت کے لىے ایسا کرنا مکروہ ہے البتہ مىت پر اس نىت سے پھول ڈال سکتے ہىں کہ ىہ تسبىح کرىں گے اور اس کى وجہ سے مىت کا دل بہلے گا ۔ ([1])

کیا شادی میں شیروانی پہننا سنت ہے ؟

سوال : کىا شادى مىں شىروانى پہننا سنت ہے نیز کیا دولہے کو شیروانی پہنانا اسراف میں  آئے گا؟(SMSکے ذریعے سُوال)

جواب : شادى مىں شىروانى پہننے کا سنت ہونا معلوم نہىں ہے ۔ پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم زىادہ تر دو چادروں مىں ملبوس رہا کرتے یعنی  چادر کى تہبند باندھتے تھے ، ([2])  کُرتا پہننا بھى ثابت ہے ([3])البتہ پاجامہ یا  شلوار وغىرہ پہننا ثابت نہىں ۔ ([4])

          دولہے کو شىروانى پہنانا جائز ہے اس کو اسراف نہىں کہہ سکتے ، شىروانى پاکستان کا قومى لباس بھی ہے ۔ اتفاق سے مىں نے  بھی اپنے نکاح مىں شىروانى پہنى تھى ۔ اس وقت شادیوں میں ىہ پہنى جاتى تھى پھر اس کا رواج تقرىباً ختم ہوگىا تھا لیکن پتا چلا ہے کہ اب پھر دولہے شىروانىاں پہننے لگے ہىں اور یوں خرچہ کچھ بڑھ گىا ہے ۔

کیا فون پر عیادت یا تعزیت کرنا کافی ہے ؟

سُوال : کیا  فون پر عىادت یا تعزیت کرنا پاس جاکر  عیادت یا تعزیت کرنے کی طرح ہی ہے ، نیز کیا فون پر عیادت و تعزیت کرنے سے اتنا ہى ثواب ملتا ہے ؟

جواب : عىادت اور تعزىت مىں فرق ہے ۔ مرىض کى عىادت کرنے سے مراد اس کو تسلى دىنا یا دعا دىنا ہے اور کسی کے انتقال پر اس کے رشتہ داروں سے غم خوارى کرنا تعزىت کہلاتا ہے ۔ فون پر ىہ دونوں کام ہوسکتے ہىں لىکن خود جاکر عیادت یا تعزیت کرنے سے سامنے والے کو زىادہ خوشى ہوتی ہے اور یوں سمجھ یہی آتا ہے کہ اس میں ثواب بھی زیادہ ملے گا ۔ مرىض کے پاس جانا بسااوقات اسے  تکلىف میں بھی ڈال سکتا ہے لیکن اکثر اوقات اسے خوشى ہی ہوتى ہے ۔ جتنا زیادہ سفر کرکے جائیں گے اتنی زیادہ خوشی ہوگی ۔ اگر کوئی مریض کی عیادت کے لیے دوسرے ملک سے سفر کرکے آئے تو خوشی کے مارے مرىض آدھا تندرست ہوجائے گا کہ اس نے میری خاطر  اتنا سفر کىا ہے ۔ اسى طرح سوگواروں  کے ىہاں بھى جاکر تعزیت کرنا ان کی زىادہ خوشى کا باعث ہوگا ۔ فون پر ہی تعزیت کرلینے سے بعض اوقات  شکوہ بھی آجاتا ہے کہ ہم تو اس کے ىہاں خود گئے تھے لیکن اس نے فون پر ہی نمٹا دیا ۔

حضرتِ جبریل امین  عَلَیْہِ السَّلام  کے پَروں کی تعداد

سوال : حضرتِ سَیِّدُنا جبرىل امین عَلَیْہِ السَّلام کے مبارک پَروں کی تعداد کتنی تھی؟

جواب : فتاوىٰ رضوىہ شرىف کی جلد 23 مىں ہے : حضرتِ سَیِّدُنا جبرىل عَلَیْہِ السَّلام کے 600 پَر ہىں ۔ ([5])

کیا عالمی مدنی مرکز مسجدِ کبیر میں شامل ہوگا؟

سوال : کىا عالمى مدنى مرکز فىضانِ مدىنہ مسجدِ کبىر مىں آئے گا؟

جواب : عالمى مدنى مرکز فىضانِ مدىنہ مسجدِ کبىر مىں نہىں آئے گا البتہ مسجدِ نبوى شرىف اور مسجد الحرام شرىف مسجدِ کبىر مىں شامل ہىں کہ ان کى کافى توسىع ہوچکى ہے ۔

مسجدِ کبیر کسے کہتے  ہے ؟

سوال : مسجدِ کبىر کسے کہتے  ہے ؟

جواب : وہ بڑى مسجد جو مىدان کے حکم مىں ہو مسجدِ کبیر کہلاتی ہے ۔ ([6])عالمی مدنی مرکز فىضانِ مدىنہ بلکہ دُنىا کے کسی بھی فىضانِ مدىنہ کی مسجد  مىرى معلومات کے مطابق مسجد ِ کبیر نہیں ہے اور  سب چھوٹى مساجد ہى ہىں ۔

 



[1]    اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ  سے میت کی ڈولی پر قیمتی چادر ڈالنے کے متعلق سوال ہوا تو ارشاد فرمایا : دو شالہ وغیرہ بیش بہا کپڑے ڈالنے سے اگر ریاء وتفاخر ہو تو وہ حرام ہے نہ کہ خاص معاملہ میت واولین منازل آخرت میں(کہ میت کے معاملے میں تفاخر  اور سخت حرام ہے ۔ )، اور اگر (چادر ڈالنے سے ) زینت مراد ہو تو وہ بھی مکروہ ۔ شامی میں طحطاوی کے حوالے سے ہے : اس میں وُہ سب مکروہ ہے جو زینت کے لئے ہو ۔ ( رد المحتار، کتاب الصلاة، مطلب فی الکفن، ۳ / ۱۱۲ دار المعرفة بیروت)ہاں !تصدق منظور ہو تو بے شک محمود ۔ مگر تصدق کچھ اس طرح اس پر موقوف نہیں کہ جنازہ پر ڈال ہی کر دیں ۔ یونہی پھولوں کی چادر بہ نیتِ زینت مکروہ، اور اگر اس قصد سے ہو کہ وہ بحکمِ احادیث خفیف الحل وطیبُ الرائحہ (اچھی خوشبو والے )ومُسَبِّحِ خدا (خدا کی تسبیح کرنے والے )ومونسِ میّت ہے تو حرج نہیں ۔

 (فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۱۳۷ رضا فاؤنڈیشن مرکزالاولیا لاہور)

[2]   ابو داود، کتاب اللباس، باب فی لبس الحبرة، ۴ / ۷۱ ، حدیث : ۴۰۶۰، باب فی الخضرة ، ۴ / ۷۳، حدیث : ۴۰۶۵  دار احياء التراث العربی بيروت

[3]   ابن ماجه، کتاب اللباس، باب کم القمیص کم یکون؟، ۴ / ۱۵۰، حدیث : ۳۵۷۷، دار المعرفة بيروت

[4]   مواھب اللدنیة ، المقصد الثالث، الفصل الثالث، النوع الثانی فی لباسه صلی الله علیه وسلم وفراشه، ۲ / ۱۷۲، دار الکتب العلمیة بيروت

[5]    مسلم، کتاب الایمان، باب فی ذکر سدرة المنتھی، ص۹۳، حدیث : ۴۳۲ دار الکتاب العربی بیروت-فتاویٰ رضویہ، ۲۳ / ۴۴۱

[6]     ردالمحتار، کتاب الصلاة، باب الاستخلاف، ۲ / ۴۲۶ اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : مسجدِ کبیر سے ایک ہی مراد ہے یعنی نہایت درجہ عظیم ووسیع مسجد جیسی جامع خوارزم کہ سولہ ہزار ستون پر تھی یا جامع قدس شریف کہ تین مسجدوں کا مجموعہ ہے ، باقی عام مساجد جس طرح عامہ بلاد میں ہوتی ہیں سب ان دونوں حکموں میں متحد ہیں اگر چہ طول وعرض میں سو سو گز ہوں ۔ (فتاویٰ رضویہ، ۸ / ۸۰)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن